Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ و جدل کیا ہے ملک میں فتنہ فساد برپا کیا خونریزی کو حلال جاننا اس طرح آپ سے قتال کرنے والوں نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال دیا۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

شیعہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ و جدل کیا ہے ملک میں فتنہ فساد برپا کیا خونریزی کو حلال جاننا اس طرح آپ سے قتال کرنے والوں نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال دیا۔ 

الجواب اہلسنّت 

اس سے پہلے کہ ہم اعتراض کے جواب میں کچھ عرض کریں کچھ ضروری اور اصولی باتیں پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں 

اہل سنت کا عقیدہ ہے، والصحابہ کلھم عدول 

" تمام صحابہ صفت عدل سے متصف تھے"

کسی کی طرف بدگمانی اور بد نیتی کی نسبت نہیں کر سکتے۔ مشورہ اور رائے میں اختلاف کر سکتے ہیں۔ ان کے کسی فیصلے کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صحیح نہیں تھا۔ اس سے ایمان و عقیدے میں کچھ فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر کوئی شخص بدنیتی کو کسی اور صحابی رسولﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ اہلسنّت سے خارج ہو جاتا ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر صحابی کی نیک نیتی ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جو بھی فیصلے کیے ہیں اخلاص نیت کے ساتھ امت اور دین اسلام کی بھلائی کے لیے کیے ہیں۔

  دوسری بات آپ یہ سمجھیں عِصمت خاصہ نبوت ہے نبوت ختم ہوئی تو معصومیت بھی ختم ہو گئی۔ اب اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اجتہاد میں مجتہد اپنی امکانی حد تک کوشش کرتا ہے کہ اس کی رائے خود قرآن و سنت سے ماخوذ اور مطابقت رکھتی ہو۔ وحی کا دروازہ بند ہے اس لئے مجتہد معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ اس کے اجتہاد میں خطاء بھی ہو سکتی ہے  لیکن اگر نیک نیتی کے ساتھ کی خطاء ہے تو اہلسنّت کا عقیدہ یہ ہے کہ مجتہد خاطی کو ایک درجہ کا ثواب ملے گا۔ انبیاء کے علاوہ کوئی بھی معصوم عن الخطا نہیں ہے اس لیے باقی سب کے فیصلے میں خطاء کا امکان موجود ہوتا ہے اس لیے اگر کوئی مجتہد کے فیصلے میں یہ کہتا ہے کہ ان سے یہ خطا ہوئی یہ نہ کرتے یا یہ کرتے تو بہتر تھا تو ہم اس کی زبان نہیں پکڑ سکتے۔ اس کی مثالیں قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام میں بے شمار ہیں۔ اس لیے جن احکامات میں وحی کی روشنی نہیں ہے ان درپیش مسائل میں دو آراء کا ہونا ایک فطری بات ہے۔ آدم و حوا علیہ الصلوٰۃ السلام میں رائے کا اختلاف ہے جس کی وجہ سے انہیں جنت سے زمین پر آنا پڑا۔ حضرت موسی اور حضرت خضر میں اختلاف ہوا۔ موسی وھارون علیہ السلام میں اختلاف ہوا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام میں کھیتی اور بچے کے مسئلے پر اختلاف رائے ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قیدیوں کے بارے میں اختلاف ہوا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد میں اختلاف ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب بدر کے وظائف کم زیادہ مقرر کروائے لیکن بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے کئی فیصلے تبدیل کیے۔ اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں قصاصِ عثمان پر اختلاف ہوا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ  کے قصاص کو سب چیزوں پر مقدم سمجھتے تھے۔ وہ خلافت کے دعویدار نہ تھے اور نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے منکر تھے ان کے سامنے اصحابِ رضوان کا واقعہ دلیل تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو قصاص عثمان کو سب چیزوں پر مقدم رکھا۔ سب صحابہ سے خون عثمان کی بیعت لی اپنی ساری پونجی خون عثمان کے قصاص میں قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے بیعت کرنے والے تمام صحابہ کرام کو اپنی رضا کی سند عطا فرمائی لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو سب چیزوں پر مقدم سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے خلافت ابوبکر دلیل اور حجت تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کفن ودفن سے بھی مقدم خلافت کو سمجھا گیا تھا تاکہ امت میں کسی طرح کا اختلاف پیدا نہ ہو اور تمام کام منظم طریقے کے مطابق ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ گورنروں کی معزولی اور قاتلین عثمان سے بیعت خلافت اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کے مسئلہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور حضرت حسنین رضی اللہ عنہ  کا اختلاف ہوا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہونے کے مسئلے پر حسنینؓ کا اختلاف ہوا۔ جبکہ شیعہ کے نزدیک تینوں امام معصوم ہیں۔ مرکز اسلام کو مدینہ سے کوفہ منتقل کرنے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور صحابہ کرام میں اختلاف ہوا۔ اس طرح جنگ صفین اور خلافت یزید پر اختلاف ہوا  ہے۔

 یہ مثالیں ہم نے اس لیے دی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اجتہادی مسائل میں دو رائے کا ہونا اور ایک  رائے میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے اسے ہم اجتہادی خطا قرار دیں گے اسے نیک نیتی پر مبنی کریں گے یہی بات  صحابہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ صحابہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حسن حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام میں مسابقت کی خدمات اور بے شمار محاسن و فضائل کا حامل ہونا مسلم ہے ان کے فضائل و کمالات اور اعلیٰ مرتبہ و مقام ہونے کا کوئی مسلمان منکر نہیں ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ جمل اور جنگ صفین اسلام و کفر کی جنگ نہیں تھی ان کے اسباب و علل دوسرے تھے اس سارے فتنے کی آگ بھڑکانے والے عبداللہ بن سبا اور اس کے حواری تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش ہنگامہ آرائی اور  شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا الم ناک واقعہ پیش آیا۔ ان تمام واقعات میں حضرت عبداللہ ابن زبیر کی شہادت حضرت عمار اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ جنگ جمل اور جنگ صفین اور جنگ نہروان میں خفیہ ہاتھ یہودی سبائیوں کا تھا جو مدینہ اور خیبر کے یہودیوں کا مسلمانوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ جنگ جمل اور صفین میں بارہا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے صلح کی کوشش کی لیکن ہر بار یہودی ٹولہ جو ان کی صفوں میں گُھسا ہوا تھا ان کی مساعی جمیلہ کو تار تار کر دیتا تھا۔ آخرکار صحابہ کے کوشش ناکام ہوئی اور جنگ ہوگئی پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں صلح ہوئی،  تین صوبے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور تین صوبے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئے۔ اس صلح کے جواب میں انہیں سبائیوں نے تحکیم کا بہانہ بنا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد کوفیوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

 حضرت علی کے عہد خلافت میں مدینہ منورہ کی مرکزیت مہاجرین و انصار کی شورائیت اور عالم اسلام کی وحدت ختم ہو گئی تھی۔ حضرت امیر معاویہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت سے شام کے گورنر چلے آرہے تھے ان کی رعایا ان کی رعایا پروری کی وجہ سے نہایت خوش اور فوج انتہائی وفادار تھی وہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ لے کر کھڑے ہوگئے۔ وہ مدعی خلافت تھے نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے منکر تھے۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ قاتلین عثمان کو جو حضرت علی رضی اللہ علیہ وسلم کی شوریٰ اور فوج میں شامل اور پیش پیش ہیں اور سیاست وقت پر چھائے ہوئے ہیں انہیں سزا دی جائے۔ ان کے بعد وہ بیعت کرلیں گے۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اس وقت ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہے اس کا جواب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ اگر آپ کے لئے ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہے تو انہیں اپنی شوریٰ اور فوج سے نکال دیں اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کریں لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ اس پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ان دونوں حضرات کے درمیان خلافت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا اختلاف صرف قاتلین عثمان سے قصاص لینے کے بارے میں تھا اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم رہے اور نوبت جنگ تک آ پہنچی۔ اس میں کس کا موقف صحیح تھا اور کس کا غلط اس میں دو رائے ہو سکتے ہیں ہم کسی پر قدغن نہیں لگا سکتے لیکن یہ اہلسنت کا موقف یہ ہے دونوں کے دونوں فریق مجتہد  تھے اور رضا الٰہی اور حق کی طلب میں آئے تھے اس میں حضرت علی اقرب الی الحق تھے اور حضرت امیر معاویہ مجتہد تھے ان سے اجتہادی خطا ہوئی جو شرعاً معذور ماجور ہیں اہلسنّت کا یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقام ارفع اور ان کی دینی خدمات اور اسلامی اصول و ضوابط کی بنیاد پر ہے ورنہ اگر صرف تاریخی واقعات سامنے رکھ کر شیعہ کی طرح بے لاگ تبصرہ کیا جائے تو خون عثمان کا سارا الزام حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لگ جاتا ہے خلافت کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔