شیعہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی رضی…

شیعہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ و جدل کیا ہے ملک میں فتنہ فساد برپا کیا خونریزی کو حلال جاننا اس طرح آپ سے قتال کرنے والوں نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال دیا۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 2

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ جمل اور جنگ صفین اسلام و کفر کی جنگ نہیں تھی ان کے اسباب و علل دوسرے تھے اس سارے فتنے کی آگ بھڑکانے والے عبداللہ بن سبا اور اس کے حواری تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش ہنگامہ آرائی اور  شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا الم ناک واقعہ پیش آیا۔ ان تمام واقعات میں حضرت عبداللہ ابن زبیر کی شہادت حضرت عمار اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ جنگ جمل اور جنگ صفین اور جنگ نہروان میں خفیہ ہاتھ یہودی سبائیوں کا تھا جو مدینہ اور خیبر کے یہودیوں کا مسلمانوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ جنگ جمل اور صفین میں بارہا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے صلح کی کوشش کی لیکن ہر بار یہودی ٹولہ جو ان کی صفوں میں گُھسا ہوا تھا ان کی مساعی جمیلہ کو تار تار کر دیتا تھا۔ آخرکار صحابہ کے کوشش ناکام ہوئی اور جنگ ہوگئی پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں صلح ہوئی،  تین صوبے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور تین صوبے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئے۔ اس صلح کے جواب میں انہیں سبائیوں نے تحکیم کا بہانہ بنا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد کوفیوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔

 حضرت علی کے عہد خلافت میں مدینہ منورہ کی مرکزیت مہاجرین و انصار کی شورائیت اور عالم اسلام کی وحدت ختم ہو گئی تھی۔ حضرت امیر معاویہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت سے شام کے گورنر چلے آرہے تھے ان کی رعایا ان کی رعایا پروری کی وجہ سے نہایت خوش اور فوج انتہائی وفادار تھی وہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ لے کر کھڑے ہوگئے۔ وہ مدعی خلافت تھے نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے منکر تھے۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ قاتلین عثمان کو جو حضرت علی رضی اللہ علیہ وسلم کی شوریٰ اور فوج میں شامل اور پیش پیش ہیں اور سیاست وقت پر چھائے ہوئے ہیں انہیں سزا دی جائے۔ ان کے بعد وہ بیعت کرلیں گے۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اس وقت ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہے اس کا جواب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ اگر آپ کے لئے ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہے تو انہیں اپنی شوریٰ اور فوج سے نکال دیں اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کریں لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ اس پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ان دونوں حضرات کے درمیان خلافت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا اختلاف صرف قاتلین عثمان سے قصاص لینے کے بارے میں تھا اور دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم رہے اور نوبت جنگ تک آ پہنچی۔ اس میں کس کا موقف صحیح تھا اور کس کا غلط اس میں دو رائے ہو سکتے ہیں ہم کسی پر قدغن نہیں لگا سکتے لیکن یہ اہلسنت کا موقف یہ ہے دونوں کے دونوں فریق مجتہد  تھے اور رضا الٰہی اور حق کی طلب میں آئے تھے اس میں حضرت علی اقرب الی الحق تھے اور حضرت امیر معاویہ مجتہد تھے ان سے اجتہادی خطا ہوئی جو شرعاً معذور ماجور ہیں اہلسنّت کا یہ فیصلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقام ارفع اور ان کی دینی خدمات اور اسلامی اصول و ضوابط کی بنیاد پر ہے ورنہ اگر صرف تاریخی واقعات سامنے رکھ کر شیعہ کی طرح بے لاگ تبصرہ کیا جائے تو خون عثمان کا سارا الزام حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لگ جاتا ہے خلافت کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔


صفحہ 2 از 2