سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فوج کو شام بھیجنے کا عزم کر لیا، لوگوں کو جہاد کی دعوت دی اور شام کو فتح کرنے کے لیے چار افواج تیار کیں۔
لشکر یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما: یہ پہلا لشکر تھا جو شام کی طرف آگے بڑھا، اس کے ذمہ دمشق پہنچ کر اس کو فتح کرنا اور دیگر تین لشکروں کی بوقت ضرورت مدد کرنا تھا۔ لشکر یزید کی تعداد ابتدا میں تین ہزار تھی۔ پھر خلیفہ نے مزید امداد بھیجی، جس سے اس کی تعداد تقریباً سات ہزار ہو گئی۔ لشکر یزید کے روانہ ہونے سے قبل خلیفہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلیٰ درجہ کی اثر انداز وصیت کی جو جنگ و صلح کے میدان میں واضح حکمت پر مشتمل تھی۔ پیدل چل کر ان کو الوداع کہا اور انہیں مندرجہ ذیل وصیت کی:
’’میں نے تمہیں والی مقرر کیا تاکہ تمہیں آزماؤں، تمہارا تجربہ کروں اور تمہیں تجربہ کار بناؤں اگر تم نے اپنے فرائض بحسن و خوبی ادا کیے تو تمہیں دوبارہ تمہارے کام پر مقرر کروں گا اور اس میں مزید اضافہ کروں گا اور اگر تم نے کوتاہی کی تو تمہیں معزول کر دوں گا۔ اللہ کے تقویٰ کو تم لازم پکڑو، وہ تمہارے باطن کو اسی طرح دیکھتا ہے جس طرح ظاہر کو دیکھتا ہے۔ اللہ کے زیادہ حقدار وہ ہیں جو زیادہ اللہ سے دوستی کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ سے سب سے زیادہ قریب وہ ہیں جو اپنے اعمال سے اس کا زیادہ تقرب چاہنے والے ہیں۔ میں نے خالد (خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے استعفاء داخل کر دیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا استعفاء قبول بھی کر لیا تھا۔)کی جگہ تم کو مقرر کیا ہے۔ خبردار! جاہلی تعصب سے بچنا۔ اللہ کو یہ اور ایسا کرنے والا انتہائی ناپسند ہے۔ اپنے لشکر کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، ان کے ساتھ خیر سے پیش آنا اور ان کو خیر کا وعدہ دلانا اور جب انہیں وعظ ونصیحت کرنا تو مختصر کرنا کیونکہ جب بات زیادہ ہو جائے تو فضول ہو جاتی ہے۔ تم اپنے نفس کو درست رکھو، لوگ تمہارے لیے درست ہو جائیں گے اور نمازوں کو ان کے اوقات پر رکوع و سجود کو مکمل کرتے ہوئے ادا کرنا، اس میں خشوع وخضوع کا مکمل اہتمام کرنا اور جب دشمن کے سفیر تمہارے پاس آئیں تو ان کا اکرام کرنا، انہیں جلد رخصت کرنا تاکہ وہ تمہاری فوج کے بارے میں کچھ نہ جان سکیں اور اپنے امور پر ان کو مطلع نہ ہونے دینا کہ انہیں تمہارے نقص و عیب کا پتہ چل جائے، انہیں اپنی فوج کے جمگھٹے میں رکھنا تاکہ مسلمانوں کی قوت سے مرعوب ہو جائیں۔ اپنے لوگوں کو ان سے بات کرنے سے روک دینا، تم خود بات کرنا، راز ظاہر نہ کرنا اور جب مشورہ لینا بات سچ کہنا، صحیح مشورہ ملے گا۔ مشیر سے اپنی خبر مت چھپانا ورنہ تمہاری وجہ سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔ اپنے ساتھیوں سے رات میں گفتگو کرنا، دن بھر کی خبریں تمہیں مل جائیں گی اور پردے ہٹ جائیں گے۔ حفاظتی دستہ میں زیادہ افراد کو رکھنا اور انہیں اپنی فوج میں پھیلا دینا اور بغیر اطلاع دیے اچانک ان کے پاس پہنچتے رہنا، جس کو اپنی ذمہ داری سے غافل پانا اس کی اچھی طرح تادیب کرنا اور بغیر افراط کے سزا دینا اور رات میں ان کی باری مقرر کرنا۔ اول شب کی باری آخر شب سے لمبی رکھنا کیونکہ دن سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ باری آسان ہوتی ہے۔ مستحق سزا کو سزا دینے سے مت ڈرنا، اس میں نرمی نہ برتنا، ہاں سزا دینے میں جلدی نہ کرنا، اس کے لیے بہانے تلاش کرنا۔ اپنی فوج سے غافل نہ رہنا کہ وہ خراب ہو جائیں اور ان کی جاسوسی کر کے ان کو رسوا نہ کرنا،ان کے راز کی باتیں لوگوں سے نہ بیان کرنا، ان کے ظاہر پر اکتفا کرنا، بے کار قسم کے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا، سچے اور وفادار لوگوں کے ساتھ بیٹھا کرنا۔ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت ڈٹ جانا، بزدل نہ بننا ورنہ لوگ بھی بزدل ہو جائیں گے۔ مال غنیمت میں خیانت سے بچنا، یہ محتاجی سے قریب کرتی ہے اور فتح ونصرت کو روکتی ہے۔ تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو عبادت خانوں میں مشغول عبادت ہوں گے، ان کو مت چھیڑنا، انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دینا۔‘‘
علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ والیان و امراء کے لیے انتہائی نفع بخش اور بہترین وصیتیں ہیں۔
(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 64، 65)
فوائد: اس وصیت میں متعدد فوائد ہیں
امارت و منصب کسی کا دائمی حق نہیں بلکہ یہ اچھی کارکردگی اور فرائض کی کامیاب ادائیگی کی مرہون منت ہے اگر کوئی شخص اچھی کارکردگی نہ دکھائے اور فرائض میں کوتاہی کرے تو نگران اعلیٰ کی ذمہ داری ہے کہ اس کو معزول کر دے۔
یہ شعور انسان کو اپنے عمل میں کامیابی کے اعلیٰ معیار کو پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے اور طاقت صرف کرنے پر ابھارتا ہے اور جب اسے یہ معلوم ہو جائے کہ وہ جو کچھ بھی کرے اسے کوئی یہاں سے ہٹانے والا نہیں تو پھر عمل میں کوتاہی اور دنیا طلبی کی طرف مائل ہو جاتا ہے پھر فرائض کی ادائیگی میں خلل واقع ہوتا ہے اور اپنے ماتحتوں کو مختلف قسم کے فساد، انار کی اور اختلاف ونزاع کا شکار بنا دیتا ہے۔
تقویٰ عمل میں کامیابی کے اہم عوامل میں سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ظاہری و باطنی اعمال سے بخوبی واقف ہے اگر وہ اپنے باطن میں اللہ تعالیٰ سے خوف رکھتے ہیں تو ظاہر میں بدرجہ اولیٰ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کریں گے اور اس طرح والی و حاکم بگاڑ اور افساد کے تمام مظاہر سے دور رہے گا جو عام طور پر بے لگام جذبات کا نتیجہ ہوا کرتا ہے، جس میں اللہ سے تقویٰ کا التزام نہیں پایا جاتا ہے۔
آبائی اور قومی عصبیت سے احتراز لازم ہے کیونکہ یہ تعصب انسان کے صراط مستقیم سے انحراف کا باعث ہوتا ہے جبکہ آباء واجداد کا طریقہ استقامت کے مخالف ہو۔ مزیدبرآں یہ عصبیت اخوت فی اللہ کے اسلامی رابطہ میں ضعف و کمزوری کا سبب بنتی ہے۔
وعظ و نصیحت میں ایجاز و اختصار ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کیونکہ کثرت کلام کی صورت میں باتیں بھول جاتی ہیں اور مقصود فوت ہو جاتا ہے اور سامع متکلم و واعظ کی باتوں کا استیعاب کرنے اور اس کے وعظ و نصیحت سے استفادہ کرنے کے بجائے اس کی فصاحت و بلاغت میں محو ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر متکلم و واعظ فصیح اللسان نہیں ہے تو پھر طول کلام سے کبیدہ خاطر ہو کر اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور پھر متکلم کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔
اگر مسئول و ذمہ دار اپنی اصلاح کرے، اپنے عیوب پر نگاہ رکھے اور اپنے آپ کو دوسروں کے لیے بہترین قدوہ اور آئیڈیل بنائے تو یہ اس کے ماتحتوں کی اصلاح کا سبب ثابت ہوتا ہے۔
ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نماز کو مکمل طور سے ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے، ظاہری اعتبار سے یوں کہ نماز کے اقوال و افعال کو مکمل کیا جائے اور باطنی اعتبار سے یوں کہ اس میں خشوع وخضوع اور حضور قلب کا مکمل اہتمام ہو اور اس طرح مکمل نماز کے ذریعہ سے ہی زمین میں اللہ کا ذکر قائم کیا جا سکتا ہے اور ایسی نماز ہی اعمال و سلوک کو درست و مہذب کرتی، دلوں کو قوت بخشتی، نفوس کو راحت پہنچاتی اور مشکلات کے وقت مسلمانوں کے لیے جائے پناہ ثابت ہوتی ہے۔
دشمن کے سفراء جب آئیں تو ان کا اکرام کیا جائے اور اسلامی فوج کی صورت حال سے واقف ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ اکرام کرنا ایک طرح کی اسلام کی دعوت ہے کیونکہ اس سے دنیا کو مسلمانوں کے مکارم اخلاق کا پتہ چلتا ہے لیکن یہ اکرام اس حد کا نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں مسلمانوں کے راز ونیاز کا پتہ چل جائے بلکہ ان کے سامنے مسلم فوج کی قوت کا اظہار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی قوم کو جا کر خوف دلائیں اور اس طرح وہ مسلمانوں سے مرعوب ہوں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 194)
اسرار کو مکمل طور سے محفوظ رکھا جائے، اس سلسلہ میں ذرا بھی سستی اور تہاون نہ کیا جائے۔ خاص طور سے وہ اسرار جو مسلمانوں کے امور عام سے متعلق ہوں۔ جب تک راز انسان اپنے اندر محفوظ رکھے ہوئے ہے تب تک ایک دانا شخص اپنے امور میں تصرف کر سکتا ہے اگرچہ ان کے وجوہ مختلف ہوں لیکن جب راز افشاء ہو جاتے ہیں تو وہ انسان کے قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور پھر امور گڈمڈ ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مشورہ طلبی کی درستی اس کے نتائج میں غور وفکر سے اہم ہے کیونکہ اگرچہ مشیر عمدہ رائے اور عقل کامل کا مالک ہو لیکن وہ اس وقت تک مشورہ طلب کرنے والے کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ اس کے سامنے مسئلہ بالکل واضح نہ ہو۔ اگر مشورہ طلب کرنے والا تفاصیل کو مخفی رکھتا ہے تو وہ اپنے اوپر ظلم ڈھاتا ہے کیونکہ اس مشورہ کا نقصان اسی کو ہوگا۔
قائد اور ذمہ دار کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا چاہیے تاکہ ان کے معاملات کی اسے مکمل خبر رہے۔ ایسی صورتِ حال میں اسے ان کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کا حل پیش کرنے میں بڑی مدد ملے گی اور جو ذمہ دار اپنے ماتحتوں سے بالکل الگ تھلگ رہتا ہے ان کے ساتھ گھل مل کر نہیں رہتا صرف خاص خاص بڑے طبقہ کے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، اس تک صحیح معلومات نہیں پہنچتیں، صرف یہی خاص لوگ جو بتا دیں وہی اس کو معلوم ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ بات کو پوری تفصیلات کے ساتھ اس تک نہیں پہنچاتے اور بسا اوقات ان معاملات کی توضیح و تجزیہ اس کے سامنے غلط طریقہ سے پیش کرتے ہیں۔
مسلمانوں کی حفاظت اور ان پر پہرہ کا اہتمام ضروری ہے۔ خاص کر پرخطر حالات میں اور پھر ان (محافظوں اور پہرہ داروں) پر مکمل بھروسہ کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ ان کی نگرانی ضروری ہے تاکہ ان کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
ذمہ دار کو چاہیے کہ وہ حکم عدولی کرنے والوں کو سزا دینے میں اعتدال کی راہ اختیار کرے، مستحقین کو سزا دینے میں کوتاہی اور سستی نہ برتے کیونکہ اس سے وہ مزید مخالفت اور حکم عدولی پر جری ہو جاتے ہیں پھر دوسروں کو اس سے حکم عدولی اور مخالفت کی جرأت پیدا ہو جاتی ہے اور فساد و انارکی پھیلتی ہے اور نہ ہی سزا دینے میں سختی کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ اس سے رعایا کے اندر نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ ناراضی کا شکار ہو کر گروہ بندی اور پارٹی بازی پر اتر آتے ہیں بلکہ سزا کے نفاذ کے سلسلہ میں حکمت و توازن، دوراندیشی اور غور و فکر ضروری ہے تاکہ تربیتی مقصد حاصل ہو جائے اور کوئی فساد برپا نہ ہو اور نہ تنقید و ناراضی پر لوگ اتر آئیں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 195)
ذمہ دار کو انتہائی بیدار مغز ہونا چاہیے اور دائرہ کار کے اندر جو کچھ ہو اس کی پوری خبر رکھے تاکہ اس کی رعایا کو یہ احساس ہو کہ ان کے امور و مسائل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کے کام میں مزید حسن پیدا ہوگا اور تقصیر و کوتاہی کرنے والے اپنی غلط حرکت سے باز آجائیں گے۔ لیکن یاد رہے جاسوسی کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کی فضیحت شمار ہو گی اور اس سے محبت و مودت اور پسندیدگی و شکر گذاری کا وہ تعلق منقطع ہو جائے گا، جو مسئول کو اس کی رعیت کے افراد سے مربوط رکھتا ہے۔ یہ تعلق جب تک قائم ہے جادئہ حق سے ہٹے ہوئے لوگوں کو ان مخالفتوں کے ارتکاب کا موقع نہیں ملتا، جن سے معاشرہ میں فساد و انار کی جنم لیتی ہے۔ جب یہ تعلق منقطع ہو جائے اور برائی سے روکنے والا اللہ سے تقویٰ بھی نہ ہو، تو پھر شہوتوں کو روکنے والی اہم چیز ختم ہو جاتی ہے اور پھر مسائل کا علاج مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے بڑی قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کے مفاسد معروف ہیں۔
ذمہ دار کو چاہیے کہ سچے وفادار اور عقلمند سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی ہم نشینی اختیار کرے اگرچہ بسا اوقات ان سے ناپسندیدہ تنقید و توجیہ سننی پڑے کیونکہ اس سے اس کو اور اس کی رعایا ہی کو فائدہ ہوگا۔ اسی طرح اس کو چاہیے کہ لہو و لعب اور دنیوی اغراض و مقاصد کے دلدادہ لوگوں کی ہم نشینی اختیار نہ کرے کیونکہ ایسے لوگوں کی باتوں اور تعریفی کلمات سے اگرچہ انسان مانوس ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ اہم سنجیدہ امور میں غور و فکر سے مانع ثابت ہوتے ہیں اور ہوش اس وقت آتا ہے جب کہ آفت اس پر اور اس کی رعیت پر آن پڑتی ہے۔
سپہ سالار اور قائدین کو چاہیے کہ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں، بزدلی نہ دکھائیں کیونکہ سپہ سالار کی بزدلی اس کی فوج میں سرایت کر جائے گی، جس سے لازمی نتیجہ شکست و ناکامی ہے اور جنگ کے علاوہ دیگر امور میں ذمہ دار کو دلیر ہونا چاہیے کیونکہ اس کے کمزور پڑنے سے اس کے ماتحتوں پر ضعف طاری ہوگا اور پھر کام کی ادائیگی کا معیار گھٹ جائے گا اور نتیجہ کمزور پڑ جائے گا۔
سپہ سالار و قائد کو مال غنیمت میں خیانت سے بچنا چاہیے۔ تقسیم غنیمت سے قبل اس میں سے کچھ نہ لے اور میدان جنگ کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی ذمہ دار کو اپنے عمل سے کسی ایسے دنیاوی استفادہ سے احتراز لازم ہے جو اس کے لیے شرعاً حلال نہ ہو مثلاً وہ ہدیہ و تحفہ قبول کرنا جس کا مقصد ذمہ دار کو حق سے پھیرنا ہوتا ہے یہ بھی خیانت ہے۔ اس خیانت کا نتیجہ فقر و محتاجی اور فتح و نصرت سے محرومی ہوتا ہے جیسا کہ اس وصیت کے اندر بیان کیا گیا ہے۔
مندرجہ بالا فوائد سے اس وصیت کی عظمت و اہمیت کا پتہ چلتا ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک سپہ سالار کو کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ مسلمانوں کے مسائل کی فکر میں زندگی بسر کرتے تھے۔ سپہ سالار کو جو مسائل پیش آنے والے ہوتے سیدنا ابوبکرؓ ان کا صحیح تصور قائم کرتے اور پھر انہیں ایسی معلومات فراہم کرتے جو ان مشکلات سے بچنے اور ان کو حل کرنے کے سلسلہ میں مفید ومعاون ثابت ہوں۔
یہ اور اس طرح کی دیگر وصیتیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بے شمار مواقف میں مزید اضافہ ہیں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 196)
آپ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکومت چلانے کے سلسلہ میں غور و فکر کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان سیاست میں انتہائی ماہر تھے اور جب سپہ سالار اور قائدین حرب کی روانگی کا منظر دیکھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ سیدنا ابوبکرؓ جنگی امور میں انتہائی ماہر ہیں۔ ایسا محسوس ہوگا کہ گویا سیدنا ابوبکرؓ خود میدان جنگ میں قائدین کے ساتھ موجود ہیں، اور جب آپؓ ان کی رحمت و تالیف قلب کو دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ آپؓ دعوت الی اللہ کے میدان میں انتہائی ماہر ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ مؤمنین کے ساتھ انتہائی شفیق ومہربان تھے۔ سچے اور اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کے درجات کو بلند کرنے والے، صلاحیت و قدرت رکھنے والوں سے باخبر اور اللہ کے دشمنوں کفار و منافقین پر انتہائی سخت اور قوی تھے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 197)
لشکر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ: شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی روانگی کے تین دن بعد کی تاریخ مقرر فرمائی۔ جب تیسرا دن گذر گیا تو سیدنا ابوبکرؓ نے شرحبیل رضی اللہ عنہ کو الوداع کہا اور فرمایا: اے شرحبیل! کیا تم نے یزید بن ابی سفیان کو جو وصیت میں نے کی اس کو نہیں سنا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے۔ فرمایا: میں تمہیں بھی وہی وصیت کرتا ہوں اور مزید برآں ایسی باتوں کی وصیت کرتا ہوں جن کی وصیت یزید کو نہ کر سکا تھا۔ میں تمہیں نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے، میدان جنگ میں ظفر مند ہونے یا شہادت تک ڈٹے رہنے، مریضوں کی عیادت کرنے، جنازہ میں شرکت کرنے اور ہر حال میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وصیت سن کر شرحبیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ہی مدد کرنے والا ہے اور اللہ کی جو مشیت ہوتی ہے وہی ہوتا ہے۔
(فتوح الشام للأزدی: صفحہ 15)
شرحبیل رضی اللہ عنہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سے چار ہزار تک تھی۔ آپ کو یہ حکم فرمایا کہ تبوک اور بلقاء جائیں اور پھر بصریٰ کا رخ کریں اور یہ آخری منزل ہو۔ شرحبیل رضی اللہ عنہ بلقاء کی طرف آگے بڑھے، کوئی قابل ذکر مقابلہ نہ ہوا۔ آپ کا لشکر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بائیں اور لشکر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب چلتے ہوئے بلقاء پہنچا اور اندر گھس گیا اور بصریٰ پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا لیکن فتح حاصل نہ ہو سکی کیونکہ یہ رومیوں کے محفوظ اور مضبوط مراکز میں سے تھا۔
(ابوبکر الصدیق: نزار الحدیثی: صفحہ 62)
لشکر ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کرنے کا عزم فرمایا تو بلایا اور انہیں الوداع کہتے ہوئے فرمایا: اس شخص کی طرح میری بات سنو جو سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کی نیت سے سنتا ہے۔ تم بڑے لوگوں، عرب خانوادوں، مسلم صالحین اور جاہلیت کے سورماؤں کے ساتھ روانہ ہو رہے ہو، جو جاہلیت میں عصبیت وحمیت میں لڑ رہے تھے اور اب وہ اجر و ثواب اور اچھی نیت کی بنیاد پر قتال کر رہے ہیں لہٰذا تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو اور حقوق کے معاملہ میں تمام لوگ تمہاری نگاہ میں برابر ہوں۔ اللہ سے مدد طلب کرو وہ مددگار ہونے کی حیثیت سے کافی ہے، اور اللہ ہی پر توکل کرو وہ کارساز ہونے کی حیثیت سے کافی ہے۔ کل ان شاء اللہ روانہ ہو جاؤ۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 17)
آپؓ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سے چار ہزار تک تھی اور اس لشکر کی منزل مقصود حمص تھی۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ مدینہ سے روانہ ہوئے، وادی القریٰ سے ہوتے ہوئے حجر (مدائن صالح) پہنچے اور وہاں سے ’’ذات منار‘‘ پھر ’’زیزا‘‘ اور پھر وہاں سے ’’موآب‘‘ پہنچے، وہاں دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، ان سے قتال کیا، پھر آپؓ سے انہوں نے مصالحت کر لی۔ یہ پہلی صلح تھی جو شام میں ہوئی۔ پھر جابیہ کی طرف آگے بڑھتے رہے۔
(الکامل لابن الأثیر: جلد 2 صفحہ 66)
یہ لشکر پہلے لشکر کا دایاں بازو اور دوسرے لشکر کا بایاں بازو تھا۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: نہاد عباس: صفحہ 141)
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیس بن ہبیرہ بن مسعود المرادی عرب کے مشہور سورما تھے۔ ان کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو روانہ ہونے سے قبل وصیت فرمائی۔ فرمایا: تمہارے ساتھ ایک عظیم شرف و منزلت کا آدمی عرب کے سورماؤں میں سے ہے، اس کی رائے اور مشورے سے اور جنگی قوت سے مسلمان بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ اس کو اپنے سے قریب رکھنا اس کے ساتھ لطف و کرم کا برتاؤ کرنا اور اسے یہ محسوس کرانا کہ تم اس سے بے نیاز نہیں ہو اور نہ اس کو معمولی سمجھتے ہو۔ اس سے تمہیں اس کی خیر خواہی حاصل رہے گی اور دشمن کے مقابلہ میں اس کی کوششیں تمہارے ساتھ ہوں گی پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قیس بن ہبیرہ کو بلایا اور فرمایا: میں تمہیں ابوعبیدہ امین امت کے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ ان پر اگر ظلم کیا جائے تو وہ اس کے بدلہ میں ظلم نہیں کرتے اور اگر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے تو معاف کر دیتے ہیں اور اگر ان سے تعلق توڑا جائے تو اس کو جوڑنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کے ساتھ بڑے رحیم و شفیق ہیں اور کفار کے مقابلہ میں سخت ہیں۔ تم ان کی حکم عدولی نہ کرنا اور ان کی رائے کی مخالفت نہ کرنا۔ یہ تمہیں خیر ہی کا حکم دیں گے، میں نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمہاری بات سنیں۔ لہٰذا تم انہیں تقویٰ کا حکم دینا۔ ہم سنتے آئے ہیں کہ تم طاقتور اور بڑے شریف انسان ہو اور دور جاہلیت کے تجربہ کار سردار ہو جبکہ جاہلیت میں گناہ ہی گناہ پایا جاتا تھا لہٰذا تم اپنی قوت و طاقت اور بہادری کو اسلام کی حالت میں مشرکین اور ان لوگوں کے خلاف استعمال میں لاؤ جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم اور مسلمانوں کے لیے عزت و غلبہ رکھا ہے۔ یہ نصیحت سن کر قیس بن ہبیرہ نے عرض کیا: اگر آپ باقی رہے (اللہ آپ کو باقی رکھے) تو آپؓ کو میرے بارے میں مسلمانوں کی حفاظت اور کفار کے خلاف جہد وکوشش سے متعلق ایسی خبریں پہنچیں گی جو آپؓ کو محبوب و پسندیدہ ہوں گی اور آپؓ خوش ہو جائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم فرمائے، ایسا کرو۔ اور جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جابیہ میں رومیوں کے دو جرنیلوں کے ساتھ ان کی مبارزت اور ان دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: قیس نے سچ کر دکھایا اور وعدہ پورا کر دیا۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 26، 27 )
یہاں ہم یہ ملاحظہ کر رہے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قیس بن ہبیرہ کی ہمت کو ابھارا اور ان کے اندر پوشیدہ طاقتوں میں جوش پیدا کیا اور ان کی اعلیٰ درجہ کی ممکنہ قوت کو بیدار کر کے اسلام کی حمایت اور جہاد میں لگا دیا۔ بلاشبہ عظماء و قائدین کے فضائل کو ذکر کرنے اور ان کی تعریف کرنے سے ان کی معنویات میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کو عظیم قوت حاصل ہوتی ہے، جو انہیں فدائیت اور قربانی پر ابھارتی ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 206)
لشکر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فوج کے ساتھ فلسطین روانہ کیا۔ عمرو بن عاصؓ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو اپنے اس عمل پر قائم رہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سونپا تھا، (یہ قضاعہ کے صدقات پر عامل تھے۔) اور چاہیں تو وہ ان کے لیے وہ اختیار کریں جو دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہو مگر یہ کہ موجودہ عمل ان کو محبوب ہو۔ اس پر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے آپ کو جوابی خط تحریر کیا: میں اسلامی تیروں میں سے ایک تیر ہوں اور اللہ کے بعد آپ اس تیر کو چلانے والے اور جمع کرنے والے ہیں، تو آپ دیکھیں کہ کون سا تیر قوی، افضل اور خوفناک ہے اس کو چلا دیں۔
(إتمام الوفاء بسیرۃ الحلفاء: صفحہ 55)
جب آپؓ مدینہ واپس آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ سے باہر جا کر خیمہ زن ہو جائیں تاکہ لوگ آپؓ کے ساتھ جمع ہو جائیں۔ اشراف قریش میں سے بہت سے لوگ آپؓ کے ساتھ شامل ہوئے، جن میں حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ جب آپؓ نے روانہ ہونے کا ارادہ فرمایا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو رخصت کرنے نکلے، فرمایا: اے عمرو! تم رائے و تجربہ کے مالک ہو اور جنگی بصیرت رکھتے ہو، تم اپنی قوم کے اشراف اور مسلم صلحاء کے ساتھ جا رہے ہو اور اپنے بھائیوں سے ملو گے۔ لہٰذا ان کی خیر خواہی میں کوتاہی نہ کرنا اور ان سے اچھے مشورہ کو نہ روکنا کیونکہ تمہاری رائے جنگ میں قابل تعریف اور انجام کار بابرکت ہو سکتا ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کتنا بہتر ہے میرے لیے کہ میں آپؓ کے گمان کو سچ کر دکھاؤں اور آپؓ کی رائے میرے بارے میں خطا نہ کرے۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 48، 51)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ روانہ ہو گئے، آپؓ کی فوج چھ سات ہزار کے درمیان تھی اور ان کی منزل مقصود فلسطین تھی۔ یہ لشکر بحر احمر کے ساحلی راستہ سے ہوتا ہوا بحر مردار کے پاس وادی عربہ میں پہنچا۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار مجاہدین پر مشتمل دستہ تیار کیا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیادت میں روم کی پیش قدمی کی جانب روانہ کیا، یہ دستہ رومیوں سے جا ٹکرایا اور دشمن کی قوت کو پارہ پارہ کر کے ان پر فتح حاصل کی اور بعض قیدیوں کے ساتھ واپس ہوا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں سے پوچھ گچھ کی جس سے یہ پتہ چلا کہ رومی فوج رویس کی قیادت میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ان معلومات کی روشنی میں عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو منظم کیا۔ جب رومی حملہ آور ہوئے تو مسلمان ان کا حملہ روکنے میں کامیاب ہو گئے اور رومی فوج کو واپس ہونے پر مجبور کر دیا اور اس کے بعد ان پر جوابی حملہ کر کے دشمن کی قوت کو تباہ کر دیا اور راہ فرار اختیار کرنے اور میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اسلامی فوج نے ان کا پیچھا کیا اور روم کے ہزاروں فوجی مارے گئے اور اسی پر یہ معرکہ ختم ہو گیا۔
(العملیات التَّعرضیّۃ الدِّفاعیَّۃ عند المسلمین: صفحہ 143)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہر جرنیل کو اس بات کا حکم دیا تھا کہ وہ دوسرے کے راستہ سے ہٹ کر راستہ اختیار کرے کیونکہ آپؓ کے پیش نظر اس میں بڑی مصلحتیں تھیں گویا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہاں اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کی اقتدا کی تھی،
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 7)
جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا:
وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ وَمَاۤ اُغۡنِىۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ ۞ (سورۃ يوسف آیت 67)
ترجمہ: اور (ساتھ ہی یہ بھی) کہا کہ : میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا میں اللہ کی مشیت سے تمہیں بچا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔