فصل:....[حقیقت شجاعت] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[حقیقت شجاعت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

[جواب]: صاف جھوٹ ہے اور اسلامی غزوات سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص اس کے کذب کا گواہ ہے۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات بھی ان اسباب و وسائل میں سے ایک تھی جن کے باعث دین اسلام نے تقویت پائی۔ جس طرح بدر میں بہت سی تلواریں آپ کی تلوار کے علاوہ اور بھی تھیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ غزوات جن میں قتال کی نوبت آئی تھی کل نو تھے۔ سرور کائنات کی وفات کے بعد فارس و روم کی خطرناک لڑائیوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مطلقاً حصہ نہیں لیا تھا۔ عہد رسالت کی لڑائیوں میں جو غلبہ حاصل کیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کامیابی نہ تھی بلکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کارہین منت تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں جمل و صفین اور نہروان کی لڑائیوں میں جو غلبہ حاصل کیا تھا اس کی وجہ ان کے لشکر کی کثرت تعداد تھی۔ اس کے باوصف آپ نے اہل شام کے خلاف کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی تھی بلکہ فریقین برابر تھے اور کسی کا پلہ بھی دوسرے سے بھاری نہ تھا۔

[اشکال ]: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ سے کبھی فرار اختیار نہیں کیا تھا۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت نہیں ، بلکہ حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ بھی اس وصف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے برابر شریک ہیں ، اور اگر اس قسم کی کوئی معمولی چیز وقوع میں آئی بھی ہے تو وہ پوشیدہ ہے اور نقل ہو کر ہم تک نہیں پہنچی۔ اس بات کا احتمال ہے کہ احد و حنین میں ایسی لغزش حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی سرزد ہوئی ہو مگر ہم اس سے آگاہ نہ ہو سکے۔

مسلمانوں کو دوبار پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔ ایک بار احد کے موقعہ پر اوردوسری بار حنین میں ۔ اور یہ بات منقول نہیں ہے کہ ان مذکورہ بالا صحابہ کرام میں سے کوئی ایک پسپا ہوا ہو۔بلکہ سیرت اور مغازی کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما غزوہ احد و حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ فرارہونے والوں کے ساتھ فرار نہیں ہوئے تھے۔ جس نے یہ دعوی کیا ہے کہ یہ حضرات حنین کے موقعہ پر فرار ہوگئے تھے ‘تواس کاجھوٹ صاف ظاہر اور ہر ایک کومعلوم ہے۔ احد کے موقعہ پر پسپا ہونے والوں میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شامل تھے ؛ [اس لغزش کو] اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔ جو کچھ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے متعلق نقل کیا جاتا ہے کہ آپ حنین کے موقعہ پر جھنڈا لیکر فرار ہوگئے تھے؛ یہ محض جھوٹ ہے جو ان لوگوں نے گھڑلیا ہے جنہیں افتراء پردازی کی عادت اور لت پڑی ہوئی ہے۔

شیعہ مصنف کا دعوی کہ : ’’ آپ نے اپنی تلوار سے کبھی کسی قریبی رشتہ دار کو قتل نہیں کیا ۔‘‘

[جواب]: اس کے سچ یا جھوٹ ہونے کے ثبوت معلوم نہیں ہوسکے۔اور اس مسئلہ میں ہمارے پاس کوئی قابل اعتماد روایت بھی موجود نہیں ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی انسان حضرت خالد بن ولید ‘حضرت زبیر ‘ براء بن مالک ‘ابو دجانہ اور ابو طلحہ وغیرہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ایسا دعوی کرے کہ انہون نے کبھی اپنے کسی خونی رشتہ دارکو قتل نہیں کیا۔ یہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق دعوی جیسا دعوی ہے۔بلکہ یہ مثال حضرت خالد اور براء بن مالک رضی اللہ عنہما پر زیادہ صادق آتی ہے۔

اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا تھا:

’’آپ مشرکین پر اللہ کی تلواروں میں سے ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہیں ۔‘‘[سبق تخریجہ]

پس اگر یہ کہا جائے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تلوار بنایا ہووہ کبھی اپنے کسی قریبی خونی رشتہ دار کوقتل نہیں کرے گا تو یہ بات سچائی کے زیادہ قریب ہوگی۔ حالانکہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے متعلق معلوم ہے کہ آپ نے جنگوں میں کس کثرت سے لوگوں کو قتل کیا ۔اور آپ ہمیشہ کامیاب ہی ہوتے رہے ۔

[ اشکال ]: شیعہ کا یہ قول کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشکلات کا ازالہ کیا۔‘‘ 

[جواب]: دعویٰ بلا دلیل ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی ایک تکلیف کو بھی دور نہیں کیا تھا۔ البتہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس وقت آپ کی امداد کی تھی جب مشرکین نے مکہ میں آپ کو پیٹنا اور قتل کرنا چاہا تھا قرآن کریم میں اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا:﴿اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ﴾ (غافر:۲۸)

’’کیا تم اس لیے ایک شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘

مشرکین نے اس جرم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیٹا تھا۔[صحیح بخاری، کتاب التفسیر۔ سورۃ المؤمن(حدیث:۴۸۱۵،۳۶۷۸)۔]

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کسی ایسی خدمت کی انجام دہی کا علم نہیں ہوسکا۔

یہ بات غلط ہے کہ مشرکین نے احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تھا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ساتھ چھڑایا تھا۔اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی یہ واقعہ نقل نہیں کیا ‘اور نہ ہی اس کی کوئی حقیقت ہے۔ غالباً شیعہ مصنف کاماخذ قصہ کہانی کے طرز پر لکھی ہوئی مغازی و سیرت کی کتابیں ہیں جو افسانہ گو قسم کے لوگوں نے تصنیف کی ہیں ۔ مثلاً البکری کی ’’تنقلات الانوار‘‘ نیز سیرۃ البطال وعنترہ و احمد الدنف وغیرہ یا وہ کتابیں جو سکول کے طالب علم پڑھائی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے کرایہ پر لے کر پڑھتے ہیں اور ان بے ہودہ کہانیوں کو پڑھ کر وہ رات بھر سو نہیں سکتے۔

کذابین نے مغازی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی کہانیاں گھڑلی ہیں جو اسی جنس سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کی تصدیق وہ جاہل لوگ کرتے ہیں جنہیں سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح روایات کا علم نہ ہو۔ جے کہ اہل علم جانتے ہیں کہ ایسی سب روایات کورا جھوٹ ہیں ۔

٭ شیعہ مصنف نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رات گزارنے کا ذکر کیا ہے ‘ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہاں پر اصل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر خوف والی کوئی بات نہیں تھی۔

صفحہ 2 از 3