فصل:....[حقیقت شجاعت] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[حقیقت شجاعت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

اہل ایمان کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کا جو سب سے مشہور واقعہ ومعرکہ ہے وہ احد کے دن کا ہے۔جس دن مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے۔تو دشمن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے میں بھر پور کوشش کرنے لگا۔

امیہ بن خلف آپ کو قتل کرنے کی کوشش میں آگے بڑھنے لگا۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے قتل کیا۔ اس موقعہ پرمشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی کردیا؛ آپ کے سر پر خود تھا جس پر وار کیا گیا ؛ آپ کے سامنے کے دو اوپر والے دوانت ٹوٹ گئے ۔اس وقت جو صحابہ کرام آپ کے ارد گرد باقی رہ گئے تھے وہ بھر پور دفاع کرنے لگے۔جیسے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تیر چلاتے جارہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ’’ میرے ماں باپ تجھ پہ قربان ! خوب تیر چلاؤ ‘‘[الحدیث عن علي ابن ابي طالب۔البخاری ۴؍۳۹۔ کتاب الجہاد والسیر ‘ باب: المجن ومن یتترس بترس صاحبہ۔ مسلم ۴؍۱۸۷۶؛ کتاب فضائل الصحابۃ ‘ باب فضل سعد بن ابی وقاص۔] [البخاری ۴؍۳۹] 

حضرت طلحہ نے غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب ﴿اِذْ ہَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْکُمْ....﴾ (حدیث:۴۰۶۳)]ا سی دوران آپ کا ایک ہاتھ کٹ گیا تھا۔[صحیح بخاری ، حوالہ سابق(ح:۴۰۶۴)، صحیح مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب غزوۃ النساء مع الرجال(ح:۱۸۱۱)، اس میں ہے کہ یہ کہنے والا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ واللہ اعلم۔]

آپ کے ارد گرد مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کا دفاع کرتے ہوئے مقام شہادت پر سرفراز ہوگئی۔

حدیث میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یوم احد کے موقع پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنی تلوار دھونے کو کہا ‘ اور فرمایا : ’’ اسے دھونا ‘اس پر کوئی مذمت نہیں ہے ۔‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر تم نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو فلاں فلاں نے بھی بھی اچھا کام کیا ہے ۔‘‘ اور آپ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کے نام گنوائے۔[سیرۃ ابن ہشام ۳؍۱۰۶؛ البدایہ والنہایۃ ۴؍۴۷۔]


صفحہ 3 از 3