سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ اجنادین و یرموک
علی محمد الصلابیشام میں اسلامی فوج کی قیادت رومی فوج کی نقل وحرکت پر نگاہ رکھے ہوئی تھی۔ قائدین کو صورت حال کی خطرناکی کا احساس ہوا۔ انہوں نے جولان میں قائدین کی کانفرنس بلائی اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کو خط کے ذریعہ سے صورت حال سے آگاہ کیا اور اس کانفرنس میں یہ قرارداد پاس کی کہ تمام مفتوحہ علاقوں کو خالی کر دیا جائے اور اسلامی فوج ایک جگہ اکٹھی ہو جائے تاکہ رومیوں کے منصوبہ کو ناکام بنایا جا سکے اور انہیں لشکر اسلام کے ساتھ فیصلہ کن جنگ پر مجبور کیا جائے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ یرموک کا انتخاب کیا جائے اور لشکر اسلام وہاں جمع ہو جائے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے بھی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی رائے سے موافق آئی۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 148)
قائدین کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ دشمن سے مڈبھیڑ کیے بغیر اسلامی افواج اپنے اپنے علاقوں کو خالی کر کے یرموک میں جمع ہو جائیں چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حمص سے، شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے اردن سے اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے دمشق سے واپسی شروع کر دی اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے تدریجاً فلسطین سے واپسی شروع کی۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: 148)
لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے یرموک پہنچنے سے قبل واپسی مکمل نہ کر سکے کیونکہ رومی افواج ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔ اس لیے وہ ’’بئر سبع‘‘ میں داؤ پیچ میں لگے رہے اور مسلمان رومیوں پر جوابی حملہ کرنے پر مجبور ہوئے جس کے نتیجے میں معرکہ اجنادین پیش آیا۔
(حروب الاسلام فی الشام: احمد محمد: صفحہ 45)
جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا خط ملا تو آپؓ نے انہیں جوابی خط کے ذریعہ سے حکم فرمایا کہ وہ جگہ خالی کر کے یرموک میں جمع ہو جائیں اور شہسواروں کو دیہاتوں اور بستیوں میں پھیلا دیں اور وہ ان کی رسد روک دیں۔ شہروں کا محاصرہ اس وقت تک نہ کریں جب تک میرا حکم نہ آجائے اور اگر دشمن مقابلہ آرائی پر اتر آئے تو اس کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرو اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور جو فوجی مدد ان کو پہنچے گی، میں بھی اسی طرح تمہیں فوجی مدد بھیجتا رہوں گا۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 148)
اور ایک روایت میں ہے: تم جیسے لوگ قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھائیں گے۔ دس ہزار کی فوج اپنے گناہوں کی وجہ سے ہی شکست کھا سکتی ہے لہٰذا گناہوں سے بچو اور تم سب مل کر یرموک میں جمع ہو جاؤ اور تم میں سے ہر ایک اپنی فوج لے کر وہاں پہنچ جائے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 211)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چاروں اسلامی افواج کو حکم دیا کہ وہ (یرموک میں) جمع ہو کر ایک لشکر کی شکل اختیار کر لیں اور مشرکین کے حملہ کا مقابلہ مسلمانوں کے حملہ سے کریں اور ان سے فرمایا: تم اللہ کے دین کے مددگار ہو اور جو اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے اور جو اس کے دین کی مدد نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
چنانچہ ہم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خطوط کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے اسلامی فوج کی نصرت و غلبہ کی اساس اللہ کی اطاعت کو قرار دیا کیونکہ شکست و رسوائی معصیت اور گناہ کے ارتکاب سے ہوتی ہے اور آپؓ نے اسلامی فوج کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ دشمن مختلف علاقوں میں ان کے منتشر ہونے کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ان کی قوت کو ختم نہ کر سکے۔ اسی طرح یرموک کو اسلامی افواج کے جمع ہونے کا مرکز قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے دور میں جغرافیہ ارض سے بخوبی واقفیت تھی اور وہ مقامات و مواقع کا بخوبی علم و ادراک رکھتے تھے اور یہ چیز جنگی معاملات و تدابیر میں عظیم فقاہت ہے، جس کی توفیق اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو عطا کی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ قرارداد جاری کی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ عراق سے شام منتقل ہو جائیں اور وہاں پہنچ کر اسلامی فوج کی قیادت سنبھال لیں کیونکہ اس وقت شام میں ایسے قائد کی ضرورت تھی جس کے اندر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طاقت و صلاحیت، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی زیرکی وسیاست اور عکرمہ رضی اللہ عنہ کی مہارت، یزید رضی اللہ عنہ کا اقدام و پیش قدمی کا جوہر یکجا ہو اور مسائل میں حتمی فیصلہ کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ عظیم عسکری صلاحیت کا مالک ہو، زیرکی وسیاست اور تدبیر اقدام وپیش قدمی کا جوہر اس کے اندر ہو، مہارت ودرایت کا مالک ہو اور طویل جنگی تجربہ رکھتا ہو۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 359، 360)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ انتخاب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر پڑی اور عراق میں انہیں خط تحریر کیا، چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکرؓ کے فرمان کو نافذ کیا اور صحرا کو عبور کرتے ہوئے اپنی فوج کے ساتھ شام پہنچے، تاریخ جس کی مثال دینے سے قاصر ہے، جس کی تفصیل ہم بیان کر چکے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کی طرف فوجی امداد کا سلسلہ جاری رہا اور نہایت کامیاب منصوبے پیش کرتے رہے اور دشمن کے ان ٹیکنیکل اور معنوی و مادی اسالیب کا جواب دیتے رہے، جن کا مقصد آپ کو ان کے ہدف سے پھیرنا اور مشغول کرنا تھا چنانچہ قائدین روم نے کہا: ’’واللہ ہم ابوبکر کو اپنی سر زمین کی طرف فوج بھیجنے سے مشغول کر کے رہیں گے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 7)
جس کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ’’ہم خالد بن ولید کے ذریعہ سے نصاریٰ کو ان کے شیطانی منصوبوں سے مشغول کر دیں گے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 7)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی توجیہات سے متعدد امور سامنے آئے:
شام میں موجود اسلامی افواج کو ایک فوج میں مدغم کر دینا۔
تمام قائدین کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی امارت کے تابع کر دینا۔
مقام اجتماع کی تحدید
اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نزدیک افواج کو نقل وحرکت میں لانے کا فن بالکل واضح تھا۔ جس وقت سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں مدینہ سے روانہ فرمایا اس وقت یہ افواج قدرے دور دراز راستوں سے روانہ ہوئیں، جو نیزے یا پنکھے کی شکل اختیار کرتی تھیں، جنہیں آج عسکری اصطلاح میں ’’حرکت انتشار‘‘ کہا جاتا ہے اور جب فیصلہ کن جھڑپ وتصادم اور مڈبھیڑ کا وقت آیا تو اپنے منتخب کردہ مقام پر سب افواج کو اکٹھا کر دیا، اس سے افواج کو استعمال کرنے کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکرؓ کی ماہرانہ صلاحیت و قدرت کا پتہ چلتا ہے، جسے آج عسکری اصطلاح میں فوجی حکمت عملی (Stredegy) کہا جاتا ہے۔
(الفن العسکری الاسلامی: صفحہ 89، ابوبکر الصدیق: الحدیثی 60)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کے قائد عام (کمانڈر اِن چیف) کی حیثیت سے میدان قتال میں اوامر و فرامین کے ذریعہ سے معنوی طور پر حاضر رہنے کے حریص تھے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ فرامین بصیرت افروزی، بالغ نظری، نفاذ بصیرت، میدان قتال میں جنگی صورت حال کی برجستہ وضاحت میں امتیازی حیثیت کے حامل تھے۔ صورت حال کے مطابق افواج کو حرکت میں لانا، قائدین کا صحیح انتخاب، خلیفہ اور قائدین کے مابین ایک دوسرے پر اعتماد۔ قائدین سیدنا ابوبکرؓ کے افکار کو پڑھتے اور سیدنا ابوبکرؓ کی رغبتوں اور ارادوں کو محسوس کرتے اور سیدنا ابوبکرؓ جو جنگی تدابیر نافذ کرنا چاہتے وہ ان کے ذہن و دماغ میں اتر جاتیں، وہ لوگ اس کو اسی طرح نافذ کرتے گویا کہ خلیفہ ہی نافذ کر رہا ہو۔ ان وسائل کے ذریعہ سے خلیفہ مختلف میدان قتال میں معرکوں کی تنظیم کرتا گویا کہ خود میدان میں موجود ہو چنانچہ قائدین اور فوج تمام ہی لوگ یہ محسوس کرتے گویا کہ خلیفہ ان کے درمیان موجود ہے جو ان کی قیادت کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے اعمال خلیفہ کے ارادے اور رغبت کے عین مطابق ہوتے اور آپ کے اوامر و توجیہات کے عین موافق ہوتے۔
(الفن العسکری الاسلامی: صفحہ 98)
جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام جانے اور وہاں اسلامی افواج کی امارت سنبھالنے کا حکم فرمایا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو اس سے باخبر کیا، اس کے اسباب بتائے اور سمع و اطاعت کا حکم دیا۔ فرمایا:
’’اما بعد! میں نے شام میں رومیوں سے جنگ کی قیادت خالد کو سونپ دی ہے، تم اس کی مخالفت نہ کرنا، سمع و اطاعت کا مظاہرہ کرنا۔ میں نے ان کو تمہارے اوپر قائد مقرر کیا ہے حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تم ان سے افضل ہو۔ لیکن میرے خیال میں جو جنگی مہارت انہیں حاصل ہے تمہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے دین ہدایت کا کام لے۔
والسلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘
(مجموعۃ الوثائق السیاسۃ: صفحہ 392، 393)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا خط ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام عراق سے شام تک کی مسافت طے کرتا ہوا ایمان و زہد کا پیغام لے کر پہنچا۔ خط ملاحظہ ہو:
’’ابوعبیدہ بن جراح کے نام خالد بن ولید کی جانب سے، السلام علیک!
میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
اما بعد! میں اپنے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے خوف کے دن امن اور دنیا میں گناہوں سے بچاؤ کا سوالی ہوں۔ میرے پاس خلیفہ رسول کا خط آیا ہے، جس میں انہوں نے مجھے شام پہنچ کر وہاں کی اسلامی فوج کی قیادت سنبھالنے کا حکم فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم! نہ میں نے اس کا مطالبہ کیا ہے اور نہ کبھی اس کا ارادہ تھا اور نہ اس سلسلہ میں نے ان کو لکھا ہے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے، آپ کا حکم نہیں ٹالا جائے گا، اور نہ آپ کی رائے کی مخالفت کی جائے گی اور آپ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ آپ تو اسلامی سربراہوں میں سے ہیں، آپ کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ آپ کی رائے سے بے نیازی ہو سکتی ہے۔ ہمارے اور آپ کے اوپر جو اللہ تعالیٰ نے نعمت و احسان کیا ہے اس کو مکمل فرمائے، ہمیں اور آپ کو عذاب جہنم سے محفوظ فرمائے۔
والسلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 392)
اسی طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مذکورہ خط کے ساتھ شام میں موجود مسلمانوں کے نام بھی خط ارسال فرمایا، جس میں لکھا:
اما بعد! اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں اسلام کے ذریعہ سے عزت بخشی، اپنے دین کے ذریعہ سے شرف بخشا، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے مکرم کیا اور ایمان کے ذریعہ سے فضیلت بخشی، اللہ کی رحمتیں ہمارے لیے بڑی وسیع ہیں اور اس کی نعمتوں سے ہم گھرے ہوئے ہیں۔ اس اللہ سے سوالی ہوں کہ اپنی نعمت کو ہم پر تمام کر دے۔ اللہ کے بندو! اللہ کی حمد و شکر بیان کرو، وہ اور عطا کرے گا؛ اور اللہ سے تمام عافیت کی رغبت کرو وہ عافیت کو دوام بخشے گا۔ اللہ کی نعمتوں کے شکر گذار بن کر زندگی بسر کرو۔ خلیفہ رسول اللہ کا خط مجھے موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے مجھے آپ لوگوں کے پاس پہنچنے کا حکم دیا ہے۔ میں مکمل تیار ہو چکا ہوں گویا میرا گھوڑا مجاہدین کے ساتھ تمہارے پاس پہنچ چکا ہے لہٰذا اللہ کے وعدہ کی تکمیل اور حسن ثواب سے خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں ایمان کے ساتھ محفوظ رکھے اور ہمیں اور تمہیں اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں اور تمہیں مجاہدین کا بہترین ثواب عطا فرمائے۔
والسلام علیکم۔‘‘
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 68، 72 بحوالہ الحمیدی)
عمرو بن طفیل بن عمرو ازدی یہ دونوں خط لے کر شام میں مسلمانوں کے پاس پہنچے، اس وقت مسلمان جابیہ میں تھے، انہیں خط سنایا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا خط ان کے حوالے کیا۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا تو فرمایا: اللہ خلیفہ رسول کو ان کی رائے میں برکت عطا فرمائے، اور اللہ تعالیٰ خالد کو صحیح سالم رکھے۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 68، 72 بحوالہ الحمیدی)
دو عظیم قائدین کے مابین اس تعامل سے اسلامی اخوت کے معانی کا انکشاف ہوتا ہے جو توحید خالص سے وجود میں آتی ہے اور اخلاق حمیدہ سے مزین ہوتی ہے، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریۂ امتیاز تھا۔ عراق میں بے پایاں فتوحات اور خلیفہ کے اعتماد کے باوجود سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اندر کوئی تغیر نہ آیا اور اپنی برتری کا خمار سوار نہ ہوا، بلکہ اس کے برعکس حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و بزرگی کا اعتراف اور ان کی اطاعت کا اعلان کیا اور اس کے بالمقابل ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس حکم کو بابرکت قرار دیتے ہیں اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ اور خالد رضی اللہ عنہما خواہشات نفس سے پاک تھے، مصالح عامہ کو ترجیح دیتے تھے، ان کے پیش نظر اعمال میں اللہ کی رضا وخوشنودی تھی۔
(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 231)
اس کے اندر حکام، تحریکات کے ذمہ داران، علماء، دعاۃ و مبلغین، قائدین اور زعماء سب کے لیے تقرری و معزولی کے موقع پر آپس میں طرز عمل کا عظیم درس ہے۔
1۔ معرکہ اجنادین: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ شام پہنچے، بصریٰ فتح کیا، قائدین اسلام؛ ابوعبیدہ بن جراح، شرحبیل بن حسنہ، یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم سے ملے، عسکری صورت حال کا جائزہ لیا، دقیق تفصیلات پر مطلع ہوئے اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے مؤقف کی بھی تفصیلات معلوم کیں، جو دریائے اردن کے کنارے رومی افواج کی جھڑپ سے بچتے ہوئے اسے خالی کرنے میں مصروف تھے تاکہ اسلامی فوج سے جا ملیں جبکہ دشمن پوری تیاری سے ان کے تعاقب میں تھا اور اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جنگ پر مجبور کر دے، لیکن عمرو رضی اللہ عنہ پوری طرح بیدار اور ہوشیار تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ ان حالات میں جنگ کرنا مصلحت کے خلاف ہے کیونکہ آپؓ کی فوج سات ہزار سے زیادہ نہ تھی جبکہ رومی فوج اس سے کہیں زیادہ تھی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ عسکری پوزیشن کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان کے سامنے دو صورتیں ہیں: یا تو جلدی سے لشکر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے جا ملیں اور ان کے ساتھ مل کر رومی فوج کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کر کے رومی قوت کو تباہ کر دیں، اس طرح اسلامی فوج کا عسکری مؤقف مضبوط ہو جائے اور فلسطین میں مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے، یا اپنی جگہ ٹھہرے رہیں اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ آکر ملنے کو کہیں اور رومی فوج کا انتظار کریں جو دمشق سے ان کی طرف چل چکی تھی اور پھر اس کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کریں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے پہلی صورت کو ترجیح دی کیونکہ فلسطین میں رومی فوج پر غلبہ پانے کی صورت میں مسلمانوں کی واپسی کا راستہ محفوظ ہو جائے گا اور ان کے مراکز کو قوت ملے گی اور ایسی صورت میں وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ رومی فوج کو چیلنج کر سکیں اور دشمن اپنے پیچھے سے خطرہ محسوس کرے گا پھر اس کی تدبیر میں لگ جائے گا اور اس کی فوج کا ایک حصہ اس میں مشغول ہو جائے گا اور ہجوم کے بجائے دفاع کی پوزیشن میں آجائے گا۔
چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ یرموک سے فلسطین کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اطلاع بھیجی کہ وہ رومی فوج کو دھوکہ میں رکھتے ہوئے وہاں سے منتقل ہونے میں لگے رہیں، یہاں تک کہ لشکر خالد رضی اللہ عنہ وہاں پہنچ جائے پھر ایک ساتھ مل کر رومی فوج پر حملہ کریں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اجنادین آگئے۔(اَجنادین فلسطین کے نواحی علاقہ میں ایک مقام کا نام ہے۔ المعجم الیاقوت: جلد 1 صفحہ 203)
اور جب لشکر خالد وہاں پہنچا تو اسلامی فوج کی تعداد تقریباً تیس ہزار ہو گئی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مناسب وقت پر پہنچے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوئی۔ سیدنا خالد اور عمرو رضی اللہ عنہما کی عسکری مہارت کا اس فیصلہ کن فتح میں کافی دخل رہا۔ چنانچہ خطرات سے کھیلنے والی فوج کو مقرر کیا گیا، جو دشمن کی صفوں کو چیرتی ہوئی رومی جرنیل تک پہنچ گئی اور اس کا کام تمام کر دیا۔ جرنیل کے قتل ہوتے ہی رومی فوج ہمت ہار گئی اور مختلف سمتوں کی طرف راہ فرار اختیار کی۔
(ابوبکر رضی اللہ عنہ: نزار الحدیثی: صفحہ 70)
شام میں معرکہ اجنادین، روم اور مسلمانوں کے مابین پہلا بڑا معرکہ تھا۔ جب ہزیمت کی خبر حمص میں قیصر روم ہرقل کو پہنچی تو اسے حادثے کی سنگینی کا احساس ہو گیا۔
(ابوبکر رضی اللہ عنہ: نزار الحدیثی: صفحہ 71)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فتح کی خوشخبری دیتے ہوئے خط لکھا:
’’خلیفہ رسول ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام مشرکین کے خلاف اللہ کی کھلی تلوار خالد بن ولید کی طرف سے۔ السلام علیکم! میں اس اللہ کی حمدوثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اما بعد!
اے صدیق! میں آپ کو یہ خبر دے رہا ہوں کہ ہم مشرکین کے مقابلہ میں اترے، انہوں نے اجنادین میں بہت بڑی فوج اکٹھی کی، اپنی صلیب بلند کی اور اپنی کتابیں کھولیں، اللہ کی قسمیں کھائیں کہ ہم کو ختم کر کے یا اپنے ملک سے نکال کر ہی دم لیں گے، میدان سے فرار نہیں اختیار کریں گے۔ ہم بھی اللہ پر اعتماد و توکل کرتے ہوئے ان کے مقابلہ میں ڈٹ گئے، نیزوں سے ان پر وار کیا، پھر ہم نے تلواریں سنبھالیں اور ہر وادی، میدان اور راستہ میں ان سے مقابلہ کیا۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے دین کو غلبہ عطا کیا، دشمن کو ذلیل کیا اور اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔‘‘
جب یہ خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو موصول ہوا تو بے حد خوش ہوئے اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مسلمانوں کو فتح عطا کی اور اس سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 84، 93)
2۔ معرکہ یرموک: اجنادین میں روم کی شکست فاش اور مسلمانوں کی عظیم فتح وانتصار کے بعد فوج واپس ہوئی، مسلمانوں کو اس سے اطمینان پہنچا اور اسلامی فوج یرموک میں خلیفہ کے حکم کے نفاذ کے لیے جمع ہو گئی۔ ادھر رومی افواج تھیوڈور کی قیادت میں حرکت میں آئیں اور لمبے چوڑے میدان میں اتریں، جہاد سے نکل بھاگنے کا راستہ تنگ تھا اور یرموک سے قریب واقوصہ میں پڑاؤ ڈال دیا۔