فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر - ردِ رافضیت…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر

[ اشکال] : شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’غزوہ بدر کے موقع پر؛ جو کہ پہلا غزوہ ہے؛اورمدینہ طیبہ ہجرت کرکے آنے کے اٹھارہ ماہ بعد پیش آیا؛اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمرصرف ستائیس برس کی تھی آپ نے تنہا چھتیس آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ جس قدر کفار کو غزوۂ بدر میں قتل کیا گیا تھا یہ تعداد اس کے نصف سے بھی زیادہ ہے، اس کے علاوہ آپ دیگر کفار کے قتل میں بھی شریک ہوئے تھے۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں :باتفاق اہل علم وعارفین ِاہل سیرت ومغازی یہ صریح جھوٹ اور من گھڑت بہتان ہے۔ یہ بات کسی بھی ایسے راوی نے نقل نہیں کی جس کی روایت پر اعتماد کیا جاتا ہو۔بلکہ یہ جھوٹے اور جاہل لوگوں کی خود ساختہ بات ہے ۔بلکہ روایات صحیحہ سے بہت سے کفار کا بدر میں قتل کیا جانا ثابت ہے جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شرکت نہیں کی تھی۔ مثلاً ابوجہل و عقبہ و عتبہ بن ربیعہ[یا شیبہ بن ربیعہ] و ابی بن خلف وغیرہ۔

٭ یہ واقعہ ایسے ہے کہ جب مشرکین کی طرف سے تین آدمی : عتبہ ‘شیبہ اور ولید نکلے ‘اور انہوں نے مبارزت طلب کی تو ان کے مقابلہ میں تین انصاری نکلے۔ انہوں نے پوچھا : تم کون ہو؟ توانہوں نے نام لیکر اپنا تعارف کروایا ۔ تومشرکین نے کہا:آپ عزت والے ہم پلہ لوگ ہیں ؛ مگر ہم اپنے چچازادوں سے لڑناچاہتے ہیں ۔

تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقارب کو نکلنے کا حکم دیا۔اور فرمایا : اے حمزہ ! کھڑے ہوجاؤ۔ اے عبیدہ ! کھڑے ہوجاؤ ۔ اے علی ! کھڑے ہوجاؤ ۔‘‘ اس وقت مشرکین میں سب سے چھوٹا ولید تھا اور مسلمانوں میں حضرت علی ؛ تو ان دونوں میں مقابلہ ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے فریق مخالف کو قتل کیا ؛ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فریق مخالف عتبہ کو۔جب کہ حضرت عبیدہ کو ان دشمن نے زخمی کردیا۔حضرت علی اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما نے جاکر کی ان کی مدد کی اور تیسرے کافر کو بھی قتل کردیا۔

نقل کیا گیا ہے کہ جنگ بدر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دس ؛یا اس سے بھی کم یا اس سے کچھ زیادہ کافروں کو قتل کیا تھا۔

جوکچھ ابن ہشام ‘اوراس سے پہلے موسیٰ بن عقبہ ‘اور اموی نے ذکر کیاہے ؛ ان تمام نے زیادہ سے زیادہ آپ کے ہاتھوں سے گیارہ کفار کا قتل ہونا بتایا ہے ۔جب کہ چھ کفار کے بارے میں اختلاف ہے کہ ان کا قتل کرنے والا کون تھا۔ تین کفار کے قتل میں آپ نے شراکت کی ہے ۔اہل صدق و امانت نے یہی نقل کیا ہے۔

غزوۂ احداورشیعہ کی افتراء پردازی:

[الزام] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ احد کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا سب لوگ بھاگ گئے تھے، بعد ازاں چند صحابہ لوٹ آئے سب سے پہلے عاصم بن ثابت و ابودجانہ و سہل بن حُنیف آئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تین دن کے بعد آئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آپ نے بہت دیر لگا دی۔‘‘ فرشتوں نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ثبات و استقلال پر تعجب کا اظہار کیا تو جبریل نے آسمان پر چڑھتے ہوئے کہا:’’ تلوار ہے تو ذوالفقار اور جوان ہے تو علی۔‘‘ اس جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اکثر مشرکین کو قتل کیا تھا اور آپ کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے روایت کرتے ہوئے کہا ہے : ’’ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرما رہے تھے : ’’ احد کے دن مجھے سولہ زخم پہنچے ۔ان میں سے چار زخم کھا کر میں زمین پر گر گیا تھا۔تومیرے پاس ایک خوبصورت چہرہ والا خوبصورت زلفوں والا ‘اور پاکیزہ خوشبو والا ایک آدمی آیا۔اس نے مجھے پکڑ کر کھڑا کردیا ۔اور پھر کہا : آگے بڑھو‘اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں قتال کرو۔ یہ دونوں تم سے راضی ہیں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اوراس واقعہ کی خبر دی۔تو آپ نے فرمایا: اے علی ! کیاتم اسے نہیں جانتے ؟ میں نے کہا نہیں ؛ لیکن دحیہ کلبی سے مشابہت رکھتا تھا۔‘‘آپ نے پھر فرمایا: ’’ اے علی! اللہ تیری آنکھوں کو ٹھنڈی کردے وہ جبریل امین تھے ۔‘‘

[جواب]: اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی ان بڑی جھوٹی روایات میں سے ہے جو صرف ان لوگوں کو جچتی ہیں جنہیں اسلام کی کوئی معرفت نہیں ۔[ شیعہ مصنف شرم و حیاء کے جذبات کو بالائے طاق رکھ کر ایسے اکاذیب نقل کرتا چلا آرہا ہے جن کو چوپائے تو تسلیم کر سکتے ہیں ، مگر ایک سلیم العقل انسان کبھی ماننے کے لیے تیار نہیں]۔ گویا کہ وہ یہ باتیں ایسے لوگوں کو بتارہا ہے جنہیں غزوات کے واقعات کے بارے میں کچھ بھی علم ہی نہ ہو۔‘‘

صفحہ 1 از 5