فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر - ردِ رافضیت…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

اس کا یہ قول بڑا حیرت ناک ہے کہ ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کارہائے نمایاں کی وجہ سے غزوۂ احد میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔‘‘اس کا جواب یہ ہے کہ : جھوٹ کی اصل بنیادی آفت جہالت ہوتی ہے۔کیا اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تھی؟ شروع میں تو مسلمانوں نے دشمن کوپسپا کیا تھا ؛ مگر جبل الرماۃ پر متعین دستہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حال میں اپنی جگہ پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کی تھی؛اور فرمایا تھا:خواہ انہیں فتح ہویا شکست مگریہ لوگ اپنی جگہ نہ چھوڑیں ۔پس جب مشرکین پسپا ہوئے تو بعض لوگ چیخ کر آواز لگانے لگے : لوگو! مال غنیمت!۔انہیں ان کے امیر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے منع کیا [کہ پہاڑ چھوڑ کر نیچے نہ اتریں ؛ مگر انہوں نے اس پرتوجہ نہ دی اور پہاڑ چھوڑ کر نیچے اتر گئے]دشمن نے پلٹ کر اس پہاڑی درّے سے حملہ کردیا۔اس وقت مشرکین کے رہنما وقائد خالد بن ولیدتھے۔انہیں پشت کی طرف سے پلٹ کر حملہ کردیا۔اس وقت شیطان نے چیخ لگائی کہ:’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہوگئے ہیں ۔‘‘[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک زخمی ہو گیا اور اگلے دانت ٹوٹ گئے۔ خُود آپ کے سر میں دھنس گیا اور اس کی کڑیاں آپ کے سر مبارک میں پھنس گئیں ۔ اسی حالت میں آپ فرمانے لگے :’’ وہ قوم کیسے نجات پائے گی جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا۔‘‘ تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ﴾(آل عمران:۱۲۸)’’ اس امر میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘البخاری۔کتاب المغازی باب﴿ لَیْس لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ....﴾ تعلیقاً قبل ح(۴۰۶۹)، صحیح مسلم، کتاب الجہاد‘باب غزوۃ احد،(ح:۱۷۹۱)۔]

اس دن تقریباً ستر مسلمان شہید ہوئے؛ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ افراد ثابت قدم رہے جن میں حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی شریک تھے۔[سیرۃ ابن ہشام (ص:۳۸۸) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بہت سے صحابہ نے شہادت پائی۔ رئیس المشرکین نے کہا:’’ ہُبَل کی جَے! آج کا دن بدر کے دن کا جواب ہے۔‘‘ [البخاری۔ کتاب المغازی ۔ باب غزوۃ احد، (ح:۴۰۴۳)] یہ غلط ہے کہ علی غزوۂ احد میں زخمی ہوئے تھے۔ اور جبریل نے آپ کو اٹھایا تھا۔ ہم رافضی مصنف سے پوچھتے ہیں کہ اس کی اسناد کہاں ہے اور اس کا ماخذ موضوعات کی کون سی کتاب ہے؟]

ابو سفیان نے ان لوگوں کے احوال جاننے کے لیے کہا: ’’کیاتم میں محمد ہیں ‘کیا تم میں محمد ہیں ؟‘‘یہ الفاظ پہلے گزر چکے ہیں ؛ اوریہ حدیث صحیحین میں ہے۔یہ دن سخت آزمائش و ابتلاء و فتنہ کا دن تھا۔اس دن دشمن کامیاب لوٹا تھا ؛ اور راستہ میں انہوں نے دوبارہ پلٹ کر مدینہ پر حملہ کرنے کاپروگرام بنایا؛ مگر اس سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا پیچھا کرتے ہوئے چل پڑے۔[بڑا تفصیلی واقعہ ہے]۔کہاجاتا ہے کہ ان ہی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَآ اَصَابَہُمُ الْقَرْحُ﴾ (آل عمر ان:۱۷۲)

’’وہ جنھوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا، اس کے بعد کہ انھیں زخم پہنچا۔‘‘

[اس موقع پر]اللہ اوراس کے رسول کا حکم ماننے والوں میں حضرت ابوبکر حضرت زبیر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتی تھیں یہ آیت تمہارے باپ اور دادا کے بارے میں نازل ہوئی ہے :

﴿اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَآ اَصَابَہُمُ الْقَرْحُ﴾ (آل عمر ان:۱۷۲)

غزوہ احد میں مشرکین کے صرف چند آدمی قتل کیے گئے تھے۔اس دن مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوششوں میں سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔اس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آپ کے دفاع میں ثابت قدم تیر چلاتے جارہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:

’’ میرے ماں باپ تجھ پہ قربان ! خوب تیر چلاؤ ۔‘‘ [البخاری ۴؍۳۹] 

صحیحین میں ہے حضرت سعد بن ابی وقاص فرمایا کرتے تھے : ’’ أحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں اور باپ کو جمع کیا ۔‘‘حضرت سعد مستجاب الدعاء اور پختہ تیر انداز تھے۔

ان[ثابت قدم رہنے والوں ] میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے جو انتہائی سخت جنگجو اور تیر انداز تھے۔اورطلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے؛ جواپنے ہاتھ پر وار روک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمارہے تھے۔اورآپ کا یہ ہاتھ شل ہوگیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درعیں پہن رکھی تھیں ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بہت سے صحابہ نے شہادت پائی۔

ابن اسحق رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ سیرت ‘‘ میں ان لوگوں کے بارے میں لکھا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے تھے ؛ ان میں ابو دجانہ تھے ‘ جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی؛آپ کی پیٹھ دشمن پر کی طرف سے تیر لگتے ؛ مگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک کر آپ کو بچارہے تھے۔ آپ کو تیروں کے کئی زخم آئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص آپ کے سامنے کھڑے تیر چلارہے تھے ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر اٹھا کر انہیں دیتے ؛ اور فرماتے جاتے :

’’ میرے ماں باپ تجھ پہ قربان ! خوب تیر چلاؤ ۔‘‘

یہاں تک کہ آپ انہیں ایسا تیر بھی تھما دیتے جس کا پھل نہ ہوتا۔اورفرماتے :’’ یہ تیر بھی چلاؤ ۔‘‘

صفحہ 2 از 5