فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر - ردِ رافضیت…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین بدر

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

شیعہ نے جو روایت بیان کی ہے کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’علی رضی اللہ عنہ کا عمر وبن عبد ود کو قتل کرنا جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔‘‘ وہ یقیناً جھوٹی ہے۔[ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایسی مبالغہ آمیزی سے پاک ہے]۔یہی وجہ ہے کہ علماء اسلام میں سے کسی ایک نے بھی یہ روایت اپنی ان قابل اعتماد کتابوں میں نقل نہیں کی جن سے احادیث روایت کی جاتی ہیں ۔اور نہ ہی اس کی کوئی صحیح سند معروف ہے اورنہ ہی ضعیف۔اس جھوٹ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ۔ بھلا ایک آدمی کا قتل جن و انس کی عبادت سے افضل کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انسانوں کی عبادت میں تو انبیاء کرام علیہم السلام کی عبادت بھی داخل ہے۔اگر اس روایت کو درست تسلیم کیا جائے تو پھر [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے والے کفار]ایسے کفار بھی قتل ہوئے جن کا قتل ہونا عمرو بن عبدود کے قتل سے بڑھ کر تھا؛اس لیے کہ اس عمرو سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں کو اتنی تکلیف نہیں پہنچی جتنی دوسرے قریشی سرداروں سے پہنچی تھی ؛ یعنی وہ صنادید قریش جو کہ بدر کے موقع پرقتل ہوئے تھے ؛ مثلاً ابوجہل ؛ عقبہ بن ابی معیط ؛ شیبہ بن ربیعہ ؛ نضر ابن حارث؛ اور دیگران کے امثال جن کے بارے میں قرآن بھی نازل ہوا ۔جب کہ اس عمرو کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔اور نہ ہی اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوراہل ایمان سے کوئی انفرادی دشمنی معروف تھی۔

اس پر طرہ یہ کہ کسی [بھی صحیح ]روایت میں مذکور نہیں کہ عمر وبن عبد ود نے غزوہ بدر یا احد میں حصہ لیا ہو۔اورنہ ہی ان کے علاوہ دیگر مغازی وسرایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئے تھے ؛ ان میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ اس کا قصہ صرف غزوہ خندق میں مشہور ہوا ہے۔حالانکہ یہ قصہ صحاح ستہ اور اس طرح کی دوسری کتابوں میں مذکور نہیں ہے۔ جیساکہ بدر کے موقعہ پر تین افراد کی مبارزت طلبی کاذکر روایت کیا گیاہے کہ حضرت حمزہ ‘ عبیدہ اور علی رضی اللہ عنہم عتبہ ‘ شیبہ اور ولید کے مقابلہ میں نکلے تھے۔

احادیث و تفسیر کی کتابیں ان مشرکین کے تذکرہ سے بھری پڑی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیا کرتے تھے ‘ مثلاً ابو جہل ‘ عقبہ بن ابی معیط ؛ نضر بن الحارث ؛ وغیرہ اورسرداران کفارجیسے : ولیدبن مغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی کسی بھی گروہ میں عمرو بن عبد ود کا تذکرہ تک نہیں کیا۔اورنہ ہی یہ جنگ میں پیش پیش رہنے والوں میں سے تھا۔ توپھر اس کو قتل کرنا جن و انس کی عبادت سے کیسے افضل ہوسکتا ہے ؟ اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ یہ خبر تواتر کیساتھ منقول ہے کہ اس کے قتل سے مشرکین شکست کھا کر نہیں بھاگے تھے ؛ بلکہ وہ اپنی جگہ پر محاصرہ کیے رہے جیسا کہ اس سے پہلے تھے۔


صفحہ 5 از 5