Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایمانی تیاری

  علی محمد الصلابی

جب ایمان و کفر کی دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کو دعوت مبارزت دی، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا:

’’اللہ کے بندو! اللہ کے دین کی مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ یقیناً اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ اے مسلمانو! صبر سے کام لو، صبر کفر سے نجات اور اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے اور عار و رسوائی کو ختم کرنے والا ہے۔ اپنی صفوں سے ہٹنا نہیں۔ ایک قدم بھی ان کی طرف مت بڑھو، دشمن سے قتال میں پہل نہ کرو، دشمن کی طرف نیزوں کو سیدھا رکھو اور ڈھال کے ذریعہ سے اپنے آپ کو بچاؤ، خاموشی کو لازم پکڑو، دل ہی دل میں اللہ کا ذکر کرتے رہو، یہاں تک کہ میں تمہیں قتال کا حکم دوں، ان شاء اللہ۔‘‘

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’اے قرآن والو! اے اللہ کی کتاب کے حافظو! اے ہدایت کے مددگار و حق کے طرف دارو! اللہ کی رحمت اور اس کی جنگ صرف آرزوؤں سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت اور وسیع رحمت صرف سچوں کو عطا کرتا ہے۔ کیا تم اللہ کا یہ ارشاد نہیں سنتے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ۞( سورة النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا۔

اللہ تم پر رحم کرے، اپنے رب سے شرم کھاؤ کہ وہ تمہیں دشمن سے بھاگتا ہوا دیکھے حالانکہ تم اللہ کے قبضہ میں ہو، اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی پناہ دینے والا نہیں اور اس کے بغیر عزت وغلبہ ملنے والا نہیں۔‘‘

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’مسلمانو! نگاہیں نیچی رکھو، گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ، نیزے سیدھے کر لو، جب دشمن حملہ آور ہو تو انہیں ڈھیل دو یہاں تک کہ نیزوں کے نشانوں پر آجائیں پھر شیر کی طرح ان پر کود پڑو۔ اس ذات کی قسم جو سچائی کو پسند کرتا ہے اور اس پر ثواب سے نوازتا ہے اور جھوٹ کو ناپسند کرتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے، اچھائی کا بدلہ اچھائی سے دیتا ہے، میں نے یہ بات سنی ہے کہ مسلمان عنقریب فتح کریں گے، بستی بستی، قصر قصر۔ لہٰذا ان کی کثرت تعداد سے تمہیں خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے، اگر تم نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا تو وہ پرندوں کی طرح بکھر جائیں گے۔‘‘

ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’مسلمانو! تم اس وقت اہل وعیال سے الگ امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کے امدادی لشکر سے دور بلاد عجم میں ہو اور واللہ تم ایسے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جو تعداد میں بہت زیادہ اور تمہارے خلاف انتہائی سخت ہیں اور وہ اپنے ملک میں بیوی بچوں، مال واسباب اور اپنے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تمہیں اسی وقت ان سے نجات دے گا اور تمہیں اللہ کی رضا حاصل ہو گی جب تم ناپسندیدہ حالات میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہوئے ڈٹ کر مقابلہ کرو، اپنی تلواروں سے اپنی حفاظت کرو، آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کروں، یہی تمہارے لیے پناہ اور حصار ہو۔‘‘

پھر خواتین کے پاس گئے، انہیں پندو نصیحت کی

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 9)

پھر وہاں سے لوٹے اور نداء دی:

’’اے مسلمانو! وہ چیز آگئی جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔ سنو! یہ تمہارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جنت ہے اور تمہارے سامنے شیطان اور جہنم ہے۔‘‘

پھر اپنے مقام پر چلے گئے۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: جلد 163)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا:

’’لوگو! حور عین اور جنات نعیم میں اپنے رب کے جوار کی طرف آگے بڑھو۔ آج جس مقام پر کھڑے ہو یہ تمہارے رب کو سب سے زیادہ محبوب و پسندیدہ مقام ہے۔ خبردار ہو جاؤ، صابرین کا بڑا اونچا مقام ہے۔‘‘

ابوسفیان رضی اللہ عنہ ہر کردوس کے پاس جا کر کہتے:

’’اللہ، اللہ، تم عرب کی طرف سے دفاع کرنے والے اور اسلام کے انصار ہو۔ اور تمہارے دشمن روم کی طرف سے دفاع کرنے والے اور شرک کے انصار ہیں۔ اے اللہ! آج تیرا دن ہے، الہٰی اپنے بندوں پر اپنی مدد نازل فرما!‘‘ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 10)

عرب نصاریٰ میں سے ایک شخص نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کہا:

’’رومی کتنے زیادہ اور مسلمان کتنے کم ہیں۔‘‘

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’تو تباہ ہو، کیا تو مجھے رومیوں سے ڈراتا ہے؟ افراد کی تعداد کا اعتبار نہیں۔ اصل اعتبار نصرت وغلبہ اور شکست و خذلان کا ہے۔ واللہ میری خواہش تو یہ ہے کہ کاش آج میرا اشقر گھوڑا شفایاب ہو چکا ہوتا اور دشمن دوگنا ہوتا۔‘‘

عراق سے آتے ہوئے سیدنا خالدؓ کے گھوڑے کے پیر زخمی ہو گئے تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 10)

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پادریوں اور راہبوں کی آواز سنتے تو فرماتے:

اللہم زلزل اقدامہم، وارعب قلوبہم، وانزل علینا السکینۃ، وألزمنا کلمۃ التقوی، وحبِّب إلینا اللقاء، وارضنا بالقضاء۔

(ابوبکررجل الدولۃ: صفحہ 88)

’’اے اللہ! دشمن کے پاؤں اکھاڑ دے، ان کے دلوں کو مرعوب کر دے، ہمارے اوپر سکینت نازل فرما اور کلمہ تقویٰ پر ہم کو قائم رکھ، قتال ہمارے لیے محبوب کر دے اور قضاء وقدر پر ہمیں راضی کر دے۔‘‘

5۔ روم: رومی اپنے کبر وغرور کے ساتھ کالی بدلیوں کی طرح امڈ پڑے اور میدان و صحرا پر چھا گئے، بلند آواز سے چیخنے لگے، ان کے پادری وراہب انجیل پڑھ پڑھ کر ان کو سناتے اور جوش دلاتے۔

(ترتیب و تہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 163)

رومی یرموک سے قریب واقوصہ کے مقام پر جمع ہوئے اور یہ وادی ان کے لیے خندق ثابت ہوئی۔ رومیوں نے کردوس کا اسلوب اختیار کرتے ہوئے تیاری کی۔ بایں طور کہ دو لائنیں قائم کیں، ہر پانچ کو ایک دائرے میں رکھا اور ہر دو پانچ کے درمیان حد فاصل رکھا پھر دوسری لائن پہلی لائن کے پیچھے رکھی اور قتال میں مندرجہ ذیل ترتیب اختیار کی:

تیر اندازوں کو مقدمہ میں رکھا۔ ان کے ذمے تیر چلا کر قتال کا آغاز کرنا اور پھر میمنہ ومیسرہ کے پیچھے چلے جانا تھا۔

شہسواروں کو میمنہ ومیسرہ میں رکھا۔ ان کی ذمہ داری تیر اندازوں کی حفاظت و حمایت تھی، یہاں تک کہ واپس پیچھے چلے جائیں۔ کرادیس (پیادہ) ان کی ذمہ داری حملہ کرنا تھی۔

مقدمہ کا جرنیل جرجہ تھا اور میمنہ کا جرنیل ماہان اور دراقص تھا۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 166)