فصل:....[غزوہ سلسلہ ] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[غزوہ سلسلہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....[غزوہ سلسلہ ]

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ غزوۂ سلسلہ میں ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ کفار مدینہ میں آپ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: کون شخص جو میرا جھنڈا لیکر چلے گا؟‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ۔‘‘ چنانچہ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سات سو صحابہ کی معیت میں جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ جب آپ دشمنوں کی طرف پہنچے تو انھوں نے کہا : اپنے ساتھی کے پاس لوٹ جائیے، ہماری تعداد بہت ہے۔ آپ واپس چلے گئے ۔ دوسرے روز آپ نے فرمایا: کون شخص جو میرا جھنڈا لے کر چلے گا؟‘‘چنانچہ آپ نے جھنڈاحضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تھما دیا ‘ ان کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا۔

تیسرے روز آپ نے فرمایا :علی کہاں ہیں ؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں یہ موجود ہوں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دے کر رخصت کیا۔آپ ان لوگوں کی طرف روانہ ہوئے؛ صبح کی نماز کے بعد آپ وہاں پر پہنچے۔ آپ نے دشمن کے چھ سات آدمی ہلاک کر دیے۔ اور باقی بھاگ گئے اللہتعالیٰ نے امیر المؤمنین کے فعل کی قسم اٹھاتے ہوئے یہ آیت کریمہ نازل کی:

﴿وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحًا﴾(العادیات:۱)’’اور قسم ہے سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی !۔ 

[جواب]:ہم کہتے ہیں کہ:جاہل ترین انسان بھی آپ سے پوچھ سکتا ہے کہ اس واقعہ کی سند بیان کیجیے تاکہ اس واقعہ کا صحیح ہونا ثابت ہوجائے۔ جب کہ اہل علم آپ سے یہ کہہ سکتے ہیں : [ایسا کوئی غزوہ سرے سے وقوع پذیر ہی نہیں ہوا]۔ یہ غزوہ -اورجوکچھ تم نے اس کی حکایات بیان کی ہیں - اسی قسم کا جھوٹ ہے جو طرقیہ بیان کرتے ہیں ۔جو کہ کثرت کے ساتھ افسانہ گوئی میں جھوٹ بولتے ہیں جیسے عنترہ اور بطال کے لا یعنی افسانے لوگوں میں مشہور ہیں ۔اگرچہ عنترہ کے کچھ مختصر واقعات ہیں بھی۔اور ایسے ہی بطّال کی کچھ سوانح حیات موجود ہے ۔

یہ وہ واقعات ہیں جو بنو امیہ کی حکومت میں اہل روم کے ساتھ غزوات میں پیش آئے۔ لیکن ان کے ساتھ جھوٹوں نے اتنے واقعات ملالیے کہ ان کی کئی مجلد تیار کرلیں ۔اور ایسے ہی شطاّر کی حکایات ‘ احمد دنف ‘زیبق مصری جوکہ ایسی حکایات بیان کرتے ہیں جنہیں وہ اپنی طرف گھڑ کر ہارون اور جعفر کی طرف مسنوب کرتے ہیں ۔ پس ان غزوات کی کہانیاں بھی اسی جنس کی کہانیوں سے ہیں ۔ مندرجہ ذیل علماء نے سیر و مغازی کے فن میں بڑی مہارت حاصل کی تھی، مگر ان میں سے کسی نے بھی یہ واقعہ بیان نہیں کیا:

مغازی کے مشہور علماء کے اسماء یہ ہیں : عروہ، زہری، ابن اسحاق، موسیٰ بن عقبہ، ابو معشر سندھی، لیث بن سعد، ابو اسحاق فزاری، ولید بن مسلم، واقدی، یونس بن بکیر، ابن عائذ اور ان کے نظائر وامثال وغیرہ۔نہ ہی ان کا ذکر حدیث میں ہے اور نہ ہی اس بارے میں قرآن نازل ہوا ہے۔

خلاصۂ کلام! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی ؛ خصوصاً جن میں قتال کی نوبت پیش آئی ؛ بہت ہی مشہور و معروف ہیں ۔ اور اہل علم کے ہاں ان کے احوال کو تواتر کے ساتھ ضبط بھی کیا گیا ہے؛ اور تفسیر و حدیث ‘ فقہ وسیرت اور مغازی کی کتابوں میں ان کا تذکرہ بھی موجود ہے۔یہ وہ واقعات ہیں جن کو نقل کرنے کے دواعی و اسباب موجود تھے۔ یہ بات عادت و شریعت میں ممتنع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایسا غزوہ ہوا ہو؛ جس میں اتنا بڑا واقعہ پیش آیا ہو‘ مگر پھر بھی اہل علم میں سے کوئی ایک بھی اسے نقل نہ کرے۔ بالکل اسی طرح ممتنع ہے جیسے کوئی دن اور رات میں پانچ نمازوں سے زیادہ کو فرض قراردیدے۔ یا سال میں ایک ماہ سے زیادہ کے روزوں کو فرض قراردے ‘ جب کہ ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے۔اور جیسا کہ یہ بات ممتنع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کے ساتھ عراق میں غزوات کیے ہوں ‘یا پھر آپ یمن گئے ہوں ۔کسی ایک نے بھی یہ بات نقل نہیں کی۔اس طرح کی کئی دیگر باتیں بھی ہیں جو اگر روپذیر ہوئی ہوتیں تو انہیں نقل کرنے کے اسباب موجود تھے ۔

مذکورہ صدرسورت کریمہ ﴿اَ لْعَادِیَات﴾ کے نزول کے متعلق دو قول ہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ: یہ سورت مکہ میں اتری ہے ۔ یہ قول ابن مسعود ‘ عطاء اور عکرمہ اور دوسرے مفسرین رحمہم اللہ کا ہے۔ اس قول کی بنیاد پر شیعہ مصنف کا بیان کردہ واقعہ صاف ظاہر طور پر جھوٹا ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ: یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی۔یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے۔ یہ قول ان لوگوں کے قول کے ساتھ مناسب ہے جوکہ ﴿اَلْعَادِیَات﴾ کی تفسیر مجاہدین کے گھوڑوں سے کرتے ہیں ۔لیکن اس آیت کی تفسیر میں مشہور اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ﴿ اَلْعَادِیَات﴾ سے حاجیوں کے اونٹ مراد ہیں ، جو مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان بھاگتے ہیں ۔یہ تفسیر پہلے قول کے موافق ہے۔ اس کی روسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان خود شیعی دعوی کو جھٹلا رہا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور اکثر مفسرین اس سے مجاہدین کے گھوڑے مراد لیتے ہیں ۔

٭ اس روایت کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ کفار نے مسلمانوں کے لیے خیر خواہی سے کام لیا۔اورابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ اپنے ساتھی کے پاس واپس چلے جائیے چونکہ ہم بہت بڑی تعداد میں ہیں ۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بات جنگجو [یا پیش معرکہ ]کفار کی عادت کے خلاف ہے۔

٭ پھریہ کہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کبھی بھی پسپا نہیں ہوئے۔ بعض دروغ گو اپنی طرف یہ بات گھڑلیتے ہیں کہ حنین کے موقعہ پر یہ حضرات فرار ہوگئے تھے ؛ حقیقت میں یہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما پر جھوٹا الزام ہے۔[تفسیر ابن کثیر ۸؍۴۶۸؛ تفسیر سورۃ العادیات۔یہاں پر حضرت علی اور عبداللہ بن مسعود سے اس کی تفسیر میں اونٹ مراد لیے گئے ہیں جب کہ ابن عباس اس سے مراد گھوڑے لیتے ہیں ۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابن عباس کے قول کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: بدر کے دن تو ہمارے پاس گھوڑے نہیں تھے۔اس کے بعد ابن عباس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرف رجوع کرلیا تھا۔ دیکھیں : زاد المسیر لابن جوزی ۹؍۲۰۶؛ ابن جریر ۸؍۴۸۷۔]

صفحہ 1 از 3