فصل:....[غزوہ سلسلہ ] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[غزوہ سلسلہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

٭ نیز یہ کہ احد اورخندق کے علاوہ کسی بھی موقع پر کسی ایک نے بھی مدینہ پر حملہ کاارادہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی ان دو غزوات کے علاوہ کبھی کفار مدینہ کے اتنے قریب پہنچے ہیں ۔ غزوہ غابہ میں بعض لوگوں نے مدینہ کی چراگاہوں پر حملہ کیا تھا۔ جوکچھ غزوہ سلسلہ کے بارے میں نقل کیا گیا ہے ‘ وہ ایسا کھلاہوا جھوٹ ہے کہ جس کا ذکر جہلاء اور کذابین ہی کرسکتے ہیں ۔

٭ جب کہ ذات سلاسل ایک سریہ تھا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا تھا۔ اس لیے کہ یہاں پر ہدف بنو عذرہ کے لوگ تھے ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اور بنوعذرہ کے مابین قرابت تھی۔تو آپ نے انہیں اس لیے روانہ فرمایا کہ شاید یہ لوگ اسلام لے آئیں ۔ پھر ان کے پیچھے حضرت ابو عبید ہ بن جراح کو روانہ فرمایا ۔ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر تک نہیں ۔ یہ جگہ شام کے قریب اور مدینہ سے بہت دور تھی۔

٭ اس غزوہ کی ایک یخ بستہ [ٹھنڈی]رات میں حضرت عمرو بن العاض رضی اللہ عنہ کو احتلام ہوگیا تھا ؛ آپ نے تیمم کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوصبح کی نماز پڑھا دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں خبر دی گئی تو آپ نے پوچھا:

’’اے عمرو! تو نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی؟‘‘

میں نے غسل نہ کرنے کا سبب بیان کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:﴿وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ﴾۔ [النساء۲۹]’’تم اپنے آپ کو قتل مت کرو اور اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے اور کچھ نہ کہا ؛[بلکہ اسے برقرار رکھا]؛ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کا عذر واضح ہوگیا تھا۔‘‘[سنن ابوداؤد؛ کتاب الطہارۃ ؛ باب: إذا خاف الجنب البرد أیتیمم؟:ح333۔ مستدرک الحاکم ۱؍ ۱۷۷۔ قال: صحیح علی شرط الشیخین‘ و وافقہ الذہبي۔ وصححہ الألباني في أرواء الغلیل۔]

٭ علماء کرام رحمہم اللہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: تو نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی؟ کیا یہ سوال کے لیے ہے ؛ یعنی کیا تم نے جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھا دی ۔ تو جب آپ نے خبر دی کہ آپ نے تیمم کرکے نماز پڑھائی ہے ‘ جنابت کی حالت میں نہیں ؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کو برقرار رکھا۔ یا پھر یہ خبر دی جاری ہے کہ : کہ تم جنابت کی حالت میں تھے ‘ اور تیمم کرنے سے نماز مباح ہوجاتی ہے اس لیے کہ تیمم جنابت کو ختم کردیتا ہے ۔ یہ دوقول ہیں ۔ زیادہ ظاہر اور قوی پہلا قول ہے ۔

غزوۂ بنی مصطلق میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنی مصطلق میں سے مالک اور اس کے بیٹے کو قتل کردیا اور بہت سے لوگوں کو قیدی بنا لیا تھا۔ان جملہ قیدیوں میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بنت الحارث بن ابی ضرار بھی تھیں ۔جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے اختیار کرلیا ۔ آپ کا والد اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض گزار ہوا: یارسول اللہ ! میری بیٹی انتہائی شریف خاتون ہے؛ اسے قیدی نہیں بنایا جاسکتا ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا کہ اسے اختیار دیا جائے۔ اس کے والد نے کہا: آپ نے بہت اچھی او رخوبصورت بات کہی ہے۔ پھر اس نے کہا: اے میری بیٹی اپنی قوم کو رسوا نہ کرنا۔ اس پر حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں ۔‘‘ [انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں کہ:سب سے پہلے جس بھی منقول سے احتجاج کیا جائے‘ اس کی سند بیان کرنی ضروری ہوتی ہے۔ یا پھر اسے ایسی کتاب کی طرف منسوب کیا جائے جس سے حجت قائم ہوسکتی ہو۔ وگرنہ اس واقعہ کا علم کیسے ہوگا۔ 

پھریہ بھی کہتے ہیں : یہ واقعہ روافض کی بے اصل و بے اسنادمن گھڑت مرویات میں شامل ہے۔[ شیعہ کی بیان کردہ روایات یا تو بلا اسناد ہوتی ہیں یا ان کے راوی مجہول، کذاب اور متہم بالکذب ہوتے ہیں ]۔ یہ واقعہ کسی سیرت نویس نے نہیں لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بنی مصطلق میں یہ کارنامہ سرانجام دیا ؛اورنہ ہی حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنایا تھا۔ جویریہ رضی اللہ عنہا کو جب قیدی بنایا گیا تو انھوں نے بدل کتابت ادا کرکے آزاد ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم ادا کرکے ان کو آزاد کرالیا اور پھر ان کے ساتھ عقد نکاح باندھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتۂ مصاہرت کے احترام میں سب لوگوں نے اپنے اپنے قیدی رہا کردیے۔اور کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال ہیں ۔[ابی داؤد، کتاب الخراج۔ باب فی خبر بنی نضیر(ح:۳۰۰۴)، مصنف عبد الرزاق(۹۷۳۳)۔] نہ ہی ان کا والد آیا اور نہ ہی کسی چیز میں کوئی اختیار دیا۔

صفحہ 2 از 3