فصل:....[غزوہ سلسلہ ] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[غزوہ سلسلہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

سنن ابو داؤد میں ہے:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: جویریہ رضی اللہ عنہا بنت حارث بن المصطلق (جنگ میں پکڑنے کے بعد مال غنیمت کی تقسیم میں) حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا انکے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں ۔ انہوں نے اپنے نفس(کو آزاد کرانے پر)بدل کتابت دینے کا معاہدہ کر لیا۔ اور وہ ایک خوبصورت ملاحت والی عورت تھیں جن پر نظریں پڑتی تو نظروں میں بھا جاتی تھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدل کتابت کے بارے میں سوال کرتی ہوئی آئیں ۔جب وہ دروازہ میں کھڑی ہو گئیں تو میں نے انہیں دیکھا اور ان کے کھڑے ہونے کو ناپسند کیا۔ اور مجھے معلوم تھا کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ویسے ہی دیکھیں گے جیسے میں نے دیکھا ہے۔حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی: یا رسول اللہ! میں جویریہ بنت الحارث ہوں اور جو میرا پہلے حال تھا، وہ آپ پر مخفی نہیں ہے۔ اور میں ثابت بن قیس بن شماس کے حصہ میں آئی ہوں ؛ اور میں نے اسے اپنے نفس (کی آزادی پر)معاہدہ کتابت کر لیا ہے ۔پس میں آپ کے پاس اپنے بدل کتابت کے بارے میں سوال کرنے آئی ہوں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے اس سے بہتر کچھ اور نہیں ہے؟ وہ کہنے لگیں کہ: وہ کیاہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ:’’ میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دوں اور تم سے نکاح کرلوں ۔‘‘ وہ کہنے لگی میں نے بیشک کر لیا (یعنی میں بخوشی راضی ہوں )۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’ جب لوگوں نے یہ سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرلیا ہے ؛تو انہوں نے وہ تمام قیدی(بنی مصطلق کے)جو ان کے قبضہ میں تھے، انہیں چھوڑ دیا اور انہیں آزاد کر دیا۔ اور کہنے لگے کہ:’’ یہ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں ۔‘‘

[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ]: ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی اپنی قوم پر جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بابرکت ہو؛ ان کے سبب سے سو قیدی بنی المصطلق کے آزاد ہوگئے۔‘‘[ سنن ابوداد:ح540؛ صحیح]


صفحہ 3 از 3