Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قتال سے قبل مذاکرات

  علی محمد الصلابی

جب دونوں افواج ایک دوسرے سے قریب آگئیں، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم رومی فوج کی طرف آگے بڑھے، ان کے ساتھ ضرار بن ازور اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے اعلان کیا: ہم تمہارے امیر سے ملنا چاہتے ہیں۔ انہیں تذارِق سے ملنے کی اجازت دے دی گئی۔ وہ ریشمی خیمہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ صحابہ نے کہا: ہم اس خیمہ میں داخل ہونا جائز نہیں سمجھتے۔ اس نے ریشمی قالین بچھوائی۔ صحابہ کرامؓ نے اس پر بھی بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ پھر جہاں صحابہؓ نے چاہا وہاں وہ بیٹھا۔ صلح سے متعلق مذاکرات شروع ہوئے۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں اللہ کی طرف دعوت دے کر واپس ہو گئے، لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 10)

ولید بن مسلم کا بیان ہے کہ ماہان نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ وہ دونوں افواج کے درمیان تشریف لائیں اور مصالحت کی بات چیت شروع کریں چنانچہ ماہان نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ مشقت و بھوک نے تمہیں اپنے ملک سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ آؤ ہم تم میں سے ہر فرد کو دس دس دینار اور کپڑا اور کھانا دیتے ہیں اور تم اپنے ملک واپس ہو جاؤ اور پھر جب دوسرا سال شروع ہوگا تو پھر ہم تمہارے لیے اتنا ہی بھیج دیں گے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا: ہمارے یہاں آنے کا وہ سبب نہیں ہے جو تم نے ذکر کیا ہے، بلکہ ہم تو خون کے پیاسے لوگ ہیں اور ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ رومیوں کا خون سب سے بہترین ہوتا ہے، اس لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ یہ سن کر ماہان کے ساتھیوں نے کہا: عربوں کے بارے میں ہم یہی سنا کرتے تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 10)