فصل:....[غزوہ خیبر اورحضرت علی رضی اللہ عنہ ]
امام ابنِ تیمیہؒفصل:....[غزوہ خیبر اورحضرت علی رضی اللہ عنہ ]
[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’غزوۂ خیبر میں اللہتعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باری باری ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہما کو جھنڈا عنایت فرمایا مگر دونوں نے شکست کھائی۔پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کوعلم عطاکیا؛ آپ کی آنکھوں میں تکلیف تھی؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب ان کی آنکھوں میں لگایا۔آپ جب نکلے تو مرحب کوقتل کیا؛باقی لوگ شکست کھاکر بھاگ گئے۔انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کردیا۔امیر المؤمنین نے قلعہ کا دروازہ اکھاڑ کر اس کا پل بنا لیا۔ اس دروازہ کو بیس آدمی بند کیا کرتے تھے۔مسلمان قلعہ میں داخل ہوگئے اور مال غنیمت حاصل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ کی قسم! علی رضی اللہ عنہ نے یہ دروازہ پانچ سو افراد کی قوت سے نہیں اکھاڑا جاسکتا تھا یہ صرف تائید ربانی سے اکھاڑا گیاہے۔ فتح مکہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت و بسالت کی رہین منت تھی۔‘‘
[جواب]:ہم کہتے ہیں : سب سے پہلے تو جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ ان سے پوچھا جائے کہ علماء میں سے کس نے یہ واقعہ نقل کیا ہے؟ اور اس کی سند اور صحت کہاں ہے؟ یہ ایک صریح جھوٹ ہے۔ اس لیے کہ خیبر کی فتح ایک ہی دن میں حاصل نہیں ہوئی تھی۔بلکہ خیبر کے متعدد قلعے تھے؛ بعض جنگ سے فتح ہوئے تھے اور بعض مصالحت سے۔ یہود نے مصالحت کے بعد صلح کی چیزوں میں سے کچھ چیزیں چھپا دیں اور پھر جنگ چھیڑ دی۔ حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے ہزیمت نہیں اٹھائی تھی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دروازہ اکھاڑا تھا؛مگر شیعہ کا یہ بیان کہ اسے پل بنالیا تھاجھوٹ ہے ۔[یہ بھی بے اصل ہے کہ بیس آدمی اسے بند کیا کرتے تھے]۔
٭ شیعہ کادعوی کہ: ’’ فتح مکہ آپ کی ہی رہین منت ہے۔‘‘یہ ایک کھلاہوا جھوٹ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اتنا ہی حصہ لیا تھا جتنا دیگر صحابہ نے۔ فتح مکہ کی بہت ساری روایات متواترہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔آپ نے اپنی بہن ام ہانی کے دو دامادوں کوقتل کرنے کی کوشش تھی؛ جنہیں ام ہانی رضی اللہ عنہا نے پناہ دے رکھی تھی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پناہ کو برقرار رکھا؛ [اور فرمایا: جسے ام ہانی نے پناہ دی ہے ‘ ہم بھی اسے پناہ دیتے ہیں ]۔اور پھر آپ نے ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنے کاارادہ کیا تھا ؛ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہوئے تو آپ نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ہم فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازو پراور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کو بائیں بازو اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم کو لشکر کے پچھلے حصہ اوربطن وادی پر متعین کیا تھا ۔ پھرآپ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو بلا کر انصار کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ انصار بھاگتے ہوئے آئے۔ فرمایا: اے انصار کی جماعت ! کیا تم قریش کے کمینوں کو دیکھ رہے ہو؟ عرض کیا:’’ ہاں ۔‘‘ فرمایا :جب میدان جنگ میں کل ان سے ملو تو انھیں تہس نہس کردو۔‘‘ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر بتایا کہ یوں انھیں ملیا میٹ کردو۔اور فرمایا کوہ صفا کے قریب یہ مقابلہ ہو گا۔ اگلے روز جو شخص بھی نظر آیا انصار نے اسے موت کی نیند سلا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر چڑھ گئے۔ انصار کوہ صفا کے اردگرد گھومنے لگے۔ اسی دوران ابو سفیان آئے اور کہا: یارسول اللہ! قریش کا نام و نشان مٹ گیا۔ آج کے بعد قریش کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ باامن رہے گا، جو ہتھیار ڈال دے اس سے بھی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ جو اپنا دروازہ بند کرلے گا ہم اسے بھی کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘[صحیح مسلم(ح:۱۷۸۰)، سنن ابی داؤد(ح:۳۰۲۴)]
صحیحین میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
’’ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے تو قریش کو اس کی خبر پہنچ گئی ابوسفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء(قریش کی جانب سے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر لینے کے لیے نکلے یہ تینوں چلتے چلتے (مقام)مر الظہران تک پہنچے۔ وہاں بکثرت آگ اس طرح روشن دیکھی جس طرح عرفہ میں ہوتی ہے۔ ابوسفیان نے کہا یہ آگ کیسی ہے؟ جیسے عرفہ میں ہوتی ہے ۔بدیل بن ورقاء نے جواب دیا: بنو عمرو کی آگ ہوگی۔ ابوسفیان نے کہا: بنو عمرو کی تعداد اس سے بہت کم ہے۔ ان تینوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظوں نے دیکھ کر پکڑ لیا اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ابوسفیان تومسلمان ہو گئے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو لشکر اسلام کی تنگ گزرگاہ کے پاس ٹھہرا، تاکہ یہ لشکر اسلام کا نظارہ کر سکیں ۔ انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے وہاں کھڑا کردیا ۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبائل گزرنے شروع ہوئے تو لشکر کا ایک ایک دستہ ابوسفیان کے پاس سے گزرنے لگا۔چنانچہ جب ایک دستہ گزرا تو ابوسفیان نے پوچھا اے عباس!یہ کون سا دستہ ہے؟ انہوں نے کہا یہ قبیلہ غفار ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ:’’ میری اور قبیلہ غفار کی تو لڑائی نہ تھی ۔پھر قبیلہ جہینہ گزرا تو اسی طرح کہا ۔پھر سعد بن ہذیم گزرا تو اسی طرح کہا ۔پھر سلیم گزرا تو اسی طرح کہا ۔پھر ایک دستہ گزرا کہ اس جیسا دیکھا ہی نہ تھا ؛ابوسفیان نے کہا :یہ کون ہے؟ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا :’’یہ انصاراور ان کے سپہ سالار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں جن کے پاس پر چم ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا :اے ابوسفیان!آج کا دن جنگ کا دن ہے؛ آج کعبہ (میں کافروں کا کشت و خون)حلال ہوجائے گا ۔ابوسفیان نے کہا :اے عباس!ہلاکت(کفار)کا دن کتنا اچھا ہے؟ پھر ایک سب سے چھوٹا دستہ آیا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے (مہاجر)اصحاب رضی اللہ عنہم تھے ۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پر چم حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا :’’آپ کو معلوم ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کہا ہے؟ ابوسفیان نے کہا :ایسا ایسا کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد نے صحیح نہیں کہا ؛لیکن آج کا دن تو وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کعبہ کو عظمت و بزرگی عطا فرمائے گا۔ اور کعبہ کو آج غلاف پہنایا جائے گا۔ عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر چم کو(مقام)حجون میں نصب کرنے کا حکم دیا۔‘‘[صحیح بخاری:حدیث نمبر 1448 ]