Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

میدان قتال میں رومی جرنیل کا قبول اسلام

  علی محمد الصلابی

رومی فوج کا ایک بڑا جرنیل جرجہ نکلا اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو آواز دی، سیدنا خالدؓ اس کے قریب پہنچے یہاں تک کہ دونوں کے گھوڑوں کی گردنیں آپس میں جا ملیں۔ جرجہ نے کہا: اے خالد! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہوں گا، آپ صحیح صحیح مجھے بتائیے، جھوٹ مت بولیے گا کیونکہ جھوٹ بولنا آزاد مرد کی شان کے منافی ہے۔ مجھے دھوکہ میں مت رکھیے گا۔ کریم النفس شخص اللہ کے ساتھ نرم پڑنے والے کو دھوکا نہیں دیا کرتا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی پر آسمان سے کوئی تلوار اتاری تھی جسے انہوں نے تمہیں عطا کیا ہے کہ جس پر بھی اسے کھینچتے ہو شکست دے دیتے ہو؟

خالد: نہیں۔

جرجہ: پھر آپ کا نام سیف اللہ کیوں پڑا؟

خالد: اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، آپ نے ہمیں دعوت دی، ہم نے آپ کی بات نہ مانی اور آپ سے ہم سب دور ہو گئے پھر ہم میں سے بعض لوگوں نے آپ کی تصدیق کی اور آپ کی پیروی اختیار کی اور بعض نے آپ کی تکذیب کی اور آپ سے دوری اختیار کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت بخشی۔ ہم نے آپ سے بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: تم اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو، جسے اللہ نے مشرکین پر کھینچا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 13)

اور آپ نے میرے لیے فتح ونصرت کی دعا کی۔ اسی وجہ سے میرا نام سیف اللہ پڑ گیا، میں مشرکین پر مسلمانوں میں سب سے زیادہ سخت ہوں۔

جرجہ: آپ لوگ کس بات کی طرف دعوت دیتے ہیں؟

خالد: ہم لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اس کے اقرار کی دعوت دیتے ہیں۔

جرجہ: جو آپ کی دعوت نہ قبول کرے؟

خالد: وہ جزیہ ادا کرے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

جرجہ: جو جزیہ دینے کے لیے تیار نہ ہو؟

خالد: ہم اس کے خلاف اعلان جنگ کریں گے پھر اس سے قتال کریں گے۔

جرجہ: آج جو آپ کی دعوت قبول کرے اور اس دین میں داخل ہو جائے، اس کا کیا مقام ہوگا؟

خالد: اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو فرض کیا ہے اس میں ہمارا ایک ہی مقام ہے، شریف و رذیل اور اول اور آخر سب برابر ہیں۔

جرجہ: کیا آج جو آپ کے دین میں داخل ہوگا اسے آپ لوگوں ہی کی طرح اجر و ثواب ملے گا؟

خالد: ہاں، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

جرجہ: وہ آپ کے برابر کیسے ہوگا، حالانکہ آپ لوگوں نے اس سلسلہ میں سبقت کی ہے؟

خالد: ہم نے یہ دین قبول کیا اور اپنے نبی سے بیعت کی، جبکہ آپﷺ ہمارے درمیان زندہ تھے، آسمانی خبریں آپﷺ کے پاس آتی تھیں اور ہمیں کتاب کی خبر دیتے اور معجزات دکھاتے تھے، اور جو ہم نے دیکھا اور سنا جو اس کو دیکھے اور سنے اس پر لازم ہے کہ اسے قبول کرے اور پیروی کرے۔ تم لوگوں نے اس چیز کا مشاہدہ نہیں کیا جس کا ہم نے مشاہدہ کیا اور جو عجائب اور دلیلیں ہم نے سنیں وہ تم نے نہیں سنیں، تو تم میں سے جو شخص اخلاص نیت کے ساتھ اس دین میں داخل ہو وہ ہم سے افضل ہے۔

جرجہ: واللہ آپ سچ کہہ رہے ہیں، دھوکا تو نہیں دے رہے ہیں؟

خالد: اللہ کی قسم میں نے تم سے سچ بات کہی ہے اور جو تم نے سوال کیا ہے اس پر اللہ گواہ ہے۔

یہ سن کر جرجہ نے اپنی ڈھال پلٹ دی اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو گیا اور عرض کیا: مجھے اسلام سکھائیے؟ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اسے لے کر اپنے خیمہ میں آگئے، اس کو غسل کرنے کا حکم دیا اور اسے دو رکعت نماز پڑھائی۔ جرجہ کے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو جانے کے ساتھ ہی رومیوں نے زور دار حملہ کیا جس سے مسلمان اپنی جگہوں سے ہٹ گئے، صرف دفاعی دستہ اپنی جگہ ڈٹا رہا، جس پر عکرمہ بن ابی جہل اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہما متعین تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 13)