فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 9

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:پانچویں دلیل:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ غیب کی اور وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے قبل از وقت آگاہ کردیا کرتے تھے۔جب حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے جب عمر ہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ:’’اللہ کی قسم ! آپ کا مقصد عمر ہ کرنا نہیں ، بلکہ بیشک آپ بصرہ جانا چاہتے ہیں ۔ آپ کا ارشاد بجا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ذی قار کے مقام پر بیعت لے رہے تھے تو آپ نے فرمایا تھا: کوفہ کی طرف سے ایک ہزار آدمی آئیں گے۔نہ کم ہوں گے نہ زیادہ؛ وہ موت پر میری بیعت کریں گے۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ ان میں سے آخری شخص اُوَیس قرنی تھے۔ آپ نے پستان والے خارجی کے قتل کی خبر دی تھی۔چنانچہ ویسے ہی ہوا۔نہروان کے قصہ میں ایک شخص نے قوم کے نہر کوعبور کرجانے کی خبردی ۔تو آپ نے فرمایا: ’’ وہ ہرگز اسے عبور نہیں کرسکیں گے ۔‘‘ پھر ایک دوسرے نے آکریہی خبر دی تو آپ نے فرمایا: ’’وہ ہرگز عبور نہیں کرسکیں گے ؛ بلکہ یہی جگہ ان کے موت کاگھاٹ ثابت ہوگی ‘‘پس ویسے ہی ہوا۔‘‘ 

آپ نے قبل از وقت اپنے قتل سے آگاہ کردیا تھا۔ آپ نے ابن شہر یار ملعون کے بارے میں فرمایا تھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے؛اور اسے سولی دی جائے گی ۔چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے سولی چڑھا دیا۔ آپ نے میثم کھجور فروش سے کہا تھا کہ دارِباب عمرو پر دس آدمیوں کو پھانسی دی جائیگی، ان میں دسواں شخص میثم ہو گا۔‘‘اوروہ ان کے تختہ سے چھوٹا ہوگا۔ آپ نے اسے وہ کھجور کا درخت بھی دکھایا تھا جس پر اسے پھانسی دی جانے والی تھی اور اسی طرح وقوع میں آیا۔

٭ آپ نے رُشید الہجَری کو بتایا تھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے اور اسے پھانسی دی جائے گی؛ اوراس کی زبان کاٹ دی جائے گی۔چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ آپ نے خبر دی تھی کہ حجاج کمُیل بن زیادکوقتل کرے گا؛ اور قنبر کو ذبح کرے گا۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔

٭ ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ:’’ میرے بیٹے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا جائے گا اور تم اس کی مدد نہیں کرو گے ؛اوراسی طرح ہوا۔اورآپ نے اپنے بیٹے کی قتل گاہ کے بارے میں خبر دی تھی۔

٭ نیز آپ نے فرمایا تھا کہ:’’ بنو عباس آسانی سے اقتدار سنبھال لیں گے۔اور پھر ترک ان سے ملک چھینیں گے ۔ آپ نے فرمایا:’’بنی عباس کی شاہی آسان ہوگی؛ اس میں کوئی سختی نہیں ہوگی۔ اور اگر ترک و دَیلم اور ہندو سندھ ؛ بربر[افریقہ ] اورطیلسان[فارس] کے لوگ مل کر ان کی سلطنت چھیننا چاہیں تو اس پر قادر نہ ہوں گے؛ جب تک کہ ان کے موالی اور ارباب دولت ان سے الگ نہ ہو جائیں ۔ ترک کا ایک بادشاہ ان پر مسلط ہو گا وہ اس جگہ سے آئے گا جہاں سے ان کی سلطنت کا آغاز ہوا تھا۔ جس شہر پر سے اس کا گزر ہو گا اسے فتح کرے گا ۔ اس کے مقابلہ کے لیے جو جھنڈا بلند کیا جائے گا وہ اسے سرنگوں کردے گا، جو اس کی مخالفت کرے گا اس کے لیے ہلاکت و تباہی ہے۔ وہ برابر ان سب پر کامیابی حاصل کرتا رہے گا ۔پھر یہ کامیابی میرے اہل بیت کے ایک شخص کو سونپ دیگا۔[یعنی اس کی کامیابی کا انحصار میرے اہل بیت کے ایک شخص پر ہو گا]جو حق کی بات کہے گا اور حق پر عمل پیرا ہو گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس طرح فرمایا تھا اسی طرح ہوا اور ہلاکو خان خراسان کے علاقہ سے نکل کر حملہ آور ہوا۔‘‘اور آپ سے ہی بنی عباس کے اقتدار کی ابتداء ہوئی۔ یہاں تک کہ ابومسلم خراسانی نے ان کی بیعت کرلی۔‘‘ ( شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا۔)

[جواب]:ہم کہتے ہیں :’’ بعض غیبی امور کی خبریں دینا توجو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کم درجہ کے صلحاء بھی اس طرح کی خبریں دیا کرتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان تو اس سے بہت زیادہ بلند وارفع ہے۔حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے اتباع کاروں میں ایسے لوگ تھے جو اس سے بڑھ کر خبریں دیا کرتے تھے۔مگر اس کے باوجود یہ لوگ امامت و خلافت کے اہل نہ تھے۔اورنہ ہی وہ اپنے زمانہ کے باقی لوگوں سے افضل تھے۔اسی کی مثالیں ہمارے اس دور میں بھی موجود ہیں ‘اور دیگر ادوار میں بھی ہوتی رہی ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ و حذیفہ رضی اللہ عنہما و دیگر صحابہ سے اس سے کئی گنا زیادہ خبریں نقل کی گئی ہیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً ایسی روایات بیان کرتے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کبھی مرفوع کرتے اور کبھی موقوف روایت کرتے ہیں ۔ مگر اس کا حکم مسند کا ہوتاہے ۔جن باتوں کی آپ نے خبر دی ہے ‘یا دوسری اس قسم کی باتیں یا تو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر بیان کی ہیں یا وہ ان کے کشف پر مبنی ہیں ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح کی کئی خبریں دی ہیں ۔

کرامات اولیاء اور ایسی خبروں کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ؛ ان میں : امام احمد کی کتاب الزہد۔ ابو نُعَیم کی حِلیۃ الاولیاء ؛ ابن جوزی کی ’’صفوۃ الصفوۃ ‘‘اور ابن ابی الدنیا ،ابو بکر بن خلال اور لالکائی کی کتابوں میں کرامات الاولیاء کا بیان ہے۔ ان حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پیروکاروں کے قصے بھی ہیں جیسے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نائب تھے ؛ اور ابو مسلم خولانی؛ اور اس کے بعض اتباع کار۔اور ابی صہباء ؛ عامر بن عبد قیس ؛ اور ان دیگر لوگوں کے قصے ہیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہزار درجہ افضل ہیں ۔ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ کہہ سکیں کہ یہ انسان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل ہے ؛ پھر خلفاء راشدین کی تو شان ہی نرالی ہے۔

شیعہ مصنف نے غیبی خبروں سے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو یہ واقعات تحریر کیے ہیں ؛ ان میں سے کسی ایک واقعہ کی بھی کوئی سند ذکر نہیں کی جس کی وجہ سے اس کی صحت کا پتہ چل سکے۔ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا صحیح ہونا معلوم ہے ؛ اور کچھ چیزوں کا جھوٹ ہونا صاف ظاہر اورواضح ہے۔اور کچھ باتوں کے سچ یا جھوٹ ہونے کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ۔

صفحہ 1 از 9