فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 9

ترک بادشاہ کے بارے میں جو خبر ذکر کی ہے ‘وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام ہے۔ اس لیے کہ آپ نے اپنی کامیابی اہل بیت کے کسی شخص کو نہیں سونپی تھی؛ یہ جھوٹ بعد میں آنے والے شیعہ نے گھڑ لیا ہے ۔ [ ہلاکو نے کسی علوی کو ضرر نہیں پہنچایا تھا ]

غیب کی خبروں پر مشتمل کتب جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا اہل بیت کی طرف منسوب ہیں ‘ یہ تمام جھوٹ ہیں ؛ جیسے کتاب ’’الجفر ؛ کتاب البطاقہ وغیرہ دیگر کتابیں ۔ اور ایسے ہی جو علوم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں کہ یہ علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی صحابہ کرام کو چھوڑ کر بطور خاص آپ کو بتایا تھا؛ [یہ بھی جھوٹی باتیں ہیں ]۔

ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ جس کسی دوسرے صحابی کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی صحابہ کرام کو چھوڑ کر انہیں کوئی خاص علم سیکھایا تھا: تو یہ سب باتیں جھوٹ ہیں ۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:’’ کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ۔ اور بعض دفعہ اس طرح کہا گیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ؟

تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو اگایا اور جان کو پیدا کیا، کہ ہمارے پاس وہی چیز ہے جو قرآن میں ہے سوائے اس فہم کتاب کے جو کسی شخص کو دیا جاتا ہے اور اس کے جو صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟، انہوں نے کہا کہ: دیت اور قیدی کو آزاد کرنے کے متعلق احکام ہیں اور یہ کہ مسلم کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے گا۔‘‘[صحیح بخاری:ج3 :ح 1811]

ایسے ہی وہ تمام روایات جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کے بارے میں روایت کی جاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی خاص علم باطن سکھایا تھا؛ یہ تمام باتیں باطل ہیں ۔

یہ اس روایت کے منافی نہیں ہے جسے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے آپ فرماتے ہیں :

((حفظت من رسول اللہ رضی اللہ عنہم وعائین فأما أحدہما فبثثتہ وأما الآخر فلو بثثتہ قطع ہذا البلعوم )) [البخاری کتاب العِلمِ، باب حِفظِ العِلم]

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ظرف(علم کے)یاد کرلیے ہیں ، ان میں سے ایک کو تو میں نے ظاہر کردیا، اور دوسرے کو اگر ظاہر کروں تو کھانے کی رگ کاٹ لی جائے ۔‘‘

بلاریب یہ حدیث صحیح ہے۔ اور اس میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کوئی خاص علم سکھایا ۔بلکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ دوسرے صحابہ سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے۔ اس لیے آپ نے وہ چیزیں یاد رکھیں جو دوسرے صحابہ یاد نہ رکھ سکے۔

ایسے ہی صحیحین میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ اللہ کی قسم !میں لوگوں میں سب سے زیادہ ان فتنوں کو جانتا ہوں جو میرے اور قیامت کے درمیان پیش آنے والے ہیں ۔ اور مجھے ان فتنوں کے بتانے سے صرف یہی بات مانع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض راز کی باتیں مجھے بتائی ہیں جنہیں میرے علاوہ کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں فرمایا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تھے جس میں میں بھی موجود تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کو شمار کرتے ہوئے ....حذیفہ نے کہا:’’ میرے علاوہ باقی سب قوم مجلس اب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ۔‘‘[صحیح مسلم:حدیث نمبر 2763۔ ]

صحیحین میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ؛ اوراس کھڑے ہونے کے وقت سے لے کر قیام قیامت تک کے تمام حالات کو بیان کردیا پس جس نے انہیں یاد رکھا اس نے انہیں یاد رکھا؛ اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔‘‘[صحیح مسلم: حدیث نمبر 2764۔]

حضرت ابوزید عمرو بن اخطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے توہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا ؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا؛ یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا ۔پھر اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا ۔یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہو چکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سے سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔‘‘[صحیح مسلم:ح 2768۔ ]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتح خیبر والے سال اسلام قبول کیا۔آپ کو چار سال سے بھی کم عرصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی ۔ان کی اس تھیلی میں علم دین ‘ ایمان ؛ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں سے کوئی بھی چیز نہیں تھی۔ اس میں مستقبل کے امور کی خبریں تھیں ۔مثال کے طورپر وہ فتنے جو مسلمانوں کے مابین پیش آئے؛ جیسے جنگ جمل اور صفین کا فتنہ؛ ابن زبیر کا فتنہ ؛ مقتل حسین رضی اللہ عنہ اور اس طرح کی دیگر خبریں تھیں ۔ اسی لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کے ساتھ فتنوں میں شریک نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اگر ابو ہریرہ تم سے یہ حدیث بیان کرتے کہ تم اپنے خلیفہ کو قتل کرو گے ‘اور تم ایسے ایسے کام کروگے تو تم لوگ کہتے ابو ہریرہ جھوٹ بول رہا ہے ۔‘‘

صفحہ 2 از 9