فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 9

وہ حدیث جسے رازدان نبوت حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے ‘جسے ان کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا؛ صحیح بخاری میں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے : حضرت علقمہ رحمہ اللہ شام گئے ؛جب آپ وہاں پہنچے تو ایک مسجد میں آئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی کہ یا اللہ ہمیں کوئی اچھاہم نشین عطا کر۔ پھر حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا کہ: کوفہ کا رہنے والا ہوں ۔ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: کیا تم میں وہ شخص نہیں ہے جو اس راز کا جاننے والا ہے کہ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا؟ یعنی حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔کیا تم میں وہ شخص نہیں ہے، یا یہ کہا کہ کیا تم میں وہ شخص نہیں تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر شیطان سے پناہ دیدی ہے یعنی عمار رضی اللہ عنہ ؟میں نے کہا: کیوں نہیں ! ضرور ہیں ....[یہ ایک لمبی حدیث کا حصہ ہے۔][صحیح بخاری:حدیث نمبر 1215۔]

یہ راز بعض ان منافقین کی شخصیات کا تعین تھا جو غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ رات کے اندھیرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی رسی کھول کرآپ کو گرادیں ۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کردیا۔ اس وقت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ قریب تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان لوگوں کے نام بتادیے ۔ پس جب کوئی مجہول الحال انسان مرجاتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت تک اس کا جنازہ نہ پڑھتے جب تک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اس جنازہ میں شریک نہ ہوں ۔ اس لیے کہ آپ کو اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں منافقین کا جنازہ نہ پڑھا دیں ۔

پس بعض صحابہ اور صالحین کا مستقبل کے بعض امور کو جان لینا اس بات کو واجب نہیں کرتا کہ وہ ان تمام امور کا عالم ہے۔وہ غالی شیعہ جو مطلق طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عالم الغیب ہونے کا دعوی کرتے ہیں ؛یہ دعوی صاف جھوٹ ہے ۔ جب کہ بعض باتوں کا علم ہونے میں آپ کی کو ئی خصوصیت نہیں ۔تمام چیزوں کا علم پوری طرح نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تھا او رنہ ہی کسی دوسرے کو ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امور مستقبل کے کلی عالم نہ ہونے کی تصدیق اس امر سے ہوتی ہے کہ آپ کی خلافت کے زمانہ میں کئی جنگیں پیش آئیں ۔ آپ کے ذہن میں بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی تھیں کہ حقائق ان کے خلاف ظاہر ہوتے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بعض اوقات اپنی لڑائیوں اور دیگر معاملات کے بارے میں ایک رائے قائم کرتے اور وہ غلط ثابت ہوا کرتی تھی۔ اگر آپ کو یہ علم ہوتا کہ لڑائیوں میں لا تعداد جانیں ضائع ہونگی اور مقصد بھی حاصل نہ ہو گا تو آپ لڑائی میں حصہ نہ لیتے۔ جنگ آزمائی سے کنارہ کش ہونے کی صورت میں آپ زیادہ کامیاب و کامران ثابت ہوتے۔اس لیے کہ اکثر لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے اور اکثرشہر بھی آپ کے ماتحت تھے۔ جب آپ نے جنگ کی تو کمزور ہوگئے۔ یہاں تک کہ بہت سارے وہ شہر جو آپ کی خلافت میں شامل تھے ؛ جیسے مصر ؛ یمن اور حجاز ؛ وہ آہستہ آہستہ خودمختاری کے خواب دیکھنے لگے۔ اگر آپ جانتے ہوتے کہ میرے مقرر کردہ حَکم یہ فیصلہ صادر کریں گے تو آپ تحکیم پر راضی نہ ہوتے۔ اور اگر آپ کو علم ہوتا کہ ان میں سے ایک دوسرے کیساتھ وہی سلوک کرے گا جو کہ بعد میں دیکھا گیا؛ یہاں تک انہیں معزول کردیا گیا؛ تو آپ اپنی معزولی پر موافقت نہ کرتے ۔شروع میں آپ کے خیر خواہوں نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی امارت پر باقی رہنے دیا ؛ یہاں تک کہ معاملات صحیح ڈگر پر آجاتے۔آپ کے محبین او رخیر خواہان کے ہاں یہ رائے زیادہ درست تھی۔

یہ بھی سبھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد ابو سفیان کو نجران کاوالی بنایا تھا۔ وہ وہاں کے والی ہی تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔ اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کی نسبت زیادہ اچھے مسلمان تھے۔صحابہ اور تابعین میں سے کسی ایک نے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ پر منافق ہونے کی تہمت نہیں لگائی ؛ جب کہ ان کے والد کے بارے میں اختلاف ہے۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان کو شام کی فتح کے لیے حضرت خالد بن ولید اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ امیر لشکر مقرر کیا تھا۔ آپ اپنی امارت پر باقی رہے یہاں تک کہ شام میں ہی آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کا شمار فاضل صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہوتا تھا۔ آپ بہت نیک انسان تھے؛ اپنے بھائی اور والد سے زیادہ اچھے تھے ۔یہ وہ یزید نہیں ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جانشین [وخلیفہ ]ہوئے تھے۔اس ثانی الذکر یزید کی پیدائش ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی تھی۔ اس کانام اپنے چچا کے نام پر رکھا گیاتھا۔ جہلاء کا ایک گروہ اس یزید کو صحابی سمجھتا ہے؛ اوربعض غالی لوگ اسے نبی تک کا درجہ دیتے ہیں ۔ اور ان کے برعکس ایک دوسرا گروہ اسے کافر و مرتد قرار دیتا ہے۔ یہ دونوں باتیں باطل ہیں ۔ اس کا صرف اتنا ہی مقام ہے کہ وہ بنی امیہ کا ایک خلیفہ ہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ - ان کے قاتلوں پر اللہ کی لعنت ہو- اس کی خلافت کے دور میں بعض اختلافات کی بناپر مظلوم شہید ہوئے۔لیکن یزید نے انہیں قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔اور نہ ہی اس پر رضامندی کا اظہار کیا؛ اور نہ ہی ان لوگوں کی مددکی جنہوں نے آپ کو قتل کیا تھا۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر جب عبیداللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا تو اس نے آپ کے دانتوں پر لاٹھی سے مارا تھا؛ یہ بات صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے[یہ اثر حضرت انس بن مالک سے مروی ہے۔ البخاری۵؍۲۶ کتاب فضائل اصحاب النبي رضی اللہ عنہم ‘باب مناقب الحسن و الحسین؛ وسنن الترمذي۵؍۳۲۵ ‘کتاب المناقب ‘ باب مناقب الحسن و الحسین۔ البدایۃ والنہایۃ ۸ ؍۱۹۰۔علامہ ابن (]۔ جب کہ سر کو یزید کے سامنے لے جاکر پیش کرنے کا واقعہ باطل ہے ‘ اور اس کی سند منقطع ہے۔

صفحہ 3 از 9