فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 9

یہی حال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے آپ کی جنگ کا ہے ۔ اس وقت آپ غالب بھی تھے آپ کے پاس بہت بڑا لشکر بھی تھا اور آپ کے لشکر میں ایسے لوگ موجود تھے جو ان لوگوں سے بدرجہا افضل تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تھے اوراس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اوران کے لشکرکو مغلوب کرنا چاہتے تھے۔ پس اگر آپ ہی نے مسلمانوں کی کمزوری اور قتل کے وقت کفار کی کثرت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد ونصرت کی تھی تو پھر آپ کے لشکر کی کثرت اورلشکرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی قلت کے ساتھ آپ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو مغلوب کرنے پر ان کفار کو مغلوب کرنے کی نسبت زیادہ قادر تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگیں کیں ۔[اہل عقل کے لیے غور کی بات یہ ہے کہ ] اس بہادری و شجاعت اورقوت اور اس عاجزی و کمزوری کے مابین کسی جاہل کے علاوہ کوئی دوسرا بھی جمع کرسکتا ہے؟ بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام نصرت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھی؛ او راللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت سے اور اہل ایمان سے آپ کی تائید ونصرت فرمائی تھی۔ معلوم ہوا کہ اللہتعالیٰ نے سب مومنین سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید فرمائی تھی اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اہل ایمان سب شامل ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس شعر سے ان کے علم غیب کی نفی ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں :

لَقَدْ عَجَزْتُ عَجْزَۃً لَّا اَعْتَذِر سَوْفَ اَکِیْسَ بَعْدَہَا وَ اَسْتَمِرّ

وَ اَجْمَعُ الرَّأْیَ الشَّتِیْتَ المُنْتَثَرْ

’’میں معذرت نہیں کر رہا، بلکہ یہ سچ ہے کہ میں عاجز آگیا ہوں ۔ اس کے بعد میں غوروفکر سے کام لوں گے اور (سیدھی راہ پر) چلتارہوں گا۔ نیز بکھری ہوئی پراگندہ رائے یک جا کروں گا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کی راتوں میں فرمایا کرتے تھے:’’ اے حسن ! اے حسن! تیرے باپ کا یہ خیال نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچے گا۔ اللہ کے لیے ہی سعد بن مالک اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی عظمت ہے ‘ انہوں نے فتنہ سے الگ رہ کر کتنا اچھا موقف اختیار کیا تھا۔ اگر وہ نیک تھے تو انھیں بڑا اجر ملے گا اور اگرگناہ گار تھے تو اس میں چنداں خطرہ نہیں ہے۔‘‘مصنفین نے آپ سے یہ کلام ایسے ہی نقل کیا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بتواتر منقول ہے کہ آپ اپنے اصحاب و احباب کے اختلاف سے بڑے بے چین رہا کرتے تھے۔ اور آپ کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ معاملہ جہاں تک پہنچ گیا تھا وہاں تک پہنچے گا۔احادیث مبارکہ میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی رائے کی تصویب آئی ہے ۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا:

’’میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘[صحیح بخاری، حوالہ سابق(ح:۳۶۲۹)۔ ]

یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے مابین صلح کرنے پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہیں ۔

تمام صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں کہ جنگ سے دور رہنا ‘اور فتنہ سے اپنے آپ کو بچانا اللہ اور اس کے رسول کے ہاں زیادہ پسندیدہ تھا۔ اکثر ائمہ اہل سنت والجماعت اورائمہ اسلام کا یہی قول ہے۔ اور اعتبار کے لحاظ سے بھی یہ قول ظاہر ہے۔ اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کسی کام کے ثمرات کے لحاظ سے ہوتی ہے ۔ پس جو چیز مسلمانوں کے لیے ان کے دین و دنیا کے اعتبار سے بہتر ہو وہ اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہوتی ہے۔ واقعات نے ثابت کردیا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی رائے مسلمانوں کے دین اور دنیا کے اعتبار سے ان کے لیے نفع بخش تھی ؛ اس لیے کہ اس کے نتائج دونوں گروہوں کے حق میں بہتر ثابت ہوئے۔

صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے :

’’ اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ‘ تو بھی ان دونوں سے محبت کر۔ او ران لوگوں سے بھی محبت کر جو ان دونوں سے محبت کریں ۔‘‘[صحیح البخاري؛ وکذا في المسند ۵؍۲۰۵۔]

یہ دونوں حضرات جنگ کے خلاف تھے۔حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو حضرت امیر معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں نے طلب کیا تھا؛ مگر آپ نے جنگ میں ان میں سے کسی ایک کا ساتھ بھی نہیں دیا۔[واقعات نے ثابت کردیا تھا کہ جنگ آزمائی سے باز رہ کر حضرت حسن نے امت پر عظیم احسان کیا تھا]۔جیسا کہ دوسرے کئی اکابرصحابہ جیسے : حضرت سعد بن ابی وقاص ؛ ابن عمر و محمد بن مسلمہ و زید بن ثابت وابوہریرہ و عمر ان بن حصین اور ابوبکرہ اور دیگرصحابہ رضی اللہ عنہم نے ترک قتال کا موقف اختیار کیا تھا۔ [یہ اکابر اپنے موقف کے اثبات میں نصوص کتاب و سنت سے استناد کرتے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔]

ایک فتنہ بپا ہو گا جو شخص اس میں بیٹھ رہے گا وہ کھڑا ہونے والے سے افضل ہو گا۔[صحیح بخاری، کتاب الفتن۔ باب تکون فتنۃ القاعد فیھا خیر من القائم (حدیث: ۷۰۸۱)، صحیح مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب نزول الفتن کمواقع القطر (حدیث: ۲۸۸۶)۔ ]

جوکچھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کیا وہ عنداللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فعل سے زیادہ افضل تھا۔ مگر یہ دونوں بھائی جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ حق یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کومظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا۔

آپ کے قتل ہونے کے بعد لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے :

پہلاگروہ : ان کا خیال ہے کہ آپ کو حق پر قتل کیا گیا ہے۔ ان کی دلیل یہ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((من جائکم وأمرکم علی رجلٍ واحِدٍ یرِید أن یفرِق بین جماعتِکم فاضرِبوا عنقہ بِالسیفِ کائِنا من کان)) [صحیح مسلم ؛ کتاب الإمارۃ۔ باب حکم من فرق أمر المسلمین وہو مجتمع؛ ح :3531۔]

’’ جو کوئی تمہارے پاس آئے اور تمہارے معاملات کی زمام کار ایک آدمی کے ہاتھ میں ہو؛ وہ تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالنا چاہتا ہو تو تلوار ماردو ؛ بھلے وہ کوئی بھی ہو۔‘‘

صفحہ 5 از 9