فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 9

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ : حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ظہور اس وقت ہوا جب لوگ ایک حاکم پر متحد ہوچکے تھے ‘اور آپ لوگوں کی جماعت میں تفریق ڈالنا چاہتے تھے۔

دوسرا گروہ:....ان کاخیال ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو قتل کیا وہ کافر تھے ؛ بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ جو کوئی آپ کے امام برحق ہونے کا عقیدہ نہ رکھے وہ بھی کافر ہے۔

تیسرا گروہ: ....یہ اہل سنت والجماعت ہیں - انکاایمان ہے کہ آپ کو مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا۔اور مذکورہ بالا حدیث کسی طرح بھی آپ پر صادق نہیں آتی۔کیونکہ آپ نے پہلے اپنے چچازاد حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تھا ۔ اور انہیں ایک گروہ کے بیعت کرنے کے بعد قتل کردیا گیا۔ آپ نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں واپس اپنے ملک جانے دیا جائے۔ لیکن آپ کی راہ میں وہ لوگ آڑے آئے جنہوں نے حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا۔آپ نے ان سے بھی یہی مطالبہ کیا کہ یا توخود انہیں یزید کے پاس جانے دیا جائے ؛یا پھر انہیں واپس مدینہ جانے دیا جائے؛یا پھر انہیں کسی محاذ جہاد پر جانے دیا جائے ۔ مگر ان ظالموں نے آپ کا ایک مطالبہ بھی تسلیم نہ کیا۔بلکہ آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ گرفتاری پیش کریں تاکہ آپ قیدی کی صورت میں یزید کے پاس پیش کیا جائے۔

یہ بات باتفاق مسلمین معلوم ہے کہ آپ پر ایسا کرنا واجب نہ تھا؛ بلکہ ان لوگوں پر واجب تھا کہ حضرت کے مطالبات تسلیم کریں ۔ مگر انہوں نے آپ پر ظلم کرتے ہوئے آپ سے جنگ کی۔ آپ اس وقت لوگوں کی جماعت میں تفریق نہیں پیدا کرنا چاہتے تھے۔اور نہ ہی خلافت کے طلبگار تھے۔ اور نہ ہی آپ نے خلافت طلب کرنے کے لیے جنگ کی تھی۔ بلکہ آپ نے اپنے نفس کے دفاع میں ان لوگوں سے جہاد کیا جو آپ پر اور آپ کے خاندان پر ظلم کرنا چاہتے تھے۔اس سے پہلے گروہ کے عقیدہ کا باطل ہونا ثابت ہوگیا۔

جب کہ دوسرے گروہ کے قول کا باطل ہونا کئی وجوہات کی بناپر معروف ہے: ان میں سب سے ظاہربات یہ ہے کہ جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف نبرد آزما ہوئے تھے آپ نے کسی کی تکفیر نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ وہ خوارج کو بھی کافر قرار نہیں دیتے تھے۔ آپ نے ان کی اولاد کو لونڈی غلام نہیں بنایا تھااورنہ ہی ان میں سے کسی کے مال کو مال غنیمت بنایا تھا۔اورنہ ہی اپنے خلاف کسی جنگ کرنے والے پر آپ نے مرتد ہونے کاحکم لگایا۔جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور باقی تمام صحابہ نے بنو حنیفہ اور ان کے امثال مرتدین پر حکم لگایاتھا۔ بلکہ آپ طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما اور اپنے خلاف دوسرے جنگ کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے طالب تھے۔اور اپنے خلاف نبرد آزما لوگوں اور اصحاب معاویہ کے متعلق عام مسلمانوں کی طرح حکم لگایا کرتے تھے۔یہ بات آپ سے ثابت ہے کہ : یوم جمل کے موقعہ پر آپ کی طرف سے منادی کرنے والا آواز لگارہا تھا :

’’ کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے؛ زخمی کو گرفتار نہ کیا جائے؛ اور مال کو مالِ غنیمت نہ بنایا جائے۔‘‘

آپ کی یہی بات خوارج کو ناگوار گزری تھی؛ یہاں تک کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اس مسئلہ میں مناظرہ کیا ؛ یہ بات دیگر مواقع پر تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔

حضرت عل سے یہ اخبار مشہور ہیں کہ آپ حضرت معاویہ کے لشکر کے مقتولین کے متعلق فرمایا کرتے تھے:

بلاشبہ یہ تمام مسلمان ہیں ۔کفار یا منافقین نہیں ہیں ۔یہ بات ہم پہلے کئی مواقع پر بیان کرچکے ہیں ۔یہی حال حضرت عمار اور دوسرے صحابہ کرام کا بھی تھا۔

یہ تینوں گروہ عراق میں تھے۔ ان کے علاوہ ایک میں ایک اورگروہ شیعان عثمان نواصب کا تھا جو کہ حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے بغض رکھتے تھے۔اور ایک گروہ شیعان علی رضی اللہ عنہ میں سے بھی ایسا تھاجو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے اقارب سے بغض و نفرت رکھتا تھا۔ صحیح مسلم میں یہ حدیث حضرت اسما رضی اللہ عنہا کی روایت سے موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:’’ عنقریب بنوثقیف میں ایک خونخوار اور ایک جھوٹا ظاہر ہوگا۔‘‘

یہ جھوٹا مختار بن عبید ثقفی تھا جب کہ خونخوار حجاج بن یوسف۔حجاج شیعان عثمان رضی اللہ عنہ میں سے تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت سے بغض رکھتا تھا۔ جب کہ جھوٹا شیعان علی رضی اللہ عنہ میں سے تھا حتی کہ اس نے عبیداللہ بن زیاد سے جنگ کرکے اسے قتل کردیااور بعد میں دعوی کرنے لگا کہ اس کے پاس جبریل امین علیہ السلام آتا ہے۔ چنانچہ اس کا جھوٹ ظاہر ہوگیا۔ 

یوم عاشورایعنی مقتل حسین رضی اللہ عنہ کے دن کی وجہ سے بھی لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ شیعہ اس دن ماتم اوردیگر ایسی برائیاں کرتے ہیں جن کا ارتکاب صرف کوئی جاہل اور گمراہ ترین انسان ہی کرسکتا ہے۔اورایک گروہ نے اس دن کو عید کے دن کی طرح بنالیا ہے۔ اس دن وہ کھانے پینے اور لباس میں کھلا خرچ کرتے ہیں ۔ اور اس بارے میں ایک من گھڑت حدیث روایت کرتے ہیں کہ:آپ نے فرمایا:’’ جس نے اس دن اپنے اہل خانہ پر کھلا خرچ کیا اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر کھلا خرچ کرتا ہے۔‘‘ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑ لیا گیا ہے۔

امام حرب رحمہ اللہ کرمانی فرماتے ہیں : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔

محدثین کے ہاں مشہور یہ ہے کہ اسے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں : ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ: جس نے اس دن اپنے اہل خانہ پر کھلا خرچ کیا اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر کھلا خرچ کرتا ہے۔ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہم نے ساٹھ سال سے اس کا تجربہ کیا ہے اور اسے صحیح پایاہے۔

صفحہ 6 از 9