فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

میں کہتا ہوں : محمد بن منتشر رحمہ اللہ فضلا ء اہل کوفہ میں سے تھا۔یہ ہر سنی اور پہنچی ہوئی بات نقل کرنے والوں میں سے ہر گزنہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بات حضرت حسین پر تعصب رکھنے والے بعض لوگوں نے گھڑلی ہے تاکہ آپ کی شہادت کے دن کو عید بنایا جائے۔ پس یہ بات اہل سنت والجماعت کی طرف منسوب جہلا میں مشہور ہوگئی۔یہاں کہ احادیث گھڑلی گئیں کہ دس محرم کو یہ یہ واقعات پیش آئے ہیں ۔یہاں تک انبیا کرام کے اکثر واقعات کو بھی اسی دن کے ساتھ جوڑ دیاگیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس حضرت یوسف کی قمیص کا پہنچنا اور آپ کی بینائی بحال ہونا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کو عافیت ملنا ذبیحہ کی قربانی پیش کرنا اور اس طرح کے دیگر واقعات۔ یہ تمام احادیث جھوٹ اور من گھڑت ہیں ۔ ان جوزی نے انہیں الموضوعات [۲؍۱۹۹]میں ذکر کیا ہے۔ اگرچہ آپ اسے اپنی کتاب ’’النور فی فضائل أیام و شہور‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔اورانہوں نے اپنے شیخ ابن ناصر سے اس کا ذکر بھی کیاہے کہ آپ نے فرمایا ہے: یہ حدیث صحیح ہے۔ اوراس کی سند صحیح کی شرائط کے مطابق ہے ۔لیکن درست بات وہی ہے جو ابن جوزی نے الموضوعات میں لکھی ہے۔یہی آخری قول ہے۔

ابن ناصر پراس کے راویوں کی حقیقت آشکار نہیں ہوسکی۔ وگرنہ یہ حدیث عقل اور شرع کے منافی ہے۔اسے مشہور اہل علم محدثین میں سے کسی ایک نے بھی اپنی کسی معتمد کتاب میں اس کا ذکر نہیں کیا ۔ بلکہ یہ بعض متاخر مشائخ کی تدلیس ہے۔

جیسا کہ بعض دوسر احادیث ے بارے میں بھی پیش آیاہے۔یہاں تک کہ وہ احادیث جو کہ مسند احمد بن حنبل کی طرف منسوب کی گئی ہیں حالانکہ وہ احادیث مسند احمد میں موجود نہیں ہیں ۔مثال کے طورپر وہ حدیث جسے عبدالقادر بن یوسف نے ابن المذہب سے اور اس نے قطیعی سے اس نے عبداللہ سے اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے وہ عبداللہ بن المثنی سے وہ عبداللہ بن دینار سے وہ عبداللہ بن عمر سے روایت کرتا ہے آپ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:

’’ قرآن اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں اسی کی طرف سے شروع ہوا اور اسی کی طرف لوٹ کر جائے گا۔‘‘

یہ قول سلف صالحین سے صحیح اورمتواتر سند کے ساتھ منقول ہے مگر ان الفاظ کارسول اللہ سے روایت کرنا جھوٹ ہے۔ اور پھر اسے مسند احمد بن حنبل کی طرف منسوب کرنا ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔[بعینہ ان الفاظ میں یہ روایت تو نہیں مل سکی؛ لیکن اس کے قریب قریب الفاظ ومعانی میں کچھ دوسری روایات کئی صحابہ کرام سے مذکورموجود ہیں ۔ ان میں سے بعض کو امام سیوطی نے ’’اللآلي المصنوعۃ ۱؍۴‘‘ پر ذکر کیاہے۔ان میں سے ایک روایت یہ ہے : حضرت ابوزبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جس نے یہ کہا کہ قرآن مخلوق ہے‘ اس نے کفر کیا ۔‘‘ اور ایسے ہی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ’’ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز مخلوق ہے سوائے اللہ تعالیٰ اور قرآن کے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے ‘ اسی کی طرف سے شروع ہوا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جائے گا۔‘‘ دیکھو:تنزیہ الشریعۃ ۱؍۱۳۴۔ الأسرار المرفوعۃ لملاعلی القاري ص ۵۷۔] بلا ریب امام احمد کی مسند میں ایسی کوئی روایت نہیں پائی جاتی۔ 

امام حمد بن حنبل رحمہ اللہ آزمائش کے دور میں اہل سنت و الجماعت کے امام تھے۔ آپ کے ساتھ آفاق میں مشہور مسئلہ خلق قرآن کے بارے میں بہت آزمائشیں پیش آئیں ۔اور آپ دلائل پیش کیا کرتے تھے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے۔ آپ کے یہ دلائل بہت زیادہ اور مشہور و معروف ہیں ۔ مگر آپ نے کسی ایک موقع پر بھی اس روایت سے استدلال نہیں کیا اور نہ ہی اس کا کوئی ذکر تک کیا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ آپ کے پاس یہ حدیث موجود ہو مگر آپ اس سے استدلال نہ کرتے ہوں ۔ یہ حدیث اسی شیخ کے ہاں پہچانی گئی ہے اورپھر بعد میں جن لوگوں نے آپ کی شاگردی اختیار کی تھی آپ کی کتاب میں کچھ ملاوٹ کردی۔تو دوسرے لوگوں ان دونوں چیزوں کے ملا کر پڑھنے لگ گئے۔ اس طرح جو لوگ علم سے نا آشنا تھے ان میں یہ روایت رواج پکڑ گئی۔

یہی حال حدیث عاشورا کا بھی ہے۔عاشورا کی صحیح اور ثابت شدہ فضیلت اس دن کا روزہ رکھنا ہے۔ یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔اور اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کوغرق ہونے سے بچایا تھا۔ اس مسئلہ پر اپنی جگہ پر ہم نے تفصیل کے ساتھ کلام کردیا ہے۔اور ہم نے یہ بیان کردیا کہ اس دن میں روزہ رکھنے کی علاوہ جتنے بھی اعمال کیے جاتے ہیں جیسے سرمہ لگاناخضاب لگانا دانے پکانا اور قربانی کا گوشت کھانا نفقہ میں وسعت دینا اور اس طرح کے دیگر امور سب مکروہ بدعت ہیں ائمہ میں سے کسی ایک نے بھی اس کا نہیں کہا۔اس بدعت کی ابتدا قاتلان حسین کی طرف سے ہوئی ہے۔

ان سے بھی زیادہ قبیح رافضیوں کے کرتوت ہیں ۔جو کچھ وہ ماتم کرتے ہیں اور مرثیے پڑھتے ہیں ۔اور اس میں گریہ وزاری کے قصیدوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اس دن اپنے آپ کو پیاسا رکھتے ہیں اور اپنوں چہروں پر تھپڑ مارتے اورگال پیٹتے اور گریبان پھاڑتے ہیں اور جاہلیت کا رونا روتے ہیں ۔جب کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

((لیس مِنا من ضرب الخدود وشق الجیوب ودعا بِدعوی الجاہِلِیۃِ۔))

’’ وہ ہم میں سے نہیں ہے جو اپنا گال پیٹے گریباں پھاڑے اور جاہلیت کا رونا روئے۔‘‘

یہ تو اس وقت کے بارے میں ہے جب مصیبت ابھی تازہ دم واقع ہوئی ہو۔ پھراگر چھ سو ستر(اورہمارے اس عہد میں تیرہ سو ستر) سال بعد ماتم کیا جارہا ہو تو اس کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ۔وہ لوگ بھی تو قتل ہوئے ہیں جو حضرت حسین سے افضل تھے۔ لیکن مسلمانوں نے اس دن کو یوم ماتم تو نہیں بنایا۔ مسندأ حمد میں فاطمہ بنت حسین سے روایت ہے- یہ اپنے باپ کے قتل کے وقت وہاں پر موجود تھیں - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 7 از 9