فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

’’جب بھی کسی انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اوراگروہ مصیبت پہلے گزر چکی ہے اوروہ اس مصیبت کو یاد کرتا ہے اور اس پر ’’إنا للہ و إنا إلیہ راجعون‘‘ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا فرماتے ہیں جتنا مصیبت پہنچنے کے دن صبر کرنے پر اسے اجر ملا تھا۔‘‘

اس سے واضح ہوتا ہے کہ گزری ہوئی مصیبت یاد آنے پر سنت طریقہ یہ ہے کہ انسان انا للہ و نا لیہ راجعون پڑھے۔ جیسا کہ کتاب وسنت میں اس کی تعلیمات آئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ oاُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنوبشِرِ الصابِرِینَo﴾

’’ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجیے۔ وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے توکہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے کئی مہربانیاں اور بڑی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں ۔‘‘ [البقرۃ۱۵۵۔۱۵۷]

اس سے بھی زیادہ بری حرکت دنبی کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تشبیہ دیکر اس کے بال نوچنا ہے۔اور پھر گھی بھری مشک کو حضرت عمر سے تشبیہ دیکر درمیان سے تیز دھار چیز سے پھاڑناہے۔ اورپھر ان کے یہ نعرے ہائے ابو لؤلؤ کا انتقام۔ اور اس کے علاوہ دیگر منکرات اور برائیاں جو کہ رافضیوں میں پائی جاتی ہیں جن کو طوالت کے خوف سے یہاں درج نہیں کیا جارہا ۔ یہاں پر صرف یہ بیان کرنا مقصود ہیکہ جوکچھ ان لوگوں نے برائیاں اور بدعات ایجاد کرلی ہیں اورپھر بدعت کے مقابلہ میں جو بدعات پیدا کرلی گئی ہیں اور انہیں سنت کی جانب منسوب کیا جانے لگا ہیوہ بھی یقیناً انتہائی بری بدعات ہیں ۔سنت تو صرف وہ چیز ہے جسے رسول اللہ نے سنت قراردیا ہوسنت ہر قسم کی بدعت سے بری ہے۔پس جو کچھ عاشورا کے دن کیا جاتا ہے اس کوعید بنانے کی اصل نواصب کی بدعت ہیاور اس دن ماتم و نوحہ کرنا جو کہ انتہائی بری بدعت ہے یہ رافضیوں کی مشہور ترین بدعات میں سے ایک ہے۔ ہم اس موضوع پر اپنی جگہ پر تفصیلی کلام کر چکے ہیں ۔واللّٰہ المستعان ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:چھٹی دلیل:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ مستجاب الدعوات تھے۔ آپ نے بسر بن ارطاۃ کے حق میں بد دعا کی کہ اللہ اسے پاگل کردے۔‘‘ چنانچہ اسی طرح ہوااسکا دماغ خراب ہوگیا۔عیزار کے حق میں اندھا ہونے کی بددعا کی تو وہ اندھا ہوگیا۔ اور انس نے جب شہادت چھپائی تو اس کے حق میں برص کا عارضہ لاحق ہونے کی دعا کی؛ اوراسے برص کامرض لاحق ہوگیا۔اور ایسے ہی آپ نے زید بن ارقم کے حق میں اندھا ہونے کی بد دعاکی جو مقبول ہوئی اوروہ اندھا ہو گیا ۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں کہ :یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت نہیں ، بلکہ صحابہ و ان دیگر صلحاء میں یہ وصف زیادہ کثرت کے ساتھ موجود تھا۔اورجب تک اہل ایمان موجود رہیں گے یہ وصف بھی باقی رہے گا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی دعاء کبھی خالی نہیں جاتی تھی۔صحیحین میں ہے کہ ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ:’’اے اللہ! ان کا ہر تیر نشانہ پر پڑے ‘اور ان کی ہر دعا مقبول ہو۔‘‘[الترمذی، کتاب المناقب ، باب مناقب ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۷۵۱)۔] چنانچہ آپ کی کوئی دعا مسترد نہیں کی جاتی تھی۔

٭ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوفہ میں لوگوں کو بھیجا کرتے ؛جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کرتے۔ لوگ ان کے بارے میں خیر کی بات کے علاوہ کچھ بھی نہ کہتے۔ یہاں تک کہ جب بنی عبس کے ایک آدمی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا: ’’ جب آپ ہمیں سعد کے بارے میں حلفیہ پوچھنا ہی چاہتے ہیں تو پھر سنیں : وہ نہ ہی جہاد کے لیے نکلتے ہیں ‘اورنہ ہی اپنی رعیت میں عدل کرتے ہیں اور نہ ہی برابری کیاتھ تقسیم کرتے ہیں ۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی :

’’اے اللہ ! اگریہ جھوٹا ہے تو ریاکاری اور شہرت کے لیے کھڑا ہوا ہے ‘ تو اس کی عمر کو لمبا کر؛ اور اس کی تنگدستی کو زیادہ کر اوراسے کسی فتنہ میں مبتلا کردے ۔‘‘

تو اس آدمی کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ اس کی عمر بہت بڑی ہوگئی تھی؛ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی پلکیں لٹک گئی تھیں ؛لیکن وہ گلیوں میں چھوکریوں کو چھیڑتا اوران سے آنکھیں لڑایا کرتا تھا۔ اوراپنے بارے میں کہا کرتا تھا:

’’ بڑی عمر کا بڈھا ہوں جوفتنہ میں مبتلاہوگیا ہوں ‘اورمجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی ہے ۔‘‘

٭ یہی حال حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا تھا۔آپ مستجاب دعوات تھے۔حماد بن زید سے روایت کیا گیا ہے وہ ہشام بن عروہ سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ: اروی بنت اوس نے مروان کے پاس حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعوی کیا کہ : ’’انہوں نے میری زمین کا ٹکڑا ناجائز قبضہ کرکے اپنی زمین کے ساتھ ملالیا ہے ۔‘‘

توحضرت سعید رضی اللہ عنہ نے اس پر ان الفاظ میں بددعا کی :’’ اے اللہ ! اگریہ عورت جھوٹی ہے ‘تو اسے اندھا کر دے ‘اوراسے اس کی زمین میں قتل کردے ۔‘‘

چنانچہ ایسا ہی ہوا؛ وہ اندھی بھی ہوگئی ؛ اور اپنی ہی زمین میں مردار مر گئی ۔‘‘

٭ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ جب کسی بات پراللہ کانام لیکر حلف اٹھا لیتے تو اللہتعالیٰ ان کی قسم کو پورا کر دیتے ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر حلف اٹھالیں تو اللہتعالیٰ ان کی قسم کو پورا کردیتے ہیں ۔‘‘

حضرت برا بن مالک رضی اللہ عنہ کا شمار بھی اسی قسم کے لوگوں میں سے ہوتا تھا۔[سنن ترمذی، کتاب المناقب۔ باب مناقب البراء بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ، (حدیث:۳۸۵۴) ] [انھوں نے یکے بعد دیگرے ایک سو آدمیوں سے مبارزت طلبی کی تھی]۔ [مستدرک حاکم(۳؍۲۹۱)، مصنف عبد الرزاق(۹۴۹۶) طبقات ابن سعد(۷؍۱۰)]

صفحہ 8 از 9