فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ] -…

فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 9

٭ حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ جو پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد ازاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بحرین کے عامل تھے۔ قبولیت دعا میں مشہور تھے۔[البدایۃ والنہایۃ(۶؍۳۲۸)، طبقات ابن سعد(۴؍۷۸)۔]

ابن ابی دنیا رحمہ اللہ نے اپنی سند سے نقل کیاہے کہ سہم بن منجاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ ہم نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا۔اس وقت آپ نے تین دعائیں فرمائیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ تینوں دعائیں قبول فرمائیں ۔آپ فرماتے ہیں : ’’ ہم آپ کے ساتھ سفر میں تھے ؛ اور ہم نے ایک منزل پر پڑاؤ ڈالا۔ہم نے وضوء کے لیے پانی تلاش کیا ؛ بسیار تلاش کے باوجود نہ پاسکے۔ تو آپ کھڑے ہوگئے اور دو رکعت نماز پڑھی ؛ پھر آپ نے دعا کی :

(( اللّٰہ! یا علیم یا حکیم یا علي العظیم ! إناعبیدک‘وفي سبیلک نقاتل عدوک ؛ فاسقنا غیثاً نشرب منہ ونتوضأ من الإحداث۔ وإذا ترکناہ فلاتجعل فیہ نصیباً لأحد غیرنا۔))

’’ اے اللہ ! اے علیم و حکیم ! اے عالیشان اورعظمت والے رب! ہم تیرے بندے ہیں ؛ اور تیری راہ میں تیرے دشمنوں سے جہاد کرتے ہیں ‘ ہم پر بارش برسادے جس سے ہم پئیں بھی اور ناپاکی سے طہارت بھی حاصل کریں ۔ اور جب ہم اس پانی کو چھوڑ دیں تو اسے کسی بھی دوسرے کے لیے حصہ نہ بنانا۔‘‘

آپ فرماتے ہیں : ابھی ہم تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ ہم نے بارش کے پانی سے بھرا ہوا ایک تالاب دیکھا جس سے پانی اچھل کر بہہ رہا تھا۔ہم نے وہاں پر پڑاؤ ڈالا؛ خوب سیر ہوکر پیا اورمیں نے اپنے برتن بھی بھر لیے۔اور پھر انہیں تالاب پر ہی چھوڑ دیا۔میں نے کہا: میں ضرور دیکھوں گا کہ کیا آپ کی دعاء قبول ہوئی ہے ؟جب ہم وہاں سے چل ایک میل یا اس کے قریب فاصلے تک پہنچ گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’ میں اپنے برتن بھول گیا ہوں ۔‘‘جب میں واپس وہاں پر پہنچا تو وہ جگہ ایسے تھی جیسے یہاں پر کبھی بھی پانی نہیں تھا۔میں نے اپنے برتن اٹھالیے ۔جب میں دارین پہنچا تو ہمارے اور ان کے درمیان سمندر حائل تھا۔ تو آپ نے دعا کی :

(( اللہ ! یا علیم یا حکیم یا علي العظیم ! إناعبیدک‘وفي سبیلک نقاتل عدوک ؛ فاجعل لنا سبیلاً إلی عدوک۔))

’’ اے اللہ ! اے علیم و حکیم ! اے عالیشان اورعظمت والے رب! ہم تیرے بندے ہیں ؛اور تیری راہ میں تیرے دشمنوں سے جہاد کرتے ہیں ‘ ہمارے لیے اپنے دشمن تک پہنچنے کے راستے بنادے۔‘‘

آپ فرماتے ہیں : پھر حضرت علاء رضی اللہ عنہ ہمیں لیکر سمندر میں داخل ہوگئے ۔اللہ کی قسم ! ہماری سواریوں کی کاٹھیاں تک گیلی نہیں ہوئیں ۔پھر ہم دشمن کی طرف جانکلے۔ پھر جب ہم واپس ہوئے تو آپ کو پیٹ میں تکلیف ہوئی ؛ اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔آپ کوغسل دینے کے لیے ہمیں پانی نہیں ملا۔ ہم نے آپ کو آپ کے کپڑوں میں لپیٹ کر دفن کردیا۔جب ہم تھوڑی دور چلے تو ہمیں بہت زیادہ پانی ملا۔ہمارے بعض ساتھی آپس میں کہنے لگے : چلو واپس چلتے ہیں اور آپ کونکال کر غسل دیتے اور پھر دفن کرتے ہیں ۔ چنانچہ ہم واپس پلٹے تو ہمیں تلاش بسیار کے باوجود آپ کی قبر نہیں ملی ۔ پھر ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے :

((اللہ ! یا علیم یا حکیم یا علي العظیم ! اخف حُفرتي و لا تطلع علی عورتي أحداً۔))

’’یااللہ ! اے علیم و حکیم ! اے عالیشان اورعظمت والے رب! میری قبر کوخفیہ رکھنا ؛ اور کسی کو میرے ستر پر مطلع نہ کرنا ۔‘‘ توپھر ہم آپ کوایسے ہی چھوڑ کر واپس آگئے ۔ ‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی بہت ساری دعائیں کیں جو کہ قبول ہوئیں ۔آپ بلال اوراس کے گروہ سے زمین کی تقسیم کے بارے میں تنازعہ ہوگیاتو آپ نے دعا کی: ’’ اے اللہ بلال اور اس کے گروہ کے لیے کافی ہوجاء ۔‘‘

ابھی ایک سال کا عرصہ بھی اس دعا کو نہیں گزرا تھا کہ اس گروہ میں سے ایک آنکھ بھی کھلی نہیں رہی۔اور آپ نے یہ دعا بھی کی تھی: ’’ اے اللہ ! میری عمر بڑی ہوگئی ہے ؛ اور میری رعایا پھیل چکی ہے۔ مجھے حقوق کے ضائع ہونے اور فتنہ میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی طرف بلالے۔‘‘ توپھر اسی سال آپ کو شہید کردیا گیا۔

اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ابن ابی دنیا نے مستجاب الدعوات لوگوں کے بارے میں ایک مکمل کتاب لکھی ہے ۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو قصے مذکور ہیں ؛ ان کی کوئی ایسی سند نہیں ذکر کی گئی جس کی وجہ سے ان کا صحیح ہونا معلو ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے بعض باتیں جھوٹی بھی ہیں جیسے حضرت انس کے لیے برص کی اور حضرت زید بن ارقم کے لیے اندھا ہونے کی بد دعا۔



صفحہ 9 از 9