رومیوں کے میسرہ کا مسلمانوں کے میمنہ پر حملہ
علی محمد الصلابیاسلامی فوج پر حملہ کرنے کے لیے رومی رات کی تاریکی کی طرح آگے بڑھے اور ان کے میسرہ نے مسلمانوں کے میمنہ پر حملہ کر دیا، جس سے اسلامی فوج کا قلب میمنہ کی طرف سے غیر محفوظ ہو گیا۔ رومی، اسلامی فوج کی صفوں میں خلل پیدا کرنے اور ساقہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو آواز دی: اے اللہ کے مسلمان بندو! یہ لوگ تم پر غالب آنے کے لیے ٹوٹ پڑے ہیں، اللہ کی قسم انہیں صبر و استقامت ہی دھکیل سکتی ہے۔ پھر آپ اپنے گھوڑے سے اتر پڑے اور فرمایا: جو میرے گھوڑے پر سوار ہو کر لڑنا چاہے وہ لے لے اور خود پیادہ فوج کے ساتھ شامل ہو کر قتال میں مصروف گئے۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: صفحہ 169)
ازد، مذحج، حضرموت اور خولان کے قبائل نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کو روکنے میں کامیاب ہوئے پھر پہاڑوں کے مانند رومیوں نے ان پر حملہ کر دیا اور مسلمان میمنہ سے قلب کی طرف چلے گئے اور ایک گروہ الگ ہو کر معسکر کی طرف چلا گیا اور مسلمانوں کا بہت بڑا گروہ ثابت قدم رہا اور وہ اپنے اپنے پرچم تلے جنگ کرتے رہے اور زبید کے لوگ منتشر ہو گئے پھر انہوں نے ایک دوسرے کو آواز دی اور پلٹ کر رومیوں پر زور دار حملہ کیا اور انہیں پیش قدمی سے روک دیا اور جو مسلمان منتشر ہو گئے تھے ان کے تعاقب سے انہیں باز رکھا اور جو لوگ شکست خوردہ ہو کر بھاگ رہے تھے ان کا استقبال خواتین اسلام نے ڈنڈوں اور پتھروں سے کیا، یہاں تک کہ ان لوگوں نے پھر اپنی پوزیشن دوبارہ سنبھال لی۔
(فوج الشام للازدی: صفحہ 222، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 19)
حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف معرکوں میں قتال کیا ہے تو آج تم سے راہ فرار اختیار کروں گا؟ پھر اعلان فرمایا: کون موت کی بیعت کرتا ہے؟ آپ کے چچا حارث بن ہشام اور ضرار بن ازور رضی اللہ عنہما نے چار سو مسلمان سرداروں اور شہسواروں کے ساتھ بیعت کی اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے خیمہ کے سامنے جنگ کی حتیٰ کہ سب زخمی ہو گئے اور ان میں بہت سے لوگ شہید ہو گئے۔ انہی میں سے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 170)
واقدی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب وہ زخم کھا کر گر پڑے تو انہوں نے پانی طلب کیا، ان کے لیے پینے کا پانی حاضر کیا گیا، جب ان میں سے ایک کے سامنے پانی پیش کیا گیا تو دوسرے نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: یہ پانی اس کو دے دو۔ جب دوسرے کے سامنے پانی پیش کیا گیا تو تیسرے نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی، اس نے کہا: پانی اس کو دے دو۔ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو پانی دینے کو کہا، یہاں تک کہ سب وفات پاگئے اور پانی کوئی نہ پی سکا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
کہتے ہیں کہ اس روز مسلمانوں میں سب سے پہلے شہید ہونے والا شخص سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی پوری تیاری کر لی ہے، کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی کام ہے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں میری طرف سے انہیں سلام کہنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا: اے اللہ کے رسول! ہمارے رب نے ہم سے جو وعدے کیے تھے ہم نے انہیں برحق پایا ہے۔ اس کے بعد وہ جنگ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور جام شہادت نوش کر لیا۔ تمام لوگ اپنے اپنے پرچم تلے ثابت قدم رہے اور رومی چکی کی طرح چکر لگانے لگے اور یرموک کے روز میدان کارزار میں گرے ہوئے سر، عمدہ کلائیاں اور اڑتی ہوئی ہتھیلیاں ہی نظر آرہی تھیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 12)