Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل :....[جنگ حنین]

  امام ابنِ تیمیہؒ

فصل :....[جنگ حنین]

رافضی نے کہا ہے: ساتواں واقعہ : جب آپ صفین کی طرف نکلے تو آپ کے ساتھیوں کو بہت سخت پیاس لگ گئی ۔ آپ وہاں سے تھوڑا آگے نکلے تو آپ کو ایک ڈیرہ[گرجا] نظر آیا۔ آپ نے صاحب خانہ کو آوازدیکر پانی مانگا ۔ اس نے جواب دیا: میرے اور پانی کے درمیان چھ میل سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔اور اگر مجھے ہرمہینے بقدر کفایت چند قطرے نہ دیے جاتے تو میں پیاس سے مر جاتا۔امیر المؤمنین نے اس ڈیرہ کے قریب ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔اوراس جگہ کو کھودنے کا حکم دیا۔(جب کھدائی شروع ہوئی تو)وہاں پر بہت بڑی چٹان نکل آئی۔لوگ اس چٹان کو ہٹانے سے عاجز آگئے۔ تو آپ نے اکیلے ہی اس چٹان کو ہٹا دیا۔پھرلوگوں نے وہاں سے پانی پیا۔ تو وہ راہب اتر کر ان کے پاس آگیا اورکہا: آپ نبی رسول ہیں یا کوئی مقرب فرشتہ ؟آپ نے فرمایا: نہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی ہوں ۔ تووہ راہب آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔اورکہا: یہ ڈیرہ (گرجاگھر)اس چٹان کے طلب گار پر بنایا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے پانی کاراستہ ہے۔ مجھ سے پہلے ایک جماعت گزر چکی ہے۔ مگروہ اس کو نہیں پاسکے۔ یہ راہب بھی ان لوگوں میں سے جو آپ کے ساتھ شہید کیے گئے تھے۔ اس قصہ کو سید حمیری نے اپنے قصیدہ میں نظم بند کیا ہے۔

جواب: یہ قصہ بھی اپنے سے ماقبل کے ان جھوٹے واقعات کی جنس سے ہے جنہیں جاہل لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے مناقب میں سے شمار کرتے ہیں ۔حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ بلکہ جس انسان نے یہ قصہ گھڑا ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل اور مستحق مدح سرائی سے جاہل ہے۔ اس نے جو منقبت کی بات بنائی ہے کہ آپ نے ایک چٹان کی طرف اشارہ کیا اور اس کے نیچے پانی مل گیا اور آپ نے اکیلے ہی وہ چٹان وہاں سے ہٹادی۔ ایسا تو باقی مخلوق میں سے بہت سارے لوگوں کے ساتھ پیش آجاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ان سے بہت افضل ہیں ۔ بلکہ حضرت ابوبکر و عمر اورعثمان رضی اللہ عنہم کے محبین میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے لیے اس قسم کے کئی گنا زیادہ واقعات پیش آئے ہیں ۔ان میں سے ہر ایک سے حضرت علی رضی اللہ عنہ افضل ہیں ۔اگر ایسے واقعات بعض صالحین کے ہاتھوں پر پیش آتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت اور ان کے لیے کرامت ہے۔ اور اس طرح کے واقعات ان لوگوں کے ہاتھوں بھی پیش آجاتے ہیں جو صالحین میں سے بھی نہیں ہیں ۔ 

باقی جو اس نے یہ گرجا بنانے کا قصہ لکھاہے کہ :اس چٹان کے طالب پر بنایا گیا ہے اور اس کے نیچے پانی کا راستہ ہے۔

سو یہ چیزمسلمانوں کے دین میں نہیں ۔گرجے کنیسے صومعات اور معبد اپنے پیش رو لوگوں کے نام پربنانا نصاری کا طریق کار ہے۔جب کہ مسلمان اپنی مساجد جن کو بلند کرنے اور ان میں اللہ کے نام کاذکر کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے صرف اللہ کے نام پر بناتے ہیں مخلوق میں سے کسی ایک کے نام پر نہیں بناتے۔

راہب کا یہ کہنا: آپ نبی مرسل ہیں یا ملک مقرب اس کی جہالت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ کہ وہ اللہ کی مخلوق میں سب سے جاہل اور گمراہ انسان تھا۔(اس کو اتنا علم نہیں تھا کہ)فرشتے پانی نہیں پیتے اورنہ ہی اسے چٹان کے نیچے سے پانی نکالنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور یہ کہ محمد کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ۔ اور یہ بھی معلوم شدہ بات ہے کہ اس راہب تک مسلمانوں کی خبر اس علاقے کے فاتحین کے ذریعہ پہنچ چکی ہوگی۔ اگر یہ پادری عیسی علیہ السلام کے بعد کسی رسول کے آنے کو جائز سمجھتا ہوتا تو پھر محمد ہی اللہ کے رسول تھے۔ اور آپ کے معجزات ظاہری و باطنی موجود تھے۔اگروہ ان کی تصدیق کرتا تو اسے علم ہوتا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور اگر وہ اس کی تصدیق نہیں کرتا توپھر کسی دوسرے کے متعلق صرف چٹان کے نیچے پانی نکالنے کی بنا پر یہ اعتقاد کیسے رکھ سکتا ہے کہ وہ نبی مرسل ہے۔ یا یہ گرجااسی کے نام پر بنایا گیا ہے۔ جب کہ وہ اپنے گرجا گھر بہت سارے ایسے لوگوں کے ناموں پر بناتے ہیں جو نہ ہی نبی ہیں اور نہ ہی رسول۔

نیز اس میں جوحضرت علی رضی اللہ عنہ کاقول درج ہے کہ :نہیں ؛ لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی ہوں ۔ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کھلا ہوا جھوٹ اور بہتان ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی اس طرح کا کوئی دعوی نہیں کیا۔نہ ہی خلفاء ثلاثہ کی خلافت میں اور نہ ہی صفین کے لیل و نہار میں ۔ بلکہ آپ اپنے مخالفین کے ساتھ مناظرے کیا کرتے تھے ان کے الزامات کا جواب دیتے۔ مگر آپ نے کبھی خود یہ دعوی کیا اور نہ ہی کسی نے آپ کے لیے یہ دعوی کیا۔ جب حکمین کو قاضی اور فیصل بنایا گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خوارج کیساتھ مناظرہ کے لیے بھیجا تو وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور سبقت اسلامی بیان کی گئی مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وسلم کے وصی ہیں ۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت ہمت اور اسباب اس روایت کو بیان کرنے کے موجود تھے۔ اوراگر ان اسباب کے بغیر بھی اسے روایت کیا جاتا توبھی حق تھا۔ تو پھر ان اسباب کی موجودگی اس کے بیان کا فائدہ ہی کچھ اور تھا۔ محدثین کرام رحمہم اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب نقل کیے ہیں ۔مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ:

(( لأعطین الرایۃ غداً رجلاً یحب اللّٰہ و رسولہ و یحبہ اللّٰہ و رسولہ۔))

’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اوراس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ [رواہ البخاری۵؍۱۸]

اور تبوک کے موقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

(( ألا ترضی أن تَکون مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ إلا أنہ لا نبي بعدي))

’’کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی؛ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ ۔‘‘ 

’’تم مجھ سے ہو ‘اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘[سبق تخریجہ] 

ان کے علاوہ دیگر بھی فضائل ہیں ؛ مگر انہیں انتہائی ضرورت کے باوجود یہاں پر نقل نہیں کیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب جو دعوی ذکر کیا گیا ہے ‘اس کے بارے میں طے شدہ بات ہے کہ وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔