رومیوں کے میمنہ کا مسلمانوں کے میسرہ پر حملہ
علی محمد الصلابیرومیوں کے میمنہ نے مسلمانوں کے میسرہ پر قناطر کی قیادت میں زور دار حملہ کیا۔ مسلمانوں کے میسرہ پر کنانہ، قیس، خثعم، جذام، قضاعہ، عاملہ اور غسان کے قبائل تھے۔ ان لوگوں کو اپنے مقام سے ہٹنا پڑا، جس کی وجہ سے میسرہ کی جانب سے قلب خطرہ میں آگیا اور رومی شکست خوردہ مسلمانوں پر چڑھ دوڑے اور ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ مسلمان معسکر میں داخل ہو گئے۔ مسلم خواتین نے پتھروں اور خیمے کے ڈنڈوں سے ان کا استقبال کیا، ان کو مارتیں اور کہتیں: اسلام اور ماؤں اور بیویوں کی عزت کا پاس کہاں گیا؟ تم ہمیں کفار کے لیے چھوڑ کر کدھر بھاگ رہے ہو؟ جب خواتین نے انہیں اس طرح ڈانٹا تو انہیں شرم آئی اور پھر قتال کے لیے ٹوٹ پڑے، رومیوں میں سے بہت سے لوگ قتل کیے گئے۔ اس مرحلہ میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ رومی میسرہ نے دوبارہ اسلامی میمنہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر پر زور دار حملہ کیا تاکہ صفوں کو چیرتے ہوئے گھیراؤ کر لیں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن رومی معسکر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مسلم خواتین ٹیلے سے اتر آئیں اور واپس آنے والے مردوں کو مارنے لگیں۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: اللہ اس کا برا کرے جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر بھاگتا ہے اور اللہ اس کا برا کرے جو اپنی بیٹی کو چھوڑ کر بھاگتا ہے۔ دیگر خواتین کہنے لگیں: اگر تم ہماری حفاظت نہیں کر سکتے تو تم ہمارے شوہر نہیں۔ اس سے مسلمانوں کو دوبارہ عزم وحوصلہ ملا اور دوبارہ قتال میں لگ گئے اور مسلمانوں نے نئے سرے سے رومیوں پر ایسا حملہ کیا کہ انہیں مقبوضہ علاقہ کو چھوڑنا پڑا۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: صفحہ 174۔)