Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کو گدھے پر سوار دیکھا اس کا ایک بیٹا معاویہ (رضی اللہ عنہ) سواری کو آگے سے کھینچ رہا تھا جبکہ دوسرا بیٹا یہ یزید سواری کو پیچھے سے ہانک  رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا سوار سواری کو کھینچنے والے اور ہانکنے والے پر لعنت ہو۔ دوم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) نے عبدمناف کو کہا تھا کہ اہل اسلام کو جلدی اپنی گرفت میں لے لو جنت دوزخ نہیں ہے۔ سوم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) نے جبل احد پر کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحابِ محمد  (رضی اللہ عنہ) کو ہٹایا تھا۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

شیعہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) کو گدھے پر سوار دیکھا اس کا ایک بیٹا معاویہ (رضی اللہ عنہ) سواری کو آگے سے کھینچ رہا تھا جبکہ دوسرا بیٹا یہ یزید سواری کو پیچھے سے ہانک  رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا سوار سواری کو کھینچنے والے اور ہانکنے والے پر لعنت ہو۔ دوم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) نے عبدمناف کو کہا تھا کہ اہل اسلام کو جلدی اپنی گرفت میں لے لو جنت دوزخ نہیں ہے۔ سوم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابو سفیان (رضی اللہ عنہ) نے جبل احد پر کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحابِ محمد  (رضی اللہ عنہ) کو ہٹایا تھا۔ 

 الجواب اہلسنّت 

1: یہ سب واقعات ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں اسلامی اصول اور ضوابط کے مطابق کسی بھی شخص کے اسلام سے پہلے کے واقعات کو موجب لعن طعن نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ قبول اسلام سے قبل تو تمام قریش خود بنی ہاشم اور ابوذر وغیرہ اسلام اور داعی اسلام کے شدید دشمن تھے 

2:  یہ ہے کہ مذکورہ روایات ذخیرہ احادیث کی کسی کتاب میں صحیح سند کے ساتھ موجود نہیں ہیں اور کسی واقعہ کی صحت کے لئے صحیح سند کا پایا جانا ضروری ہے علاوہ ازیں اگر انسان تھوڑی سی عقل سے کام لے تو پھر بھی مسئلہ صاف ہو جاتا ہے۔

 غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ان باپ بیٹوں کی کونسی خطا سرزد ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہیں مستحق لعنت قرار دیا گیا؟ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی گناہ اور معصیت کے کیسے لعنت فرمائی؟ اگر آئندہ کے واقعات کو دیکھ کر ان پر لعنت فرمائی تھی تو پھر ان کا اسلام لانا کیوں قبول کیا؟ فتح مکہ کے موقع پر ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کو دارالامان قرار دے کر اسے کیوں عظمت وافتخار عطا کیا تھا ان کی اسلامی اور جنگی خدمات  کیوں قبول کی گئی تھی؟ رشتے ناطے کیوں قائم کیے؟  حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو نجران کا کیوں عامل اور امیر بنایا تھا اہل اسلام اور اہل نجران کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اس عہد نامہ پر مسلمانوں کی طرف سے ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے دستخط کئے۔ طائف کی لڑائی میں حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک آنکھ اللہ کی راہ میں شہید کرائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں  مال کی تقسیم پر ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہ کو مدینہ سے عجوہ کھجوروں کے تحفے بھیجے اور ابو سفیان رضی اللہ کے ہدیے قبول فرمائے۔ حسنین رضی اللہ عنہ نے صلح کر کے بیعت کیوں کی؟؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت تین صوبوں پر کیوں تسلیم کی؟؟ 

یہ تمام واقعات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سچے مسلمان اور اسلام کے سچے خادم تھے بنو امیہ، حضرت ابوسفیانؓ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف تمام واقعات موضوع اور من گھڑت ہیں جو سب ایک گروہ نے بنو امیہ کی سیاسی مخالفت کےمقاصد کے لیے ہی تراشے ہیں۔