فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 12

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر ردّ] 

[اشکال]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:نوویں دلیل:’’ دو مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے سورج کو لوٹایا گیا تھا۔ ایک مرتبہ رجوع آفتاب کا واقعہ عہد رسالت میں پیش آیا۔ اور دوسری بار اس کے بعد ۔ 

٭ پہلی بار :....حضرت جابرو ابو سعید رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل نازل ہو کراللہ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے۔جب وحی نے آپ کو ڈھانک لیاتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ران پر سر رکھے لیٹے رہے، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اشارہ سے عصر کی نماز ادا کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دعا کیجیے کہ اللہتعالیٰ سورج کو لوٹا دے تاکہ آپ کھڑے ہو کر عصر کی نماز پڑھ سکیں ۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے آفتاب واپس آگیا اور آپ نے عصر کی نماز پڑھی۔

٭ دوسری مرتبہ:....رجوع آفتاب کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ بابل کے مقام پر دریائے فرات کو عبور کرنا چاہتے تھے۔ آپ کے رفقا اپنے مویشیوں کے ساتھ مصروف ہو گئے۔ اسی دوران آپ نے چند ساتھیوں کے ساتھ نماز عصر ادا کر لی، جو ساتھی نماز ادا نہ کر سکے تھے جب انھوں نے شکوہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رجوع آفتاب کے لیے دعا کی۔ چنانچہ سورج لوٹ آیا۔ سعید حمیری نے یہ واقعہ نظم میں بیان کیا ہے:

رُدَّتْ عَلَیْہِ الشمس لَمَّا فَاتَہٗ وَقْتُ الصَّلٰوۃِ وَ قَدْ دَنَتْ لِلْمَغْرِبِ

حَتّٰی تَبَلَّجَ نُوْرُہَا فِیْ وَقْتِہَا لِلْعَصْرِ ثُمَّ ہَوَتْ ہُوَیَّ الْکَوْکَبِ

وَ عَلَیْہِ قَدْ رُدَّتْ بِبَابِلَ مَرَّۃً اُخْرٰی وَ مَا رُدَّتْ لِخَلْقٍ مَغْرَبٖ

’’جب آپ کی نماز عصر کا وقت فوت ہوگیا اور مغرب کا وقت قریب آگیا۔ یہاں تک کہ سورج کا نور اپنے وقت عصر کے مطابق چمک گیا۔پھر ستاروں کی طرح اتر گیا۔ اور آپ کے لیے ہی شہر بابل میں ایک بار پھر سورج کو لوٹایا گیا تھا؛ حالانکہ غروب ہونے کے بعد کسی پر سورج کو لوٹایا نہیں جاتا۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضل و کمال پر جو یقین ہمیں حاصل ہے،وللہ الحمد ۔اور یہ فضل و منزلت ایسی اسناد کے ساتھ ثابت ہے جو علم یقینی کا فائدہ دیتی ہیں ۔ان اسناد کی موجودگی میں کوئی اس دروغ گوئی کا محتاج نہیں ۔ عہد رسالت میں رجوع آفتاب کا واقعہ طحاوی رحمہ اللہ اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے بالفاظ دیگر نقل کیا ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شمار کیا ہے۔ مگرمحققین اہل علم اور ماہرین فن جانتے ہیں کہ یہ واقعہ صحیح نہیں ۔یہ روایت ابن الجوزی رحمہ اللہ نے موضوعات نقل کی ہے‘اس نے ابو جعفر العقیلی کی کتاب الضعفاء سے عبیداللہ بن موسیٰ کی سند روایت کی ہے۔ اس نے فضیل بن مزروق سے اور اس نے ابراہیم بن الحسن بن حسن سے اس نے فاطمہ بنت حسین سے اس نے اسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا سے نقل کیاہے کہ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی جا رہی تھی اور آپ کا سرحضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غروب آفتاب تک عصر کی نماز ادا نہ کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:’’اے علی ! کیا نماز پڑھ لی ہے ؟‘‘

تو انہوں نے عرض کی : نہیں ۔اس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! بیشک علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں مشغول تھا تو اس کے لیے سورج کو لوٹا دے۔‘‘ حضرت اسماء کا بیان ہے کہ:میں نے دیکھا کہ آفتاب غروب ہو چکا تھا، پھر میں نے دیکھا کہ وہ غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہو گیا۔‘‘

ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’ یہ روایت بلاشبہ موضوع ہے۔ اس کی سند کے راویوں میں اضطراب ہے۔ سعید بن مسعود نے عبیداللہ بن موسیٰ سے روایت کیا ہے وہ فضیل بن مرزوق سے اوروہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینا ر سے وہ علی بن الحسین رحمہ اللہ سے وہ فاطمہ بنت علی اوروہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں ۔

فضیل بن مرزوق کو یحییٰ رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

ابو حاتم بن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: فضیل موضوعات روایت کرتا اور ثقات سے غلط بیانی کا ارتکاب کرتا ہے۔

ابو الفرج رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس روایت کا انحصار عبید اللہ بن موسیٰ پر ہے۔

میں کہتا ہوں :مشہور یہ ہے کہ سعید بن مسعود نے عبیداللہ بن موسیٰ سے روایت کیا ہے وہ فضیل بن مرزوق سے اوروہ ابراہیم بن الحسن سے وہ فاطمہ بنت علی اوروہ اسماء بنت عمیس سے روایت کرتی ہیں ۔

دوسری سند سے محمد بن مرزوق نے حسین الاشقرسے روایت کیا ہے وہ علی بن عاصم سے وہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار سے وہ علی ابن حسین وہ فاطمہ بنت علی سے اوروہ اسماء بنت عمیس سے روایت کرتی ہیں ۔ جیساکہ اس کا ذکر آئے گا۔

ابو الفرج رحمہ اللہ نے کہاہے کہ :یہ حدیث ابن شاہین نے روایت کی ہے۔ [اس کی سند یہ ہے ]:

((حدثنا محمد بن سعید الہمداني حدثنا احمد بن یحي الصوفي‘ حدثنا عبد الرحمن بن شریک حدثني أبي؛ عن عروۃ بن عبد اللّٰہ بن قشیر۔))

عروہ بن عبد اللہ بن قُشَیر کہتے ہیں میں فاطمہ بنت علی بن ابی طالب کے پاس گیا، تو انھوں نے مجھے رجوع آفتاب کا واقعہ سنایا

ابو الفرج رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ روایت باطل ہے۔

ابو حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی اسناد میں عبدالرحمن ابن شریک انتہائی ضعیف راوی ہے۔

ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں :میرے نزدیک اس کی اسناد میں ابن عقدہ متہم بالکذب ہے، وہ رافضی تھا اور صحابہ کے معائب بیان کیا کرتا تھا۔

صفحہ 1 از 12