فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 12

شیعہ مصنف نے کہا ہے:جب کہ اس کی امیر المومنین سے روایت اس طرح ہے :ہمیں ابو العباس الفرغانی نے خبر دی انہیں ابو الفضل شیبانی نے خبر دی ان سے رجا ء بن یحی سامانی نے حدیث بیان کی۔ ان سے ہارون بن مسلم بن سعید نے سامرا کے مقام پر دوسو چالیس ہجری میں حدیث بیان کی ان سے عبداللہ بن عمرو بن اشعث نے وہ داؤد بن الکمیت سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے چچا مستہل بن زید سے وہ ابو زید بن سہلب سے وہ جویریہ بنت مسہر سے وہ کہتی ہے: ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے جویریہ!بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوا کرتی تھی اور ان کا سرمیری گود میں ہوا کرتا تھا۔ پھر پوری روایت بیان کی۔

میں کہتا ہوں : اس کی سند پہلی سند سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ اس میں ایسے مجہول راوی ہیں جن کی عدالت و ضبط کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ پھر یہ راوی اس کو روایت کرنے میں بھی منفرد ہیں ۔اگر حضرت علی نے ایسا کچھ فرمایا ہوتا تو آپ کے معروف ساتھیوں میں سے بھی کوئی ایک اس کو نقل کرتا۔ ایسی اسناد اور پھر ایسی عورت سے نقل کرنا جس کے حال کے بارے میں کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی اس سے نقل کرنے والے راویوں کے حالات کوئی جانتا ہے۔ان کی صفات و کردار تو دور کی بات ہے ان کی شخصیات کے بارے میں بھی کوئی نہیں جانتا۔ اس طرح کے راویوں کی نقل سے حدیث کی صحت ثابت نہیں ہوتی۔نیز اس روایت میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جو اس سے زیادہ بہتر سند کے ساتھ ثابت روایت سے متناقض ہیں ۔ حالانکہ دونوں ہی باتیں جھوٹ ہیں ۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں وہ احادیث بھی روایت کی ہیں جواس سے کم درجہ کی ہیں ۔لیکن اہل علم اور محدثین میں سے کسی نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ۔

محدثین کی ایک جماعت نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں تصنیفات لکھی ہیں ۔جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے بھی آپ کے فضائل میں کتاب لکھی ہے۔ اورامام ابو نعیم نے بھی آپ کے فضائل مرتب کیے ہیں ۔ اور اس میں بہت ساری ضعیف روایات بھی ذکر کی ہیں ۔ لیکن یہ روایت انہوں نے ذکر نہیں کی۔ اس لیے کہ دوسری رویات کے برعکس اس میں جھوٹ ہونے کی نشانیاں صاف واضح ہیں ۔ ایسے ہی امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اس کا ذکر تک نہیں کیا حالانکہ آپ نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں احادیث جمع کی ہیں ۔جن میں بہت ساری روایات ضعیف ہیں ۔ ایسے ہی امام نسائی اور ابوعمر بن عبد البر رحمہما اللہ کا حال ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے آپ کے فضائل میں خصائص علی کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

شیعہ مصنف نے کہا ہے: ابو جعفر الطحاوی نے علی بن عبدالرحمن سے حکایت کیا ہے وہ احمدبن صالح المصری سے روایت کرتا ہے وہ کہا کرتا تھا: جو انسان علم کی راہوں پر چلنے والا ہو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ رد شمس کی حدیث کے اسماء حفظ کرنا بھول جائے اس لیے کہ یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ہے۔

میں کہتا ہوں : احمد بن صالح نے اسے پہلی سند سے نقل کیا ہے۔لیکن اس کی اسناد اور الفاظ جمع نہیں کیے۔ اور بھی کئی چیزیں ایسی ہیں جن سے اس روایت کا جھوٹ۔ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔اس سند کے راوی احمد بن صالح کے ہاں مجہول ہیں ۔ اس کے لیے ان کا جھوٹاہونا ظاہر نہیں ہوا۔ اور نہ ہی اسے روایت کے جھوٹ ہونے کا پتہ چل سکا۔ اور امام طحاوی کی عادت نہیں ہے کہ وہ حدیث پر محدثین کے ضوابط کے مطابق تنقید کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے شرح معانی الاثار میں مختلف احادیث جمع کی ہیں ۔ آپ غالب طور پر اسی روایت کو ترجیح دیتے ہیں جو قیاس کی جہت سے ترجیح پاتی ہو۔اس لیے کہ قیاس ان کے ہاں حجت ہے۔ جبکہ اسنادی اعتبار سے ان کے ہاں اکثر روایات مجروح ہوتی ہیں ان میں سے کسی کی صحیح سند ثابت نہین ہوتی۔ اورنہ ہی آپ اس چیز سے کوئی تعرض کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو اسناد کے علوم کی اتنی معرفت نہیں تھی جتنی معرفت دوسرے اہل علم کو ہوتی ہے۔ اگرچہ آپ نے بہت زیادہ احادیث بھی روایت کی ہیں اور ایک فقیہ عالم بھی تھے۔

شیعہ مصنف کہتا ہے: ابوعبداللہ بصری نے کہا ہے: اس نقل کے تقاضا کے مطابق سورج کے غروب ہونے کے بعد اس کا لوٹ کر آنا متأکد ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہ اگرچہ امیر المؤمنین کی فضیلت ہے لیکن درحقیقت یہ نبوت کے معجزات میں سے ہے۔معجزات نبوت میں سے آپ کی فضائل میں یہ واقعہ کئی وجوہات کی بنا پر دوسرے معجزات سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔

میں کہتا ہوں : یہ اس کے جھوٹ ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل علم محدثین نے فضائل علی میں وہ روایات بھی نقل کی ہیں جو معجزات نبوت میں سے نہیں ہیں ۔اور انہیں صحاح و سنن اور مسانید میں جگہ دی ہے۔انہیں معروف اور ثقہ اعلام راویوں سے نقل کیا گیاہے۔اگریہ روایت بھی ثقات کی روایات میں سے ہوتی تو وہ محدثین اس کو بھر پور رغبت کے ساتھ روایت کرتے۔ اس لیے کہ وہ لوگ حدیث کی صحت بیان کرنے کے بڑے حریص تھے۔ لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی اس روایت کو کسی ایسی سند سے نقل نہیں کیا جس کے راوی مشہور اور ثقہ اہل علم ہوں ۔ اور نہ ہی ان راویوں کی عدالت اورثقاہت کے بارے میں کچھ علم ہوسکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خود اس روایت میں بہت ساری ایسی دلیلیں موجود ہیں جو اس روایت کے جھوٹ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔

نیز کہتا ہے: ابو العباس بن عقدہ نے کہا ہے ہم سے جعفر بن محمدبن عمرو نے حدیث بیان کی اس سے سلیمان بن عباد نے اس بشار بن دراع سے سنا اس نے کہا ہے: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ محمد بن نعمان سے ملے اور اس سے پوچھا: آپ نے حدیث رد شمس کس سے روایت کی ہے؟ اس نے کہا:اس سے روایت نہیں کی جس نے حدیث یا ساریہ الجبل روایت کی ہے۔ یہ تمام باتیں اس روایت کے صحیح ہونے کا ثبوت ہیں ۔

صفحہ 11 از 12