فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 12

ابو احمد ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : میں نے ابوبکر بن ابی طالب کو یہ کہتے سنا کہ:’’ ابن عقدہ حدیث نبوی پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔‘‘یہ شیوخ[ابن عقدہ کا نام احمد بن محمد سعید کوفی (۲۴۹۔۳۳۳) ہے اس کا ترجمہ میزان الاعتدال (۱؍۶۴) نیز تذکرۃ الحفاظ(۳؍۵۵) پر مذکور ہے شیعہ کی تصانیف میں بھی اس کا ترجمہ مندرج ہے۔( دیکھیں :تنقیح المقال۱؍۸۵) شیعہ اس کے امامیہ ہونے کی نفی کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ زیدی جارودی تھا۔ تاہم وہ اسے صرف اس لیے الفت و مودّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ اس کا سینہ عداوت صحابہ سے معمور تھا۔ وہ مناقب صحابہ سے اعراض کرکے جھوٹے نقائص و معائب بیان کیا کرتا تھا۔ شیعہ کی مشہور کتاب الحادی میں لکھا ہے کہ وہ فاسد المذہب ہونے کے باوجود ثقہ ہے۔] کوفہ کو جھوٹی روایات بیان کرنے پر آمادہ کیا کرتا تھا۔ان کے لیے جھوٹ گھڑتا اور پھر انہیں روایت کرنے کا حکم دیتاتھا۔ہم نے کئی مشائخ سے اس کی تصدیق کرکے اس پر یقین کیا ہے۔ جب امام دارقطنی رحمہ اللہ سے ابن عقدہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’وہ برا آدمی ہے۔‘‘

اس کی اسناد میں داؤد بن فراہیج ہے جس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام شعبہ نے اس داؤد کو ضعیف قرار دیا ہے۔[المنتقی میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں :میں کہتا ہوں :’’ یہ صحیح نہیں کہ داؤد نے یہ روایت بیان کی ہے۔یزید نوفلی نے یہ روایت داؤد سے نقل کی ہے اور یزید ضعیف راوی ہے۔ یزید سے اس کا بیٹا یحییٰ روایت کرتا ہے وہ بھی ضعیف ہے۔سیدناعلی کے لیے رجوع آفتاب کے بارے میں دیکھیے مختصر تحفہ اثنا عشریہ، ص: ۱۸۵۔ ۱۸۷، حوالہ مذکور میں محدث ابن حزم کا کلام قابل ملاحظہ ہے۔ ]

میں کہتا ہوں :’’اس کی سند میں کوئی بھی راوی ایسا نہیں جس سے کسی ادنی مسئلہ میں بھی احتجاج کیا جاسکتا ہو۔

دوسری بار: بابل میں [سورج کی واپسی] ۔ اس روایت کے جھوٹ ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ حمیری کے شعر کہنے میں کوئی دلیل نہیں ۔اس لیے کہ اس نے خود اس کا مشاہدہ نہیں کیا۔جھوٹ بہت پرانا ہے۔ اس نے بھی کسی سے یہ [جھوٹ] سن لیا ہوگا اور پر شعر کہہ دیے ہوں گے۔غالی لوگ مدح و ذم میں ایسی چیزوں کو شعری شکل میں پرو دیتے ہیں کہ ان کی صحت تحقیق کے ساتھ ثابت نہیں ہوتی۔ خصوصاً جب کہ حمیری[٭....حمیری : اسماعیل بن محمدبن یزید بن ربیعہ حمیری رافضی شاعر تھا ‘ ۱۰۵ ہجری میں پیدا ہوا اور۱۷۹ ہجری میں وفات پائی ۔ ابن حجر کہتے ہیں : انتہائی خبیث رافضی تھا۔دارقطنی کہتے ہیں : اپنے شعروں میں صحابہ کرام پر طعن کرتا اور حضرت علی کی مدح کیا کرتا تھا۔ شہرستانی نے اسے مختاریہ کیسانیہ میں سے شمار کیا ہے۔ یہ مختار بن ابو عبید ثقفی کے وہ ساتھی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد محمد بن حنفیہ کی امامت کے قائل ہیں ۔اس کے حالات زندگی جاننے کے لیے دیکھیں : لسان المیزان ۱؍۴۳۶۔ البدایۃوالنہایۃ ۱۰؍۱۷۳۔ الملل والنحل ۱؍۱۳۳۔] غلو کرنے میں معروف ہے۔ 

بعض انبیاء علیہم السلام کے لیے رجوع آفتاب:

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں سے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’ انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی نے جہاد کیا؛ اور اپنی قوم سے انہوں نے فرمایا:’’ جس آدمی نے ابھی شادی کی ہو اور اس نے ابھی تک شب زفاف نہ گزاری ہو اور وہ یہ چاہتا ہو کہ اپنی بیوی کے ساتھ رات گزارے تو وہ آدمی میرے ساتھ نہ چلے۔ اور نہ ہی وہ آدمی میرے ساتھ چلے کہ جس نے مکان بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو۔ اور میرے ساتھ وہ بھی نہ جائے جس نے بکریاں اور گابھن اونٹیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ جننے کا انتظار میں ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ:’’ اس نبی علیہ السلام نے جہاد کیا ‘اورایک گاؤں کے قریب آئے ؛ وہاں عصر کی نمازپڑھی۔تو انہوں نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں ۔ یا اللہ! اس سورج کو کچھ دیر مجھ پر روک دے پھر سورج کو ان پر روک دیا گیا؛ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عطا فرمائی۔‘‘[مسند احمد(۲؍۳۱۸،۳۲۵)، صحیح بخاری ، کتاب فرض الخمس باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ احلت لکم الغنائم‘‘ (حدیث :۳۱۲۴) ، صحیح مسلم، کتاب الجہاد ، باب تحلیل الغنائم لہذہ الامۃ خاصۃ،(حدیث:۱۷۴۷)۔]

اگر سوال کیا جائے کہ یہ امت تو بنی اسرائیل سے افضل ہے۔اگر سورج کویوشع علیہ السلام کے لیے واپس کردیا گیا تھا تو پھر اس امت کے فضلاء کے لیے واپس کیے جانے میں کونسا حرج ہے؟

تو ہم جواباً کہیں گے کہ: آفتاب لوٹایا نہیں گیا تھا، بلکہ دن کو لمبا کردیا گیا تھا؛ اور اس طرح آفتاب دیر سے غروب ہوا۔ بعض دفعہ لوگوں کے لیے یہ چیز ظاہر نہیں ہوتی۔اس لیے کہ دن کی چھوٹائی، بڑائی کا احساس نہیں ہوتا۔ یوشع علیہ السلام کے لیے دن ٹھہر جانے کا علم ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نص کے ذریعہ حاصل ہواہے۔[ اگر نص سے آفتاب کا لوٹ آنا ثابت ہوجائے تو ہمیں اس کے تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ]۔

مزید برآں کہ دن کے لمبا کیے جانے میں کوئی مانع بھی نہیں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرنا چاہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ حضرت یوشع علیہ السلام کو رجوع آفتاب کی ضرورت تھی، اس لیے کہ غروب آفتاب کے بعد ہفتہ کا آغاز ہو رہا تھا، جس میں لڑائی حرام تھی۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر ہفتہ کی رات او رہفتہ کا دن کام کرنا حرام کردیا تھا۔[اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ سورج لوٹ آئے تو حضرت یوشع اپنے مشن کی تکمیل کر سکیں ]۔ بخلاف ازیں امت محمدیہ میں اس چیزکی کوئی ضرورت نہیں تھی،اور نہ ہی ایسا کرنے میں کوئی فائدہ ہے۔ اس لیے کہ سہل انگاری کی بنا پر جس کی نماز عصر فوت ہو جائے تو اس کا یہ گناہ توبہ سے معاف ہو جائے گا۔اور توبہ کے لیے سورج کے واپس کیے جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ اور اگر اس میں وہ بے قصور ہے مثلاً سویا رہا یا بھول گیا تو وہ بڑی آسانی سے بعد از غروب فوت شدہ عصر ادا کر سکتا ہے۔

صفحہ 2 از 12