فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 12

پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ غروب آفتاب کے ساتھ عصر کا وقت جاتا رہتا ہے بالفرض اگر سورج لوٹ آئے اور کوئی شخص رجوع آفتاب کے بعد نماز عصر ادا کرے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اس نے عصر کی نماز اصلی وقت پر ادا کی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشمس وَ قَبْلَ غُرُوْبِہَا﴾

’’اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا رہ، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ ۔‘‘[طہ ۱۳۰]۔

اس میں مغرب کا مشہور وقت مراد ہے۔انسان پر لازم ہے کہ اس غروب آفتاب سے پہلے مغرب کی نماز پڑھ لے ۔ جب سورج طلوع ہو او رپھر غروب ہو۔ اسی طرح غروب آفتاب کے ساتھ روزہ کا افطار کرنا اور نماز مغرب ادا کرنا درست ہوتا ہے۔ اب بار ثانی آفتاب کے طلوع پذیر ہونے سے افطار کرنے والے کا روزہ فاسد نہیں ہوگا [ اور اس کی نماز باطل نہیں ہو جائے گی] یہ ایک فرضی بات ہے جو کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی ہوگی۔پھر اس کو مقدر ماننا ایسی چیز کو مقدر ماننا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ فروعات میں کلام کرنے والے علماء کے ہاں اس جیسی مثالوں کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا۔

نیز غزوۂ خندق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر فوت ہو گئی تھی۔ آپ نے کثیر صحابہ کی معیت میں بصورت قضاء ادا کی تھی۔ اور رجوع آفتاب کی دعا نہ فرمائی،[ حالانکہ آپ کو اس سے بڑا دکھ ہوا، اور آپ نے اس سے روکنے والے کفار کے حق میں بد دعا بھی فرمائی تھی۔ [صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق(حدیث:۴۱۱۱،۴۱۱۲)، صحیح مسلم ، کتاب المساجد، باب الدلیل لمن قال الصلاۃ الوسطی ....‘‘ (حدیث: ۶۲۷۔۶۳۱)۔]اس بات کا احتمال ہے کہ آفتاب بادل کے نیچے چھپا ہوا ہو اور پھر نمودار ہو گیا ہو تو انھوں نے سمجھا کہ دوبارہ طلوع ہوا ہے]۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ خندق کے بعد صحابہ کرام کو بنی قریظہ کی طرف بھیجا تو فرمایا:

’’ تم میں ہر کوئی نماز عصر بنی قریظہ کے پاس پہنچ کر پڑھے؛ مگر نماز کا وقت راستہ ہی میں آ گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا:’’ ہم تو وہیں پہنچ کر نماز پڑھیں گے۔‘‘ بعض نے کہا کہ :’’ہم تو پڑھ لیتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ نہیں تھا کہ نماز قضا کردی جائے۔‘‘ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کچھ نہیں فرمایا۔‘‘[سبق تخریجہ]

پس یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جنہوں نے سورج غروب ہونے کے بعد نماز عصر ادا کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تو نہیں ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے غروب آفتاب کے بعد نماز عصر پڑھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ایسا کرنے کے زیادہ مستحق تھے ۔

اگر غروب آفتاب کے نماز جائز نہیں تھی یا ناقص تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ آپ کے لیے سورج کو واپس لایا جاتا۔اور اگرنماز کامل اور جائز تھی تو پھر سورج کی واپسی کی ضرورت نہیں تھی۔

مزیدبرآں اس جیسے خارج از عادات قضایا اور امور عظیمہ ‘ جن کو نقل کرنے کے اسباب اور ہمتیں موجود ہوں ‘ اگر پیش آئے ہوتے تو لوگ ضرور اسے نقل کرتے ۔ جب ایک دو افراد کے علاوہ کسی نے بھی اس کو نقل نہیں کیا تو اس سے اس روایت کا جھوٹ ہونا معلوم ہوگیا۔

انشقاق قمر کا واقعہ رات کو لوگوں کے سونے کے وقت میں پیش آیا ‘ مگر اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے کئی طرح سے نقل کیا ہے۔ اوراس واقعہ کوصحاح ‘ سنن ‘ اور مسانید کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی کئی اسناد کے ساتھ روایت کیاگیا ہے۔اور اس کے بارے میں قرآن بھی نازل ہوا۔توپھر سورج کی واپسی ‘جو کہ دن کے وقت میں پیش آنے والا واقعہ ہے ؛ اسے اتنی شہرت نہ ملے اورنہ ہی اہل علم لوگ اسے روایت کریں ؟[عجیب بات ہے ] [مشرکین کے معجزہ طلب کرنے پر چاند دوٹکڑے ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جسے بڑی تعداد میں صحابہ نے روایت کیا ہے۔ البخاری ‘ کتاب المناقب ‘باب سؤال المشرکین أن یریہم النبی صلي اللّٰه عليه وسلم آیۃ۔وفی ہذا الباب عبداللّٰہ بن مسعود ‘ وانس بن مالک وابن عباس وغیرہم ۔ بخاری کتاب مناقب الانصار ‘ باب انشقاق القمر۔ کتاب التفسیر‘ سورۃ اقترب الساعۃ۔ مسلم کتاب صفات المنافقین و أحکا مہم؛ باب انشقاق القمر۔سنن الترمذی کتاب التفسیر ‘ باب سورۃ القمر۔]

یہ بات کبھی بھی معلوم نہیں ہوسکی کہ سورج غروب ہونے کے بعد واپس پلٹا ہو۔اگرچہ بہت سارے فلاسفہ ‘ نیچری اور اہل کلام انشقاق قمر کا اوراس جیسے دیگر معجزات کا بھی انکار کرتے ہیں مگر اس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔ یہاں پر بیان کرنے کا مقصدیہ ہے کہ یہ واقعہ افلاک میں سب سے بڑی نشانی اورخارق عادت ہوتا؛ اوربہت سارے لوگ اس کے امکان کا انکار کرتے ؛ اوراگر ایسا پیش آیا ہوتا تو اس کو نقل کرنے والے اس تعداد سے زیادہ ہوتے جو تعدا د اس سے کم درجہ کے واقعات کونقل کرتی ہے۔اور پھر اس واقعہ کو قبول بھی کیسے کیا جاسکتا ہے جب کہ اس کی کوئی مشہور سند ہی نہیں ۔اس سے یہ علم یقینی طور پر حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ سارا من گھڑت واقعہ ہے جو کہ پیش نہیں آیا۔

ہاں اگر ایسا ہوا تھا کہ سورج بادلوں میں چھپ گیا تھا‘ اور پھر بادل چھٹ جانے کے بعد نظر آنے لگا تو یہ عام سی بات ہے ؛ شاید لوگوں نے اسے غروب آفتاب گمان کرلیا ہو‘اور پھربادل چھٹ گئے ہوں ۔اور اگر ایسا واقعہ بھی پیش آیا تو تھا تو اس میں صرف اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عیاں کردیا کہ ابھی وقت باقی ہے اور نماز پڑھی جاسکتی ہے ۔ ایسے واقعات تو بہت سارے لوگوں کے لیے پیش آتے ہیں ۔

رجوع آفتاب کی حدیث کی سند پر بحث:

صفحہ 3 از 12