فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 12

میں کہتا ہوں : یہ الفاظ پہلی روایت سے متناقض ہیں ۔اس لیے کہ پہلی روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر میں رکھ کر عصر سے غروب آفتاب تک سوئے رہے۔اور یہ واقعہ غزوہ خیبر کے موقع پر صہباء نامی مقام پر پیش آیا۔ جب کہ دوسری روایت میں ہے آپ جاگ رہے تھے اور جبریل امین آپ پر وحی نازل کررہے تھے۔اور آپ کا سر مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ یہ تناقض دلالت کرتا ہے کہ اس روایت کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں ۔ اس لیے کہ ُاس روایت میں صراحت ہے کہ اس وقت آپ سوئے ہوئے تھے۔ جب کہ اِس روایت میں ہے کہ آپ جاگ رہے تھے اور وحی نازل ہورہی تھی۔یہ دونوں ہی باتیں باطل ہیں ۔اس لیے کہ عصر کے بعد سونا مکروہ و ممنوع ہے۔جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں آپ کا دل نہیں سوتا۔ تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نماز کیسے فوت ہوسکتی ہے؟

پھر اگر یہ اس جیسے موقعہ پر نماز کا فوت کرنا یا تو جائز تھایا جائز نہیں تھا۔ اگر نماز کو[اپنے وقت سے] چھوڑ دینا اگر جائز تھا توپھر اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مغرب کے بعد عصر پڑہنے پر کوئی ملامت نہیں ۔آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل نہیں ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر خندق کے موقعہ پر رہ گئی تھی؛ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ اس کے بعد آپ نے نماز پڑھی مگر آپ کے لیے سورج واپس نہیں لوٹایا گیا۔ اورایسے ہی جب سلیمان علیہ السلام کے لیے سورج کو چھپ جانے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹایا گیا۔ اور ایسے ہی ایک غزوہ کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے صحابہ نماز فجر کے وقت سو گئے؛ یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔لیکن ان کے لیے سورج کو دوبارہ مشرق کی طرف نہیں لوٹایا گیا۔

اگر نماز کواس کے وقت سے تاخیر کے ساتھ پڑھنا حرام تھا ؛ سو نماز عصر کا وقت فوت کردینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’من فاتتہ صلاۃ العصر فکأنما وتر أہلہ ومالہ۔‘‘ [سبق تخریجہ] 

’’ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا کہ اس کے اہل و مال تباہ ہوگئے ۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ کواس کا علم تھا کہ نماز وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔ آپ نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے ؛ صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( شغلونا عن الصلاۃ الوسطی صلا ۃالعصر حتی غربت الشمس ملأ اللہأجوافہم وبیوتہم ناراً۔))[رواہ البخاری کتاب الجہاد والسیر۔ومسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ۔ ]

’’ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر سے مشغول کردیا ؛ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور گھروں کو آگ سے بھر دے ۔‘‘

یہ خندق کا واقعہ ہے۔ اور خیبر خندق کے بعد پیش آیا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ اس قسم کے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کریں ۔اور جبریل امین اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اس فعل پر برقرار رکھیں ۔اور جو کوئی ایسا کرے تو یہ اس کا عیب ہے منقبت نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوایسے عیوب سے منزہ و پاک رکھا ہے۔اور پھر اگرنماز فوت ہوگئی تو سورج کے واپس ہونے سے گناہ ساقط نہیں ہوگا۔

نیز یہ کہ اگریہ قصہ خیبر کی سر زمین پرلشکر کے سامنے پیش آیا ہے؛ اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد چودہ سو سے زیادہ تھی اور یہ لشکر جرار اس منظر کودیکھ رہاتھا؛ ایسے واقعات کونقل کرنے کی وجوہات اور اسباب و دواعی بھی موجود تھے؛ تو پھر یہ بات ممتنع ہوجاتی ہے کہ اسے ایک دو افراد تو نقل کریں مگر اہل علم اتنے اہم واقعہ کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔اور پھر اس کے روایت ونقل کرنے والے بھی ایسے مجہول لوگ ہیں جن کی عدالت اورضبط واتقان کا کسی کو کوئی علم نہیں ۔

نیز اس واقعہ کی تمام اسناد میں سے ایک سند بھی ایسی نہیں ہے جس سے اس کے ناقلین کا عدل و ضبط اورسند کا اتصال ثابت ہوسکتا ہو۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقع پر فرمایا تھا:

(( لأعطین الرایۃ غداً رجلا یحب اللّٰہ و رسولہ و یحبہ اللّٰہ و رسولہ)) [ رواہ البخاری۵؍۸۱؛ کتاب المغازي؛ غزوۃ الخیبر۔]

’’کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ' اور اللہ اوراس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

جب کہ سابق الذکر حدیث نہ ہی حدیث کی کسی مستند کتاب میں ہے اور نہ ہی اسے اہل صحاح و سنن اور مسانید نے روایت کیا ہے۔ بلکہ اس کے ترک کرنے اور اس سے اعراض کرنے پر سب کا اتفاق ہے۔ اور اتنا عظیم واقعہ ہوبھی کیسے سکتا ہے؟ اگر یہ واقعہ واقعی حق ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور و کھلے ہوئے معجزات میں سے ہوتا۔ جب کہ اصحاب صحاح ومسانید میں سے کسی ایک نے بھی اسے نقل تک نہیں کیا۔اور نہ ہی علما اسلام اور حفاظ حدیث میں سے کسی ایک نے اسے روایت کیا ہے اورنہ ہی معتمد کتب احادیث میں اس کا کوئی اتا پتہ ملتا ہے۔

پہلی سند سے قطری نے عون سے اور اس نے اپنی والدہ سے روایت کیا ہے وہ حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں ۔عون اور اس کی ماں کی عدالت اور حفظ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں اورنہ ہی یہ لوگ علم نقل کرنے میں معروف ہیں ۔اورنہ ہی کسی معمولی سی چیز میں ان کی روایات سے استدلال کیا جاسکتا ہے تو پھر اتنے بڑے مسئلہ میں ان سے استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے؟اورنہ ہی اس عورت نے خود حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے سنا ہے۔ شاید کہ اس نے کسی ایسے سے سن لیا ہو جو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اس کوبیان کرتا ہو۔

اس مصنف نے ابن ابی فدیک کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے اسے ثقہ کہا ہے اور قطری کے بارے میں بھی کہا ہے کہ وہ ثقہ ہے ۔لیکن اس کے بعد والے کوثقہ کہنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔بلکہ صرف ان کا نسب بیان کرنے پر گزارہ کرلیا۔ کسی انسان کا صرف نسب معلوم ہونے سے یہ ضروری نہیں ہوجاتا کہ وہ آدمی حافظ اور ثقہ بھی ہو۔

صفحہ 5 از 12