فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 12

جب کہ اس کی دوسری سند کا مدار فضیل بن مرزوق پر ہے۔اگرچہ یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تو پھر بھی یہ ثقہ راویوں کی طرف غلط روایات کا انتساب کرنے میں معروف ہے۔علامہ ابن حبان رحمہ اللہ اس کے متعلق فرماتے ہیں : ثقہ لوگوں پر غلط روایات منسوب کرتا ہے۔ اور عطیہ سے موضوع روایات نقل کرتا ہے۔

ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ناقابل استدلال ہے۔ یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعیف ہے۔

یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اس قول سے متناقض نہیں ہے جس میں آپ فرماتے ہیں : میں اس کے متعلق خیر کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ اور امام سفیان رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا ہے۔ اور یحیی رحمہ اللہ نے بھی ایک بار اسے ثقہ کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا۔ لیکن غلطی کا ارتکاب کرجاتا ہے۔ جب امام مسلم اس کی متابعات روایت کرتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کی منفردات بھی روایت کی جائیں ۔ نیز یہ کہ ابراہیم سے اس کا سماع ثابت نہیں ۔اور نہ ہی ابراہیم کاسماع فاطمہ سے ثابت ہے اور نہ ہی فاطمہ کا سماع اسما سے ثابت ہے۔

حدیث کے ثابت ہونے کے لیے لازم ہے کہ ان تمام راویوں کا عدل و ضبط معلوم ہو اور یہ کہ راویوں کا آپس میں ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو۔ جب کہ ان چیزوں کا علم ہمیں نہیں ہوسکا۔ ابراہیم نامی اس راوی سے صحاح و سنن جیسی معتمد کتابوں میں کوئی روایت منقول نہیں اور نہ ہی ان کتابوں میں اس کا کوئی تذکرہ ملتا ہے بخلاف فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا کے۔ ان کی روایات احادیث معروف ہیں ۔ تو پھر ایسی روایت سے کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے جسے کسی ایک بھی معروف عالم نے اپنی کسی معتمد کتاب میں روایت نہ کیا ہو ۔

کسی انسان کے والد کے بڑے عظیم القدر ہونے سے یہ واجب نہیں ہوتا کہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث مبارکہ روایت کرنے میں مامون عالم ہو۔ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ اور ان میں سے ہر ایک کی ان سے اولاد بھی ہے۔یہ سبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے۔ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ روایت نقل نہیں کی۔اسما ء رضی اللہ عنہا کے بیٹے محمد جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوتیلے بیٹے یعنی لے پالک تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کی محبت بہت مشہور ہے مگر اس کے باوجود آپ نے تو حضرت اسما رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل نہیں کی۔ مزید برآں کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہ پہلے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ۔اور ان کے ساتھ حبشہ میں مقیم تھیں ۔ آپ فتح خیبر کے بعد حبشہ سے مدینہ وارد ہوئیں ۔ اس قصہ میں بیان کیا جارہا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ خیبر کے موقع پر ارض خیبر میں پیش آیا۔اگراس کو صحیح مان لیا جائے تو خیبر کے بعد کا واقعہ ہوسکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کے موقع پر اہل حدیبیہ موجود تھے ان کی تعداد چودہ سوتھی۔لشکر کی یہ تعداد اس وقت بڑھ گئی جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگ حبشہ سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کشتی میں تشریف لے آئے۔نیز اہل خیبر میں سے جو لوگ مسلمان تھے اور آپ کے ساتھ مل گئے تھے ان کی وجہ سے بھی لشکر کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ روایت نقل نہیں کی۔ اس سے قطعی طورپر یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ قصہ محض من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔

یہاں پر اس قصہ کے راوی فضیل اور اس کے بعدکے راویوں پر اس صورت میں تنقید وارد ہوتی ہے جب یہ یقین ہو جائے کہ انہوں نے یہ واقعہ روایت کیا ہے۔ وگرنہ ان تک اس قصہ کی سند کے موصول ہونے میں نظر ہے۔[فضیل بن مرزوق الاغر الرقاشی الکوفی ؛اسے سفیان بن عیینہ اور یحییٰ بن معین نے ثقہ کہا ہے۔ابن عدی کہتے ہیں : لا بأس۔ جب کہ امام نسائی اور عثمان بن سعید نے ضعیف کہا ہے ‘۔ یہ شیعہ ضرور تھا مگر صحابہ کرام کو گالیاں نہیں دیا کرتا تھا۔تہذیب التہذیب ۷؍۲۹۸۔]

اس لیے کہ پہلا راوی جوکہ فضیل سے روایت کرتا ہے وہ حسین بن حسن الاشقر کوفی ہے۔[اس کا پورا نام حسین بن حسن الاشقر الفرازی الکوفی ہے۔ علامہ بن حجر کہتے ہیں : امام بخاری نے فرمایا ہے: یہ محل نظر ہے ۔ اور ایک بار فرمایا : ’’اس کے پاس منکر روایات ہیں ۔‘‘ تہذیب التہذیب ۲؍۳۳۵۔ میزان الاعتدال ۱؍۵۳۱۔]

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اس کے پاس منکر روایات ہیں ۔

امام نسائی اور دار قطنی رحمہما اللہ فرماتے ہیں : قوی راوی نہیں ہے ۔

امام ازدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعیف ہے۔

علامہ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حسین الاشقر غالی شیعہ اور صحابہ کرام کو گالیاں دینے والوں میں سے ہے۔

ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : منکر احادیث روایت کرتا ہے۔جوکہ میرے نزدیک بہت بڑی آزمائش ہیں ۔کوفہ کے ضعیف راویوں کی ایک جماعت اپنی ضعیف روایات کو اسی کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔

تیسری سند: اس کی تیسری سند میں عمار بن مطر ہے جو کہ فضیل بن مرزوق سے روایت کرتا ہے۔ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقات کے نام پر منکر روایات بیان کرتا ہے۔

امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : باطل احادیث بناکر جھوٹ بولا کرتا تھا۔

ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں : متروک الحدیث ہے۔[عمار بن مطر کی کنیت ابو عثمان الرھاوی تھی۔ میزان الاعتدال ۳؍۱۶۹پر اور لسان المیزان ۴؍۲۷۵ پر اس کے حالات زندگی تحریر ہیں ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند سے رجوع آفتاب کی حدیث نقل کی ہے۔پھر اس کے بعد فرمایا ہے : ’’ عمار بن مطر ہلاک ہونے والا انسان تھا ۔ بعض لوگوں نے اسے ثقہ بھی کہہ دیا ہے۔اور بعض نے اس کے حفظ کا کہا ہے۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں :ابن حبان نے کہا ہے: یہ احادیث چرایا کرتا تھا۔عقیلی فرماتے ہیں :ثقات کا نام لیکرمنکر روایات نقل کیا کرتا تھا۔ ابو حاتم الرازی نے ’’الجرح والتعدیل م۳ ص ۳۹۴ پر اس کا ذکر کیا ہے ۔علامہ ذہبی اورابن حجر اس کے متعلق فرماتے ہیں : ’’جھوٹ بولا کرتا تھا۔‘‘]

صفحہ 6 از 12