فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 12

اس کی پہلی سند میں عبیداللہ بن موسیٰ العبسی ہے۔[عبیداللہ بن موسیٰ متروک راویوں میں سے ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے اس سے روایت کرنا ترک کردیا تھا۔ ابن قانع فرماتے ہیں : کوفی ہے‘ اچھا انسان تھا ؛ مگر شیعہ تھا۔ علامہ ساجی فرماتے ہیں : ’’ غالی شیعہ تھا۔‘‘ علامہ ذہبی میزان الاعتدال ۳؍۱۶ پر فرماتے ہیں : ’’ انتہائی بگڑا ہوا شیعہ تھا۔‘‘] بعض اسناد میں لفظ عن سے فضیل سے روایت کرتا ہے اور بعض روایات میں حدثنا کہتا ہے۔اگراس کاحدثنا کہنا ثابت نہ ہو تو پھر اس بات کا امکان رہتا ہے کہ اس نے فضیل سے سنا ہی نہ ہو۔اس لیے کہ یہ شیعہ دعاۃ میں سے تھا اور شیعیت کی احادیث جمع کرنے کا بڑا حریص تھا۔ اس لیے وہ اپنی غرض کی تکمیل کے لیے کذابین سے بھی روایات نقل کرلیا کرتا تھااور اپنے اس گورکھ دھندے میں بڑا ہی مشہور تھا اس میں کوئی شک و شبہ والی بات نہیں ۔اگرچہ بعض لوگوں نے اس کو ثقہ بھی کہہ دیاہے؛اورکہا ہے کہ جھوٹ نہیں بولتا۔یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا نہیں ؛ لیکن مشہور جھوٹوں سے روایات ضرور نقل کرتاہے۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ اس کی وہی روایات نقل کرتے ہیں جن کے بارے میں ثابت ہوجائے کہ وہ کسی دوسری صحیح سند سے ثابت ہے۔جب کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس سے ایک روایت بھی نقل نہیں کی۔ مصنف نے کہاہے:ہماری پیش کردہ روایات کے علاوہ بھی فاطمہ سے اس کی دیگر روایات منقول ہیں ۔

پھر یہ روایت بھی ایسی اندھیرسند کیساتھ مروی ہے کہ اس کا جھوٹ ہونا ہر انسان پر ظاہر ہوجاتا ہے جسے معرفت حدیث سے ادنی سی بھی دلچسپی ہو۔ اس نے ابو حفص کتانی کی حدیث روایت کی ہے اور کہاہے:

(( حدثنا محمد بن عمر القاضِی ہو الجعانِی حدثنا محمد بن ِإبراہِیم بنِ جعفر العسکرِی مِن أصلِ کِتابِہِ، حدثنا حمد بن محمدِ بنِ یزِید بنِ سلیم، حدثنا خلف بن سالِم، حدثنا عبد الرزاقِ، حدثنا سفیان الثورِی، عن أشعث بنِ أبِی الشعثائِ، عن أمِہِ، عن فاطِمۃ، عن أسماء أن النبِی رضی اللّٰہ عنہم دعا لِعلِی حتّی ردت علیہِ الشمس....))

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی یہاں تک کہ سورج واپس لوٹایا گیا ۔‘‘

یہ روایت صرف اس انسان سے قبول جاسکتی ہے جس کی عدالت و ضبط کا علم ہو۔ مجہول الحال سے حدیث قبول نہیں کی جا سکتی۔توپھر کیسے یہ ممکن ہوسکتا ہے جب کہ محدثین جانتے ہیں کہ امام سفیان ثوری اور عبدالرزاق صنعانی جیسے محدثین نے اس سے یہ روایت نقل نہیں کی۔ثوری اور صنعانی کی روایات محدثین کے ہاں معروف ہیں اور ان کے اصحاب ومشائخ بھی محدثین کے ہاں معروف ہیں اوراسے خلف بن سالم نے بھی روایت کیا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان لوگوں نے اس روایت نقل کیا ہے تو پھر بھی اس کی سند میں ام اشعث مجہول راویہ ہیں ان کی روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی۔

اس کی دوسری سند محمد بن مرزوق کی سند سے ہے۔وہ کہتاہے:

((حدثنا حسین الأشقر، عن علِیِ بنِ ہاشِم، عن عبدِ الرحمنِ بنِ عبدِ اللّٰہِ بنِ دِینار، عن علِیِ بنِ الحسینِ، عن فاطِمۃ بِنتِ علِی، عن أسماء بِنتِ عمیس ....‘‘ الحدیث۔))

میں کہتا ہوں : حسین اشقر کے بارے میں علما کرام کا کلام پہلے گزرچکاہے۔ اگراس روایت کے تمام راوی ثقہ ہوتے اور سند بھی متصل ثابت ہوتی توپھر بھی اس روایت سے کوئی مسئلہ ثابت نہ ہوسکتا۔ تو پھر اس وقت کیاکہا جاسکتا ہے جب یہ ثابت ہی نہ ہو۔

علی بن ہاشم بن البرید کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :علی اور اس کا باپ دونوں غالی شیعہ تھے ۔ ابن حبان فرماتے ہیں : غالی شیعہ تھا اور مشاہیر کا نام لیکر منکر روایات نقل کیا کرتا تھا۔ محدثین کا اس سے وہ روایات نقل کرنا جو کسی دوسری سند سے بھی ثابت ہوں اس سے اس کی انفرادی روایات کا ثابت ہونا واجب نہیں ہوتا۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس رافضی مصنف اور اس کے بعد کے لوگوں نے اسے فاطمہ بنت حسین کی سند سے قرار دیا ہے۔ جب کہ یہ فاطمہ بنت علی ہے فاطمہ بنت حسین نہیں ۔

ایسے ہی فاطمہ سے اس کی تیسری سند میں عبدالرحمن بن شریک ہے‘ وہ کہتاہے:

(( حدثنا أبِی، عن عروۃ بنِ عبدِ اللّٰہِ، عن فاطِمۃ بِنتِ علِی، عن أسماء، عن علِیِ بنِ أبِی طالِب، رُفِع إِلی النبِی رضی اللّٰہ عنہم وقد أوحِی إِلیہِ فجللہ بِثوبِہِ، فلم یزل کذلِک حتّی أدبرتِ الشمس، یقول: غابت أو کادت تغِیب، وأن نبِی اللّٰہِ رضی اللّٰہ عنہم سرِی عنہ، فقال: أصلیت یا علِی؟ قال: لا۔ قال: اللہم رد علی علِی الشمس، فرجعتِ الشمس حتی بلغت نِصف المسجِدِ۔))

حضرت علی رضی اللہ عنہ اس حدیث کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مرفوعاً بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی ہورہی تھی؛ تو آپ نے اپنے کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کرلیا۔ آپ اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ سورج واپس پلٹ گیا؛ فرمایا کہ : سورج ڈوب گیا یا قریب تھا کہ ڈوب جائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی ختم ہوئی تو آپ نے پوچھا : اے علی ! کیاتم نے نماز پڑھی ہے؟ تو عرض کیا : نہیں ۔

تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی:’’ اے اللہ! علی کے لیے سورج کوواپس لوٹا دے ۔‘‘ تو سورج واپس پلٹ آیا یہاں تک کہ آدھی مسجدتک پہنچ گیا۔‘‘

اس روایت کا تقاضا ہے کہ سورج عصر کے قریب کے وقت پر پلٹ گیا ہو۔اور یہ قصہ مدینہ کا ہے۔جب کہ پہلی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ خیبر کے راستہ میں پیش آیا۔اور سورج پہاڑ کی چوٹیوں پر ظاہر ہوا تھا۔ عبدالرحمن بن شریک کے بارے میں ابو حاتم رازی فرماتے ہیں : انتہائی بودی روایات نقل کرتا ہے۔نیز ان کے علاوہ بھی دیگر کئی محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔

اس کی چوتھی روایت یوں ہے:

صفحہ 7 از 12