فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے رجوع آفتاب اور اس پر رد]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 12

اگرچہ اس نے یہ روایت علی بن ہاشم سے نقل کی ہے۔مگر اس سے نقل کرنے والا عباد بن یعقوب رواجنی ہے۔ ابن حبان اس کے بارے میں فرماتے ہیں ۔ یہ رافضی داعی تھا۔ مشاہیر کا نام لیکر منکر روایات نقل کیا کرتا تھا۔ اس لیے ترک کیے جانے کا مستحق ہے۔ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فضائل اہل بیت اوردیگر مثالب میں ایسی روایت نقل کی ہیں جن کا انکار کیا گیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے اس سے ایسی روایات بھی نقل کی ہیں جن کی صحت معروف ہے۔وگرنہ اس سے قاسم المطراز کی حکایت جس میں اس نے کہا ہے: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک سمندر کھودا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس میں پانی جاری کیا۔یہ ایسی روایت ہے جو کہ کھلم کھلا تنقید اورقدح ہے۔

شیعہ مصنف نے کہا ہے:اس روایت کو اسماء سے ان لوگوں کے علاوہ دوسروں نے بھی روایت کیا ہے۔ اور ابو العباس بن عقدہ کی سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ یہ اپنے حفظ کے باوجود شیعہ کے جھوٹ جمع کیا کرتا تھا۔ ابو احمد بن عدی نے کہا ہے: میں نے بغداد کے مشائخ کو دیکھا ہے وہ اسے برے الفاظ میں یاد کیا کرتے تھے۔اور وہ کہتے تھے: حدیث کو دین نہیں سمجھتااور کوفہ کے مشائخ پر جھوٹ بولتا ہے۔ اور ان کے نام پر نسخے تیار کرکے انہیں روایت کرنے کو کہتا تھا۔

جب امام دارقطنی رحمہ اللہ سے ابن عقدہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’وہ بہت برا آدمی ہے۔‘‘

یہ ابن عقدہ کہتا ہے:

(( حدثنا یحی بن زکرِیا، أخبرنا یعقوب بن معبد، حدثنا عمرو بن ثابِت، قال: سألت عبد اللّٰہِ بن حسنِ بنِ حسنِ بنِ علِی عن حدیثِ ردِ الشمس علی علِی: ہل ثبت عِندکم؟ فقال لِی: ما أنزل اللّٰہ فِی علِی فِی ِکتابِہِ أعظم مِن ردِ الشمسِ۔ قلت: صدقت جعلنِی اللّٰہ فداک، ولِکنِی أحِب أن أسمعہ مِنک۔ قال:حدثنِی عبد اللّٰہِ، حدثنِی أبِی الحسن، عن أسماء بِنتِ عمیس أنہا قالت: أقبل علِيٌّ ذات یوم وہو یرِید أن یصلِی العصر مع رسولِ اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہم ؛ فوافق رسول اللہِ رضی اللّٰہ عنہم قدِ انصرف ونزل علیہِ الوحی، فأسندہ إِلی صدرِہِ، فلم یزل مسنِدہ إِلی صدرِہِ حتی أفاق رسول اللّٰہِ رضی اللّٰہ عنہم فقال: صلیت العصر یا علِی؟ قال: جِئت والوحی ینزِل علیک، فلم أزل مسنِدک إِلی صدرِی حتی الساعۃ۔ فاستقبل رسول اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہم القِبلۃ وقد غربتِ الشمس، فقال: اللہم ِإن علِیا کان فِی طاعتکِ فارددہا علیہِ۔ قالت أسماء: فأقبلتِ الشمس ولہا صرِیر کصرِیرِ الرحي حتي رکدت فِی موضِعِہا وقت العصرِ، فقام علِی متمکِنا فصلی العصر، فلما فرغ رجعتِ الشمس ولہا صرِیر کصرِیرِ الرحی، فلما غابتِ الشمس اختلط الظلام، وبدأتِ النجوم ))

میں کہتا ہوں : اس پانچویں روایت کے الفاظ پہلی متناقض روایات کے الفاظ سے ٹکراؤ رکھتے ہیں ۔اور دیکھنے والے پر یہ مزید عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ من گھڑت اور جھوٹ واقعہ ہے۔اس لیے کہ اس روایت میں ہے : سورج واپس عصرکے وقت میں اپنی جگہ پر آگیا۔ اس سے پہلی روایت میں ہے: سورج نصف النہار میں واپس آگیا تھا۔دوسری روایت میں ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر نظر آنے لگا۔اس روایت میں ہے کہ آپ ان کے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے جب کہ دوسری روایت میں ہے : آپ نے اپنا سر ان کی گود میں رکھاہوا تھا۔

عبداللہ بن حسن نے یہ روایت ہر گزبیان نہیں کی۔ آپ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس قسم کے جھوٹ روایت کریں ۔اور نہ ہی آپ کے والد حسن نے اسے حضرت اسماء سے روایت کیا ہے۔ اس روایت میں ہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ‘وہ سورج کی واپسی سے بھی زیادہ اور بڑا ہے۔ اور یہ بات سبھی کومعلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی حضرت علی کی شان میں اور نہ ہی کسی دوسرے کی شان میں سورج کی واپسی سے متعلق کچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔

یہ روایت اگرچہ عمرو بن ثابت سے ثابت ہے۔ یہی وہ انسان ہے جو عبداللہ سے یہ روایت نقل کرتا ہے جس نے اپنی طرف سے یہ حدیث گھڑ لی ہے۔یہ انسان جھوٹ گھڑنے میں بڑا مشہور تھا۔ ابو حاتم ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ثقہ راویوں کا نام لیکر موضوع روایات نقل کرتا ہے۔

یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں ۔اور دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے : نہ ہی ثقہ ہے نہ مامون ۔‘‘

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ متروک الحدیث ہے ۔‘‘

شیعہ مصنف نے کہا ہے: اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس طرح ہے:

((أنبأنا عقِیل بن الحسنِ العسکرِی، حدثنا أبو محمد صالِح بن أبِی الفتحِ الشناسِی، حدثنا أحمد بن عمرِو بنِ حوصاء، حدثنا إِبراہِیم بن سعِید الجوہرِی، حدثنا یحی بن یزِید بنِ عبدِ الملِکِ النوفلِی، عن أبِیہِ، قال: حدثنا داود بن فراہِیج، عن عِمارۃ بنِ فرو، عن أبِی ہریرۃ رضِی اللہ عنہ....وذکرہ۔۔ قال المصنِف: اختصرتہ مِن حدیث طوِیل))

میں کہتا ہوں : یہ انتہائی اندھیری سند ہے۔ اس سند سے اہل علم کے ہاں کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ اس کا جھوٹ ہونا کئی وجوہات کی بنا پر معروف ہے۔ اس کی سند میں داؤد بن فراہیج ضعیف ہے۔ امام شعبہ رحمہ اللہ اسے ضعیف کہا کرتے تھے ۔ اور امام نسائی نے فرمایا ہے: ’’ ضعیف الحدیث ہے۔ اس کی سند ثابت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ اس میں یزید بن عبدالملک النوفلی ہے۔ جو کہ اسے عمار سے روایت کررہا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کی احادیث مشتبہ ہوتی ہیں ‘ ان میں اصل میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔یہ انتہائی ضعیف راوی ہے۔

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔

امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ....بہت بڑا منکر حدیث ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کے پاس منکر روایات ہیں ۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف بھی کہا ہے ۔

صفحہ 9 از 12