Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جہاد کو جاری رکھنا جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی دعوت کے تحفظ اور لوگوں تک اس کو پہنچانے کے لیے جہاد کو جاری رکھا، افواج تیار کیں اور دعوت دین کی نشر و اشاعت اور اس طاغوتی نظام کا تختہ الٹنے کے لیے (جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ٹھکرایا تھا اور اپنی قوم سے نور حق کو روکنے کا عزم کر رکھا تھا) مسلمانوں کو تیار کیا۔ لوگ سیدنا ابوبکرؓ کی اس محبوب دعوت پر لبیک کہتے ہوئے قائدین جہاد، خالد، ابوعبیدہ، یزید، عمرو اور شرحبیل وغیرہم رضی اللہ عنہم کے پرچم تلے آگئے، جنہیں تجربہ کار، ماہر اور عجیب وغریب جنگی صلاحیت کے مالک خلیفہ نے منتخب فرمایا تھا۔ ان ظروف وحالات نے ان صلاحیتوں کو جلا بخشی جو امت کو مطلوب تھیں اور اس طرف توجہ کی متقاضی تھیں۔ سیدنا ابوبکرؓ نے قائدین کو منتخب فرمایا اور انہیں اس سلسلہ میں تعلیمات اور رہنمائی بہم پہنچائی۔ انہوں نے شام و عراق کو انتہائی قلیل مدت میں اور انتہائی کم خرچ میں فتح کر لیا۔ 

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: 259، 260)