Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مفتوحہ اقوام کے ساتھ عدل وانصاف اور نرمی کا برتاؤ

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خارجہ پالیسی مفتوحہ ممالک میں عدل و انصاف کا پرچم لہرانے اور لوگوں کے درمیان امن و استقرار اور طمانیت پھیلانے پر قائم تھی تاکہ لوگ حق و باطل کی حکومت کے مابین فرق محسوس کر سکیں بلکہ یہ محسوس اور گمان نہ کریں کہ ایک ظالم کے جانے کے بعد ظلم و جبروت میں اس سے بڑھ کر یا اس جیسا دوسرا ظالم آن پہنچا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے قائدین کو لوگوں کے ساتھ عدل و رحمت اور احسان کا برتاؤ کرنے کی وصیت فرمائی۔ مغلوب رأفت ورحمت کا محتاج ہوتا ہے۔ ایسی چیزوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی جنگی حمیت کو برانگیختہ کرنے کا سبب بن سکتی ہوں۔ مسلم فاتحین نے انسان اور انسانی وسائل دونوں کی حفاظت کی۔ مفتوحہ قاوام نے بلند ذوق اور سچی انسانیت میں نئی مخلوق کا مشاہدہ کیا، میزان شریعت مغلوبہ اقوام میں عدل وانصاف کے ساتھ قائم ہوا، نور اسلام پھیلا، لوگوں کے دل اس کے لیے تیار ہوئے اور اقوام نے اس دین کو قبول کرنے اور اس کے پرچم تلے شامل ہونے میں سبقت کی۔ روم و فارس کی عجمی افواج کی حالت یہ تھی کہ جب وہ کسی سرزمین پر قدم رکھتے تو اس کو پراگندہ کر ڈالتے، رعب وخوف پھیلاتے اور عزتیں لوٹتے، جس کی تباہی و بربادی کا لوگ تجربہ کر چکے تھے اور ان کی خوفناک داستانیں نسل در نسل منتقل ہوتی آرہی تھیں۔ جب اسلام آیا اور اسلامی افواج ان ممالک میں داخل ہوئیں تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ ان کے سروں پر عدل وانصاف کی چادر پھیلا رہے ہیں اور ظلم و طغیان نے جس انسانیت کو ان سے چھین لیا تھا اس کو واپس لا رہے ہیں۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 260)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سیاست و پالیسی کے انتہائی حریص رہے، جہاں ذرا بھی کوتاہی اور کجی دیکھی فوراً اس کی اصلاح کی۔ بیہقی کی روایت ہے کہ روم و فارس جب اپنے کسی دشمن پر غالب آتے تو ہر چیز کو حلال سمجھتے اور انسانوں کے سر اپنے بادشاہوں کی خدمت میں فتح کی بشارت اور اعلان فخر کے طور پر پیش کرتے۔ رومیوں کے ساتھ برسر پیکار مسلم قائدین نے بہتر سمجھا کہ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ کیا جائے جیسا یہ کرتے آئے ہیں۔ لہٰذا عمرو بن عاص اور شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما نے شام کے ایک بطریق (جرنیل) بنان کا سر حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجا، جب عقبہ رضی اللہ عنہ یہ سر لے کر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس پر نکیر کی۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! یہ لوگ اپنے دشمن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں۔ فرمایا: کیا روم و فارس کی تقلید کی جائے گی؟ آج کے بعد میرے پاس کسی کا سر نہ پیش کیا جائے، صرف خط اور خبر کافی ہے۔

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: 123)