Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....[قرابت داری کی بنا پر فضیلت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

 فصل:....[قرابت داری کی بنا پر فضیلت]

[اشکال]:شیعہ کہتے ہیں کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت داری کی بنا پر افضل تھے۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں اس کے کئی جواب ہیں :

پہلا جواب:....اللہ تعالیٰ کے ہاں فقط قرابت داری کی کوئی فضلیت نہیں اور نہ ہی اسے معتبر مانا جاتا ہے۔ حضرت عباس آپ سے زیادہ قریبی نسب رکھتے تھے۔ اور ایسے ہی سید شہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سابقین اوّلین مہاجرین صحابہ میں شامل تھے؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سید الشہداء کا لقب عطا کیا تھا۔[مستدرک حاکم(۳؍۱۹۵)، مجمع الزوائد(۹؍۲۶۸)، تاریخ بغداد(۶؍۳۷۷)۔] وہ نسب کے لحاظ سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر تھے۔ نظر بریں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہونگے ۔

ان کے علاوہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سارے چچا زاد[مسلمان اورصحابہ میں سے ] ہیں جیسے : حضرت جعفر ‘ عقیل ‘ عبداللہ ‘ عبیداللہ ‘ فضل ‘ اور دوسرے بنی عباس اور جیسے ربیعہ ‘اور ابو سفیان بن الحارث بن عبد المطلب۔ یہ لوگ اہل بدر سے افضل نہیں ہیں اور نہ ہی بیعت رضوان والوں سے افضل ہیں اور نہ ہی ان کا شمار سابقین اولین میں ہوتا ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہیں اسلام میں سبقت حاصل ہو۔ جیسے حضرت حمزہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما ؛ یہ دونوں حضرات سابقین اولین میں سے ہیں ۔ ایسے ہی عبیدہ بن الحارث جو کہ جنگ بدر کے موقع پر شہید ہوئے۔

پس اس موقع پر را فضی مصنف نے حضرت فاطمہ اور حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہم کے جو فضائل ذکر کیے ہیں ان میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔حالانکہ ان لوگوں کے ایسے صحیح فضائل بھی احادیث مبارکہ میں ثابت ہیں جنہیں رافضی مصنف نے ذکر نہیں کیا۔لیکن اس نے وہ باتیں ذکر کی ہیں جو جھوٹ پر مبنی ہیں ۔ جیسا کہ خطیب خوارزمی کی نقل کرد ہ روایت کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی شادی کروائی۔ نکاح کا پیغام لانے والے جبریل امین تھے؛ اور اسرافیل اور میکائیل ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ بطور گواہ موجود تھے۔

اس حدیث کے من گھڑت اور جھوٹ ہونے پر تمام اہل علم کا اتفاق و اجماع ہے۔ اور یہی حال اس روایت کا بھی ہے جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی گئی ہے۔

دوسرا جواب:....اگر قرابت داروں کا ایمان لانا فضیلت ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس فضیلت میں باقی لوگوں پر مقدم ہیں ۔ اس لیے کہ تمام لوگوں کا اجماع ہے کہ آپ کے والد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے۔جب کہ ابو طالب ایمان نہیں لائے۔ ایسے ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ صحابہ کرام میں سے یہ شرف کسی کو حاصل نہیں ہوسکا ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اقارب میں سے اولاد ابو قحافہ میں مردوخواتین سے کوئی بھی ایسا نہیں بچا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی بیٹی سے شادی کی ؛ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے محبوب بیوی تھیں ۔اس معاملہ میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی دوسرا صحابی آپ کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ لیکن اس میں بھی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسا مقام و مرتبہ حاصل نہ تھا۔ بلکہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو ایک بار طلاق بھی دی تھی پھر اس سے رجوع کرلیا تھا۔ او رحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان کی باری کی دو راتیں ہوا کرتی تھیں ۔ ایک ان کی اپنی رات اور ایک رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے ان کو ہبہ کی ہوئی تھی۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سسرالی تعلق اس نوعیت کا تھا کہ اس میں کوئی دوسرا آپ کا شریک و سہیم نہیں تھا ۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ دامادی کے تعلق میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے ہم پلہ اور برابر کے شریک تھے۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگر اپنی دوبیٹیوں کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔ اور فرمایا تھا:’’ اگر ہمارے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو ہم اس کی شادی بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہی کردیتے ۔‘‘

اسی وجہ سے آپ کا نام ذوالنورین رکھا گیا۔ اس لیے کہ آپ کو نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اور آپ کیساتھ حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے۔اپنی بڑی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا شادی کرکے دیدی تھی۔اور اس کے ساتھ سسرالی رشتہ کی شکر گزاری کے الفاظ میں ان کی تعریف بھی کی۔یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بطور حجت کے ارشاد فرمائے جب آپ ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ابو العاص کے متعلق فرمایا تھا:

’’اس (آپ کے داماد ابوالعاص) نے جب بات کی تو سچ بولا اور جب وعدہ کیا تو اسے پورا کیا۔‘‘

حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان کے اسلام لانے سے ایک عرصہ پہلے اسلام لا چکی تھیں ۔اورپھر آپ سے علیحدہ ہوکر بیٹھ گئی تھیں ۔یہاں تک کہ جب ابو العاص رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے تو آپ نے پھلے ہی نکاح پر حضرت زینب ان کو واپس کردی۔ اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ نے تجدید نکاح کی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ پہلے ہی نکاح پر واپس کیا تھا۔ ائمہ حدیث جیسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہاں یہی چیز ثابت ہے۔

اس مسئلہ میں علماء کرام کے مابین اختلاف واقع ہوا ہے کہ کیا اگر بیوی شوہر سے پہلے اسلام لے آئے تو اس صورت میں نکاح کا کیا ہوگا؟ اپنی جگہ پر اس مسئلہ پر تفصیلی گفتگو کی جاچکی ہے۔