مفتوحہ اقوام پر زور و زبردستی سے اجتناب
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خارجہ پالیسی کے نقوش میں سے مفتوحہ اقوام پر زور و زبردستی سے اجتناب کرنا ہے۔ کسی کو زور زبردستی دین اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل پیرا تھے:
اَفَاَنۡتَ تُكۡرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ۞ ( سورۃ يونس آیت 99)
ترجمہ: تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرو گے تاکہ وہ سب مومن بن جائیں ؟
فتوحات سے مسلمانوں کا مقصود طاغوتی قوتوں کو ختم کر کے اقوام عالم کے سامنے اسالم کا دروازہ کھولنا تھا تاکہ وہ نور اسلام کو دیکھ سکیں اور جب ظلم و طغیان کا خاتمہ ہو جائے تو پھر انہیں آزاد چھوڑ دیا جائے، انہیں کسی بات پر مجبور نہ کیا جائے، بشرطیکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنے عہد و پیمان کو پورا کرتے ہوں، جو مندرجہ ذیل نکات و قیود پر مشتمل ہوتا ہے:
الف: وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں رہتے ہوئے جزیہ ادا کریں۔
ب: کلیدی اور حساس عہدے ان کو نہ دیے جائیں گے، جیسے فوج وغیرہ۔
ج: شعائر، عبادات، شریعت میں اسلام کے معادی ادارے نہیں قائم کریں گے۔
د: سابقہ دین کی جگہ اسلام ہی قابل قبول ہوگا۔
اور اسلامی سلطنت عملی اور نظری طور پر اسلام کی تفسیر و تشریح ان کے سامنے پیش کرے گی تاکہ وہ اس دین سے مطمئن ہو کر برضا و رغبت اس میں داخل ہوں کیونکہ زور و زبردستی عقائد ذہنوں میں نہیں اتارے جا سکتے اور اس پر ثبات حاصل نہیں ہو سکتا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 263)