فصل چہارم : ائمہ اثنا عشرہ کی امامت کا اثبات - ردِ رافضیت |…

فصل چہارم : ائمہ اثنا عشرہ کی امامت کا اثبات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصرت میں اتباع ہوی سے کام لیتے ہیں ۔تو پھر آپ کے بارے میں نص نقل کرنے میں کیسے ان لوگوں کی تصدیق کی جاسکتی ہے؟جب کہ تمام اہل علم وعقل جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے فرق شیعہ سے بڑھ کرعمداً جھوٹ بولنے اور حق بات کو جھٹلانے والا کوئی دوسرا فرقہ نہیں ۔جب باقی فرقوں کا معاملہ ان کے برعکس ہے۔خوارج اگرچہ دین سے نکل چکے ہیں ؛ مگروہ عمداً جھوٹ نہیں بولتے۔معتزلہ سچائی کو دین سمجھتے ہیں ۔لیکن شیعہ پر ان کے ظہور کے وقت سے ہی جھوٹ غالب ہے۔

آٹھواں جواب :....کہا گیا ہے کہ شیعہ امامیہ نے پہلی مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں بالنص کا دعویٰ خلافت راشدہ کے آخری دَور میں کیا۔ عبد للہ بن سباء [بارہ اماموں کی امامت کو نص کے ساتھ ثابت کرنے میں شیعہ کا دعویٰ کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں : (۱) سیدنا علی کی امامت و ولایت کی نص۔ امام ابن تیمیہ نے منہاج السنہ میں اس کے ابطال کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ باقی رہی یہ بات کہ سیدنا علی نے نص صریح کے مطابق اپنے بیٹے حسن کو امام مقرر کیا تھا ہم قبل ازیں اس کا بطلان ثابت کر چکے ہیں ۔ (۲) شیعہ کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وصی ہونا نص سے ثابت ہے، مشہور شیعہ عالم الکشی نے اعتراف کیا ہے کہ اس عقیدہ کا موجد عبد اﷲ بن سباء تھا ہم قبل ازیں یہ حوالہ نقل کرچکے ہیں ۔]اور اس کے ہم نواء کذابین کے ایک گروہ نے اس عقیدہ کا اختراع کیا تھا۔ اس بارے میں ہم حتمی طور پر جانتے ہیں کہ وہ اس سے پہلے اس دعوی اوران لوگوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔تو پھر تواتر کا دعوی کہاں سے آگیا ؟ [اوراس کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے ]۔

نوواں جواب:....وہ احادیث مبارکہ جوحضرات ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے فضائل پر دلالت کرتی ہیں ؛ وہ عوام و خواص میں زیادہ اور اعظم تواتر کیساتھ پائی جاتی ہیں ۔اگر یہ بات جائز ہے کہ ان فضائل کے نقل کرنے کی وجہ سے جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کی جائے؛ توپھر شیعہ کے اس تواتر پر تنقید کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔اور اگر اس تواتر پر تنقید ممکن نہیں ہے تو پھر پہلے قسم کی روایات پربدرجہ اولی ممکن نہیں ۔جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ان نصوص کثیرہ متواترہ کی روشنی میں ثابت ہوتے ہیں ؛ تو پھر ان لوگوں کا اس نص کی مخالفت پر اجتماع و اتفاق محال ہے۔ اس لیے کہ اگر مخالفت کوسچ تسلیم کرلیا جائے تو یہ سب سے بڑا گناہ اور اللہ کی نافرمانی وسرکشی ہوگی۔

دسواں جواب:....شیعہ امامیہ میں سے کوئی ایک بھی متصل سند کیساتھ اس روایت کو ثابت نہیں کرسکتا‘ اسکے تواتر کا دعوی کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔یہ الفاظ تکرار کے محتاج ہیں ۔جب ان الفاظ کے نقل کرنے والوں نے انہیں پڑھا سنا نہیں ہوگا تو وہ انہیں یاد بھی نہیں رکھ سکیں گے۔ حالانکہ اس وقت میں قوی حافظہ والے لوگ موجود تھے جنہوں نے قرآن یاد کیا؛ [احادیث حفظ کیں ] تشہد اور اذان کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نسل در نسل نقل کرتے چلے آرہے ہیں ۔[تو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ارشادفرمائے ہوتے جیسا کہ شیعہ کا دعوی ہے توصحابہ کرام اورتابعین انہیں ضرور نقل کرتے ؛ان کا اس روایت کو نقل نہ کرنا اس کے جھوٹ اور من گھڑت ہونے کی ایک نشانی ہے]۔ جب ہم فضائل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں تواتر کا دعوی کرتے ہیں توکبھی یہ دعوی تواتر معنوی کے لحاظ سے ہوتا ہے جیسے خلفاء اربعہ کی خلافت؛ جمل اور صفین کے واقعات ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کرنا۔ اوراس طرح کے دیگر واقعات جن کے نقل کرنے کے لیے متعین الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ واقعہ کا مشہور و معروف ہونا ضروری ہوتاہے۔جیسا کہ صحابہ کرام کی مسابقت اور ان کے اعمال کے بارے میں تواتر۔اور کبھی یہ تواتر لفظی ہوتاہے؛یعنی راویانِ حدیث ایک ہی جیسے ایسے الفاظ میں روایت نقل کریں جن سے علم ضروری حاصل ہو۔

گیارھویں وجہ:....اہل بیت [مثلاً امام جعفر صادق، ان کے والد اور ان کے دادا امام زین العابدین علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ ] سے منقول تواتر خود اس روایت کو جھٹلا رہا ہے ؛ اس لیے کہ یہ لوگ اپنی امامت کو مبنی بر نص نہیں قرار دیتے تھے ۔بلکہ ایسا دعوی کرنے والوں کو جھٹلایا کرتے تھے۔چہ جائے کہ وہ ایسی نصوص سے بارہ ائمہ کی امامت ثابت کریں ۔

بارھویں وجہ:....بارہ ائمہ کے متعلق جو صحیح حدیث وارد ہوئی ہے اسے امام بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا؛ میں نے سنا کہ آپ فرمایارہے تھے:

’’ لوگ اس وقت تک امن و چین اور عزت سے زندگی بسر کرتے رہیں گے جب تک بارہ آدمی ان کے حاکم و امام رہیں گے۔ پھر آہستہ آواز سے ایک بات کہی جو مجھ سے پوشیدہ رہی۔ جب میں نے اپنے والد سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ بارہ اشخاص سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔‘‘[متفق علیہ]۔ 

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’اسلام اس وقت تک غالب رہے گا؛ یہاں تک کہ بارہ خلیفہ ہو گزریں ۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا؛ یہاں تک کہ بارہ خلیفہ ہو گزریں ۔ پھرآپ نے آہستہ آواز سے ایک بات کہی جو مجھ سے پوشیدہ رہی۔ جب میں نے اپنے والد سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ بارہ خلفاء سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔‘‘[البخاری ۹؍۸۱؛ مسلم ۳؍۱۴۵۲۔]

تورات کی عبارات اس کی تصدیق کرتی ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس حدیث سے اثناء عشریہ کے بارہ امام مراد نہیں لیے جا سکتے ۔ اس لیے کہ حدیث کے واضح الفاظ ہیں کہ: ’’اسلام اس وقت تک غالب رہے گا؛یا فرمایا:’’یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا۔‘‘ یا فرمایا کہ :’’لوگ اس وقت تک خوشحال رہیں گے۔‘‘

صفحہ 2 از 3