سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں جنگی منصوبہ بندی کے نقوش
علی محمد الصلابیعہد صدیقی میں اسلامی فتوحات کا مطالعہ کرنے والا، جو بھی جنگی منصوبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا، اس کے بنیادی خدوخال اخذ کر سکتا ہے اور یہ معلوم کر سکتا ہے کہ اسباب کو اختیار کرنے میں اس عظیم خلیفہ کا تعامل کیسا رہا اور پھر یہی محکم منصوبہ بندی مسلمانوں کے لیے اللہ کی جانب سے فتح و تمکین کا بنیادی سبب کیسے ثابت ہوا؟ وہ خدوخال یہ ہیں:
جب تک دشمن مسلمانوں کے تابع نہ ہو جائے اس کے ملک میں اندر گھسنے سے پرہیز کیا جائے:
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بات کے انتہائی حریص تھے کہ دشمن کے ملک میں جب تک وہ فرماں برداری قبول نہ کر لے اندر نہ گھسا جائے۔ عراق و شام کی فتوحات میں یہ چیز بالکل نمایاں ہے۔ عراق پر چڑھائی کے وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد و عیاض رضی اللہ عنہما کو حکم بھیجا کہ وہ عراق پر حملہ جنوب اور شمال سے کریں۔ خط میں تحریر فرمایا:
’’تم دونوں میں سے جو حیرہ پہلے پہنچ جائے وہ حیرہ کا امیر ہوگا اور ان شاء اللہ جب تم دونوں حیرہ میں جمع ہو جاؤ اور عرب و فارس کے درمیان جنگی قوتوں کو توڑنے میں کامیاب ہو جاؤ اور مسلمانوں کے پیچھے سے خطرہ باقی نہ رہے تو تمذ میں سے ایک حیرہ میں ٹھہر جائے اور دوسرا دشمن پر حملہ آور ہو کر ان کے قبضہ میں جو ہے اس کو چھینے اور اللہ سے مدد طلب کرو اور اس سے تقویٰ لازم پکڑو، دنیا پر آخرت کو ترجیح دو، دونوں تمہیں حاصل ہوں گی۔ دنیا کو ترجیح نہ دینا، ورنہ دونوں ہی ہاتھ سے نکل جائیںگی۔ معصیت کو ترک کر کے اور توبہ کے ذریعہ سے ان امور سے بچو جن سے اللہ نے ڈرایا ہے۔ خبردار! گناہوں پر اصرار اور توبہ میں تاخیر نہ کرنا۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 188، 189)
یہ عظیم خط ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بلند فکر اور دقیق منصوبہ پر اور قبل ازیں توفیق الہٰی پر دلالت کرتا ہے ہے۔ چنانچہ آپ کی جنگی منصوبہ بندی میں مہارت کی شہادت اس وقت کے سب سے بڑے جنگی ماہر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دی۔ چنانچہ جب وہ شمالی عراق میں عیاض رضی اللہ عنہ کے فرائض کی تکمیل کے لیے اٹھے اور کربلا میں نزول فرمایا اور مسلمانوں نے آپ سے مکھیوں کی اذیت کی شکایت کی، تو آپ نے عبداللہ بن وثیمہ سے فرمایا: صبر سے کام لو، میں اس وقت یہ چاہتا ہوں کہ ان فوجی مقامات کو خالی کرا لوں جن کا عیاض کو حکم دیا گیا ہے اور وہاں عربوں کو آباد کر دوں، اس طرح مسلمانوں کو پیچھے کے خطرات سے محفوظ کر لیں گے اور پھر عربوں کی کمک بغیر کسی خطرہ کے ہم تک پہنچے گی اور خلیفہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پوری امت کی حمایت کے برابر ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 189)
اسی منصوبہ پر عراق میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عمل کیا چنانچہ اس نادرۂ روزگار کا بیان ہے: اہل فارس سے ان کی سرحدوں پر قتال کرو جو سر زمین عرب سے قریب ترین ہوں، ان کے ملک کے اندر نہ گھسنا اگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا کیا تو ان کے پیچھے کا قبضہ برقرار رہے گا اور اگر اس کے برعکس ہوا تو بحفاظت اپنے لوگوں کی طرف واپس ہو جائیں گے اور انہیں اپنا راستہ معلوم ہوگا اور اپنی سر زمین پر جرأت کے ساتھ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ دوبارہ انہیں غلبہ عطا فرمائے۔
(الاصابۃ: جلد 5 صفحہ 568، 7836 ، تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: 331)
اور شام کی فتوحات میں مسلمانوں کے پیچھے ان کی حمایت کے لیے صحرا کافی تھا لیکن اس کے باوجود مسلمان آگے بڑھنے سے قبل اس بات کا مکمل اطمینان حاصل کرتے تھے کہ دشمن پیچھے سے اچانک حملہ آور ہونے سے ناامید ہو چکا ہے اور پھر دائیں بائیں جو جو شہر اور علاقہ ان کے قبضہ میں آئے ہیں مکمل طور پر ان پر قابض ہو جائیں اور مقاتلین کے لیے ہر راستہ بند کر دیں۔ اس بنیادی اصول کی مکمل طور سے پابندی کی جاتی تھی اور وہ اس پر سختی سے کاربند تھے۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 331)
تیاری اور افواج کو جمع کرنا:
جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسند خلافت سنبھالی تو جنگی تیاری کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہوئے تیاری اور افواج کو جمع کرنے کا اصول اختیار کیا۔ چنانچہ فتنہ ارتداد کا قلع قمع کرنے کے لیے مسلمانوں میں اعلان جنگ کیا اور اس کے بعد عراق و شام کی فتوحات کے لیے ان سے نکلنے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلہ میں اہل یمن کو اپنا معروف خط روانہ کیا۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: 332)
افواج کی امدادی کارروائی کو منظم کرنا
مشرقی محاذِ جنگ کے معرکوں میں جب تیزی آئی تو محاذ کے قائد خالد و مثنیٰ رضی اللہ عنہما نے افرادی قوت یا مزید فوجی مدد کی ضرورت محسوس کی کیونکہ جو قوت اس وقت تھی وہ معرکہ کے تقاضوں اور واجبات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی تھی چنانچہ ان دونوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لکھا اور آپؓ سے مدد طلب کی تو آپؓ نے ان سے کہا: جن لوگوں نے مرتدین سے قتال کیا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام پر باقی رہے، ان سب سے قتال کے لیے نکلنے کا مطالبہ کرو اور جو ارتداد کا شکار ہو چکے ہیں ان کو اپنے ساتھ نہ لینا جب تک کہ اس سلسلہ میں میرا فیصلہ نہ آجائے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163 )