فصل:....[ خروج مہدی ] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل:....[ خروج مہدی ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

’’بیشک میرا یہ بیٹا سردار ہے؛جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کانام رکھا ہے۔عنقریب اس کی نسل سے ایک شخص پیدا ہو گا، جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم نام ہو گا، وہ سیرت و کردار میں ان جیسا ہو گا۔ مگر شکل وصورت مختلف ہو گی۔ وہ زمین کو عدل سے معمور کردے گا۔‘‘[بعض روایات میں آیا ہے : ’’ ہمارے قائم کاملک انیس سال تک رہے گا۔ اورایک روایت میں ہے : سات سال تک رہے گا؛ ان سات سالوں میں سے ایک سال کے دنوں اور راتوں کو اللہ تعالیٰ اتنا لمبا کردے گا یہاں تک کہ ایک سال دس سالوں کے برابر ہوگا ۔ پھر اس لحاظ سے ان کی حکومت کی مدت تمہارے ان ستر سالوں کے برابرہوگی۔‘‘ایک اور روایت کے مطابق امام صاحب اس دنیا میں اصحاب کہف کی مدت یعنی ۳۰۹سال تک قیام کریں گے۔ایسے ہی امام صاحب کتنا عرصہ غار شریف میں روپوشگی فرمائے رہیں یہ ایک علیحدہ طویل اوراختلافات سے بھر پور داستان ہے۔ یہ اتنے تناقضات ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آتے۔جو اس بات پردلالت کرتے ہیں کہ ان لوں کے پاس اس مسئلہ میں کوئی ایک مضبوط ‘ صحیح اور قابل اعتماد شرعی دلیل نہیں ۔ سب لوگوں کی گھڑی داستانیں اورقصے کہانیاں ہیں ۔ حتی خود شیعہ علماء اب اپنی ہی روایات کو جھٹلا رہے ہیں ۔ ﴿ وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا﴾ (النساء۸۲) ’’اور اگر وہ اللہ کے سوا اور کہیں سے آیا ہوتا (جیسے کافر اور منافق سمجھتے تھے) تواس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘ سنن ابی داؤد، کتاب المھدی (ح:۴۲۸۳،۴۲۹۰) یہ حدیث الفاظ میں معمولی اختلاف کیساتھ شعیب بن خالد نے ابو اسحاق سے روایت کیاہے؛یہ حدیث منقطع ہے۔ ابو اسحق سبیعی کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ثابت نہیں ہے۔ ]

ان احادیث کے بارے میں کئی ایک گروہ غلط فہمی کاشکار ہوئے ہیں ۔بعض لوگوں نے تواحادیث مہدی کا بالکل ہی انکار کردیا۔اوروہ ابن ماجہ کی اس حدیث سے دلیل پیش کرتے ہیں :

’’ لَا مَہْدِیْ اِلَّا عِیْسٰی بن مریم۔‘‘ ’’عیسی بن مریم علیہ السلام کے علاوہ کوئی مہدی نہیں ۔‘‘[ابن ماجۃ ۲؍۱۳۴۰ ۔ کتاب الفتن ‘ باب شدۃ الزمان۔السلسلۃ الضعیفۃ برقم۷۷؛ ج۱؍ص۱۰۳۔ أبو داؤد ۴؍۱۵۳]۔]

ایک تویہ روایت ضعیف ہے۔ محمد بن ولید بغدادی اور کچھ دوسرے ایسے لوگوں نے اس روایت پر اعتماد کیا جو خود قابل اعتماد نہیں ہیں ۔ نیز اس روایت کو ابن ماجہ نے یونس سے ؛ انہوں نے شافعی سے اوروہ اہل یمن کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ۔اس آدمی کا نام محمد بن خالد جندی تھا۔اس کی روایات سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔اورنہ ہی یہ روایت مسند امام شافعی میں موجود ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : امام شافعی کا جندی سے سماع ثابت نہیں ۔اور یونس کا امام شافعی سے سماع ثابت نہیں ۔

[جواب]:ہم کہتے ہیں :’’وہ احادیث جن سے خروج مہدی پر استدلال کیا جاتا ہے وہ صحیح ہیں ۔ ان کو احمد و ابوداؤد و ترمذی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے آپ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر دنیا میں ایک دن بھی باقی رہا تو اللہتعالیٰ اس دن کو لمبا کردیں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سی- یا فرمایا: ہم میں سے- ایک شخص نکلے گا جس کا نام میرے نام پر اوراس کے والد کانام میرے والد کے نام پر ہوگا ، وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔‘‘[سنن ابی داؤد، کتاب المھدی(ح:۴۲۸۲)۔ سنن ترمذی کتاب الفتن، باب ما جاء فی المھدی (ح:۲۲۳۰)۔ ]

ترمذی و ابوداؤد نے یہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، اس کے الفاظ ہیں : ’’ مہدی میری عترت میں سے اولاد فاطمہ رضی اللہ عنہا میں سے ہوگا۔‘‘[یہ حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔سنن ابی داؤد، کتاب المھدی؛ الباب الأول ( ح: ۴۲۸۴)، سنن ابن ماجۃ مختصراً، کتاب الفتن،باب خروج المھدی(ح:۴۰۸۶)؛ اس روایت کے الفاظ ہیں : ’’المہدي من ولد فاطمۃ۔‘‘ مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ صححہ الألبانی في السلسلۃ الضعیفۃ ۱؍۱۰۸۔ رضی اللّٰہ عنہم عن أبی سعید الخدري رضی اللّٰہ عنہ ؛ سنن أبی داؤد، کتاب المھدی؛ الباب الأول (ح: ۴۲۸۵)۔وحسنہ الألباني في صحیح الجامع الصغیر۶؍۲۲۔]

ایک مجوسی کا لے پالک اور پروردہ تھا۔ان لوگوں نے اپنی حکومت قائم کرلی تھے ‘اوربہت سارے لوگ ان کے ماننے والے تھے۔ مختلف علماء مثلاً ابو بکر باقلانی و قاضی عبد الجبارہمدانی اور امام غزالی نے ان کے نقائص و معائب پر کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں ان کے اسراروں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔

ایسے ہی دعویداروں میں سے ایک محمد بن عبد اللہ بن تومرت بربری تھا ؛ اس نے مغرب سے خروج کیا تھا۔اس کے اصحاب کوموحدین کہا جاتا تھا۔خطبات میں اس کا نام یوں لیا جاتا تھا:

’’امام معصوم اورمہدی معلوم ۔‘‘ وہ جو زمین کو عدل وانصاف سے ایسے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔‘‘

جس نے اپنے شجرہ نسب کو حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملا لیا تھا۔یہ محض رافضی نہیں تھا؛ بلکہ اسے احادیث کے بارے میں بھی کچھ علم تھا جس کی بنیاد پر اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کرحضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہونے کا دعوی کیا۔جو کہ حدیث میں واردمواصفات کے مطابق تھا۔لیکن یہ بات اضطراری طور پر معلوم ہے کہ یہ وہ مہدی نہیں تھا جس کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔

جیسا کہ دوسرے بہت سارے لوگوں نے ایسے دعوے کیے ہیں ۔ ان میں سے بعض قتل کردیے گئے۔اور بعض لوگوں کے چاہنے والوں نے ان کے متعلق ایسے دعوے کیے ہیں ۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں صحیح معنوں میں اللہ ہی جانتا ہے ۔اور بسا اوقات ان میں سے کسی ایک وجہ سے لوگوں کو فائدہ بھی حاصل ہوا ہوگا۔ اگرچہ کچھ دوسرے لوگوں کونقصان بھی پہنچا ہو ۔جیسا کہ مغرب میں ظہور کرنے والے مہدی کی وجہ سے ہوا۔اس سے بہت سارے لوگوں کوفائدہ حاصل ہوا۔اوربہت سارے گروہوں کونقصان پہنچا۔ اس میں کئی قابل مذمت باتوں کے باوجود کئی ایک قابل مدح و توصیف باتیں بھی تھیں ۔

صفحہ 2 از 3