سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات (تحقیق)

  علماء مشائخ کمیٹی سعودی عرب

صفحہ 1 از 2

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات (تحقیق)

مؤمنین کی ماں مقدسہ و مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آخری عمر میں طویل عرصہ تک بیمار رہیں اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ یہ مرض الموت ہے اور کوچ کا مرحلہ آنے والا ہے تو وہ نہایت عجز و انکساری سے پکار اٹھیں جبکہ وہ اپنے دل میں سوچا کرتی تھیں کہ انہیں اپنے گھر میں دفنایا جائے۔ وہ کہا کرتی تھیں: ’’میں نے رسول اللہﷺ کے بعد ایک گناہ کا ارتکاب کر لیا لہٰذا تم مجھے آپﷺ کی بیویوں کے ساتھ دفنا دینا۔‘‘
(الطبقات الکبرٰی: جلد، 8 صفحہ، 74 مستدرک حاکم: جلد، 4 صفحہ، 7)
اور انہوں نے کہا یہ روایت شیخینؓ کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد، 2 صفحہ، 193)
اس گناہ سے ان کی مراد جنگِ جمل میں شرکت تھی اور اس معاملے کے لیے ان کی اپنی تاویل تھی۔ اسی لیے انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کر دی کہ ’’تم مجھے ان کے ساتھ نہ دفنانا اور مجھے بقیع کے قبرستان میں میری بہنوں کے ساتھ دفنانا۔ میں اس واقعہ سے اپنے آپ کو کبھی بری الذمہ نہیں سمجھتی۔‘‘
(صحیح بخاری: صفحہ، 1391)
نیز انہوں نے وصیت میں یہ بھی کہا تھا میرے جنازے کے ساتھ تم آگ نہ لے جانا اور نہ میری میت پر سرخ چادر ڈالنا۔
(الطبقات الکبرٰی: جلد، 8 صفحہ، 74، 76)
مرض الموت میں سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لیے گئے۔سیدنا ابنِ ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جانے کی اجازت طلب کی جبکہ وہ انتہائی لاغر مغلوبۃ (یعنی مرض کی شدت کی وجہ سے انتہائی لاغر ہو چکی تھی اور حرکت تک نہ کر سکتی تھیں۔)
(کشف المشکل من حدیث الصحیحین لابنِ الجوزی: جلد، 2 صفحہ، 387 عمدۃ القاری، للعینی: جلد، 19 صفحہ، 87)
ہو چکی تھیں۔ وہ کہنے لگیں: ’’مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تعریف کریں گے۔‘‘ تو کہا گیا: ’’رسول اللہﷺ کے چچا زاد اور مسلمانوں کی معتبر شخصیت ہیں۔‘‘ وہ کہنے لگیں: ’’تم انھیں اجازت دے دو۔‘‘ وہ آئے تو کہنے لگے: ’’آپؓ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘ جواب دیا: ’’خیریت کے ساتھ ہوں اگر میں (عذابِ الہٰی سے) بچ گئی۔‘‘ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپؓ بھلائی پر ہیں۔ رسول اللہﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں آپؓ کے علاوہ رسول اللہﷺ نے کسی کنواری سے شادی نہیں کی اور آسمان سے آپؓ کی براءت نازل ہوئی۔‘‘
جب سیّدنا ابنِ زبیر رضی اللہ عنہما آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما آئے اور میری تعریف کی اور میں چاہتی ہوں کہ میں نسیًا منسیًّا (بھولی بسری) بن جاؤں۔‘‘
(صحیح بخاری: صفحہ، 4753)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی عیادت کے لیے اجازت طلب کی تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت نہ دی۔ وہ اصرار کرتے رہے۔ بالآخر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں اجازت دے دی۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے کہا: اے ام المومنینؓ! بے شک اللہ عزوجل نے آپؓ کو آگ سے پناہ دے دی ہے۔ آپؓ سب سے پہلی عورت ہیں، جن کی براءت آسمان سے نازل ہوئی۔
(فضائل الصحابۃ لاحمد: جلد، 2 صفحہ، 872) 
ایک روایت میں ہے: بے شک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں تو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ان کی عیادت کے لیے آئے اور کہا: آپ اپنے دو سچے پیش رؤوں (الفرط: جو شخص قافلے سے پہلے جا کر قافلے والوں کے آرام کے لیے سامان تیار کرتا ہے اور جگہ صاف کرتا ہے۔ یہاں ثواب اور شفاعت مراد ہے۔)
(مقدمۃ فتح الباری یعنی ہدیۃ الساری: صفحہ، 66)
کے پاس جا رہی ہیں یعنی رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس۔
(اس روایت کی تخریج آگے آ رہی ہے۔)
سیدہ عائشہؓ جب بیمار ہوئیں اور بیماری کے دوران جب بھی ان کا حال پوچھا جاتا تو وہ کہتیں: ’’الحمد للہ خیریت سے ہوں۔‘‘
(الطبقات الکبرٰی: جلد، 8 صفحہ، 75)
جو بھی آپؓ کی عیادت کے لیے آتا اور وہ انہیں بشارت دیتا تو وہ اس کے جواب میں کہتیں: ’’اے کاش میں ایک پتھر ہوتی اے کاش میں مٹی کا ایک ڈھیلا ہوتی۔‘‘
(الطبقات الکبرٰی: جلد، 8 صفحہ، 74)
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ میں سترہ رمضان المبارک کی رات 67 یا 58 یا 59 ہجری کو فوت ہوئیں۔ جب سیدنا امیرِ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی خلافت ابھی جاری تھی۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 78 الاستیعاب: جلد، 4 صفحہ، 185، 188 المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم لابنِ الجوزی: جلد، 5 صفحہ، 303 اسد الغابۃ لابنِ الاثیر: جلد، 7 صفحہ، 186 البدایۃ و النہایۃ لابنِ کثیر: جلد، 11 صفحہ، 342 الوافی بالوفیات للصفدی: جلد، 16 صفحہ، 343 الاصابۃ: جلد، 8 صفحہ، 235)
ان کی وفات سے تمام اہلِ مدینہ شدید غم میں ڈوب گئے اور عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمۃ اللہ نے کیا خوب کہا: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات سے صرف اسے ہی صدمہ پہنچا جس کی وہ ماں تھیں۔‘‘
(الطبقات الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 78 سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد، 2 صفحہ، 185)
جب سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے رونے کی آواز سنی تو انہوں نے اپنی خادمہ کو ادھر بھیجا کہ جا کر دیکھو ان کو کیا ہوا؟ وہ واپس گئی اور بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہیں۔ (قضت: کسی چیز کے کٹنے، تمام ہونے اور جدا ہونے کے معانی میں آتا ہے۔) قرآن کریم میں ہے:
مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ 
(سورۃ الأحزاب: آیت، 23)
ترجمہ: جنہوں نے اپنا نذرانہ پورا کر دیا، 
 لغت میں قضی کے متعدد معانی آتے ہیں۔
(معانی القرآن و اعرابہ للزجاج: جلد، 4 صفحہ، 222 تفسیر راغب اصفہانی: جلد، 1 صفحہ، 302 مشارق الانوار للقاضی عیاض: جلد، 2 صفحہ، 189 لسان العرب لابنِ منظور: جلد، 7 صفحہ، 223)
صفحہ 1 از 2