سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات (تحقیق)

  علماء مشائخ کمیٹی سعودی عرب

صفحہ 2 از 2
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’اللہ اس پر رحم کرے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھیں، سوائے اس کے باپ کے۔‘‘
(مسند ابی داؤد طیالسی: جلد، 3 صفحہ، 185 حدیث: 1718) 
اس کے حوالے سے۔
(حلیۃ الاولیاء: جلد، 2 صفحہ، 44)
بوصیری نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(اتحاف الخیرۃ المہرۃ: جلد، 7 صفحہ، 248)
ایک روایت میں ہے: ’’اے سیدہ عائشہؓ! اس (اللہ تعالیٰ) نے تیری مصیبت ختم کر دی ہے۔ روئے زمین پر رسول اللہﷺ کو تجھ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ تھا، سوائے تمہارے باپ کے۔‘‘ پھر سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔ ‘‘
(السنۃ لابنِ ابی عاصم: صفحہ، 1234)
سیّدنا ابوہریرہؓ (ان کا نام مشہور روایت کے مطابق عبدالرحمٰن بن صخر ہے ابوہریرہ کنیت ہے اور یمن کے قبیلہ بنو دوس سے ہیں۔ جلیل القدر صحابی ہیں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ انہیں احادیث یاد تھیں اور اسی طرح انہوں نے کثرت سے روایت کی۔ حافظ حدیث، ثقہ اور مفتی تھے۔ روزوں اور تہجد کے ساتھ مشہور تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بحرین کا گورنر بنایا اور کچھ عرصہ تک مدینہ کے گورنر بھی رہے۔ 57 ہجری کے لگ بھگ فوت ہوئے۔
الاستیعاب، جلد، 2 صفحہ، 70 الاصابۃ: جلد، 7 صفحہ، 425)
نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ بقیع والے قبرستان میں پڑھائی اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔ اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر تھا لیکن وہ حج پر چلا گیا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا کر گیا۔
(المستدرک للحاک:، جلد، 4 صفحہ، 5 تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 4 صفحہ، 164)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نمازِ عشاء کے بعد اندھیری رات میں دفن کیا گیا۔ جنازے کے ساتھ جانے والوں کے لیے آگ جلائے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔ چنانچہ انہوں نے کپڑے (الخرق: پھٹے پرانے کپڑے۔ جمہرۃ اللغۃ لابنِ درید: جلد، 1 صفحہ، 590 الصحاح للجوہری، جلد، 4 صفحہ، 1468) 
تیل میں ڈبو کر آگ سے روشن کیے تاکہ قبرستان تک ان کا راستہ روشن ہو جائے۔ لوگوں کا بہت ہجوم ہو گیا وہ چارپائی (النعش: جب میت چارپائی پر ہو تو اسے النعش کہتے ہیں۔ الصحاح للجوہری: جلد، 3 صفحہ، 1022 لسان العرب، جلد، 6 صفحہ، 355)
کے گرد جمع ہو گئے۔ اس رات سے زیادہ کسی رات میں اس قدر لوگ دکھائی نہ دئیے حتیٰ کہ باب العوالی (العوالی: مدینہ منورہ کی شرقی جانب کے سارے علاقے میں واقع بستیوں پر العوالی کا اطلاق ہوتا ہے جس کا مدینہ سے قریب ترین فاصلہ چار میل ہے اور نجد کی جانب (مدینہ سے مشرق کی جانب) بعید ترین العوالی آٹھ میل تک ہے۔)
(مشارق الانوار: جلد، 2 صفحہ، 108 النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد، 3 صفحہ، 295 المغرب فی ترتیب المعرب للمطرزی: صفحہ، 327)
(بالائی مدینہ) کے لوگ بھی مدینہ میں پہنچ گئے۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 76 تاریخ الطبری: جلد، 11 صفحہ، 602 مستدرک للحاک: جلد، 4 صفحہ، 5)
ان کی قبر میں آلِ صدیقؓ سے پانچ جوان اترے۔ سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم کے دونوں بیٹے سیدنا عروہ اور سیدنا عبداللہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کے دونوں بیٹے قاسم اور عبداللہ رحمہما اللہ اور ان کے دوسرے بھائی سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے عبداللہ رحمۃ اللہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تقریباً 67 سال عمر پائی۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں راضی کرے۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 7 تاریخ ابنِ ابی خیثمۃ: جلد، 2 صفحہ، 58 الاستیعاب: جلد، 4 صفحہ، 1885 اسد الغابۃ: جلد، 7 صفحہ، 186 المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم: جلد، 5 صفحہ، 203 تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 4 صفحہ، 249 البدایۃ و النہایۃ لابنِ کثیر: جلد، 1 صفحہ، 342 الاصابۃ لابنِ حجر: جلد، 8 صفحہ، 235)

صفحہ 2 از 2