ممبر نبوی پر بندر (بنو اُمیہ) ناچ رہے ہیں شیعہ حضرات بنو اُمیہ کی مذمت میں درج ذیل آیت پیش کر کے اس کا شان نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں بنو اُمیہ کو ممبر پر چڑھتے دیکھا، تو آنحضرتﷺ غمناک ہوئے اس کے بعد رسولﷺ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا آیت یہ ہے وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ہم نے جو خواب آپ کو دکھایا وہ لوگوں کے لئے آزمائش ہے
مولانا ابوالحسن ہزارویممبر نبوی پر بندر (بنو اُمیہ) ناچ رہے ہیں شیعہ حضرات بنو اُمیہ کی مذمت میں درج ذیل آیت پیش کر کے اس کا شان نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں بنو اُمیہ کو ممبر پر چڑھتے دیکھا، تو آنحضرتﷺ غمناک ہوئے اس کے بعد رسولﷺ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا آیت یہ ہے
وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ
ہم نے جو خواب آپ کو دکھایا وہ لوگوں کے لئے آزمائش ہے
الجواب اہلسنّت
سبائی سازش سے مندرجہ بالا روایت کئی طریقوں سے تاریخ کی کتابوں میں پائی جاتی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس میں جس خواب کا ذکر ہے اس سے کون سا خواب مراد ہے۔
1: طبری جس نے سب سے پہلے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور اس کے بعد متاخرین مؤرخین نے مکھی پر مکھی ماری ہے مذکورہ آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں آیت مزکورہ میں خواب میں وہی چیزیں مراد ہیں جو نبی کریمﷺ نے معراج کے موقع پر اللہ تعالی کی آیات و نشانات بیت المقدس اور دیگر مقامات پر ملاحظہ فرمائے آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اس پر تمام مفسرین کا اجتماع ہے۔(تفسیر طبری)
رسولﷺ کو متعدد بارخواب میں روحانی معراج بھی ہوا ہے جس کا ذکر احادیث کی کتابوں میں موجود ہے مذکورہ واقعہ کے ناقل طبری کا اپنا فیصلہ اس آیت کے متعلق یہ ہے اس لئے شیعہ حضرات اس آیت کا جو مفہوم موضوع اور من گھڑت واقعہ کی پیوندکاری کے ذریعے بیان کرتے ہیں غلط ہے آیت کے مفہوم کے مسئلے میں طبری کی وضاحت اور تمام مفسرین کا اجماع کافی ہے مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں
2:۔ باقی رہی بات روایت کی بات جو کئی طریقوں سے تاریخ اور روایات کی کتابوں میں پائی جاتی ہے اس کے متعلق علماء رجال نے لکھا ہے کہ اس کی سند میں محمد بن حسن بن زبالہ راوی ہے جو ثقہ نہیں ہے جو کذاب اور جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے مذکورہ روایت اور اس قبیل کی دیگر تمام روایات(ممبر پر بندر ناچ رہے ہیں) کے متعلق تمام مفسرین کا اتفاق ہے اسانید ھذا الاحادیث ضعیفة تمام روایات کی سند ضعیف ہے (تہذیب جلد 9)
اگر بالفرض یہ روایت صحیح ہے تو پھر حضورﷺ نے انکو مقام قُرب کیوں عطا کیا ہے؟ ان کی مالی جنگی اور سیاسی خدمات کیوں حاصل کی ہیں؟ رسولﷺ نے ان کے ساتھ رشتے ناتے اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیوں کیا ہے؟ حضرت عثمان رضى الله عنہ کو اپنی بیٹیاں کیوں دی ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مشیر خاص اور وظیفہ خوار کیوں رہے ہیں۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے ان کے ہاتھ پر کیوں بیعت کی ہے؟ اور لاکھوں دینار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کیوں وصول کرتے رہے ہیں؟ رسول اللہﷺ اور اہل بیت کے بنو امیہ کے ساتھ یہ تعلقات بھی اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ یہ روایات مجروح ضعیف اور موضوع ہیں دُشمنان امیہ نے "من الف شہر" سے بھی بنو امیہ کے عہد کی خلافت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اموی عہد حکومت کو ہزار مہینے سے مطابقت ہی نہیں ہے علاوہ ازیں سورہ قدر مکی ہے اور اس وقت منبر نبوی کا وجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں سے کوئی مسلمان ہوا تھا۔