محاذ جنگ کو فوقیت دینا
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف پہلی جنگی کارروائی کی قیادت خود فرمائی اور اس کے لیے فوج کو منظم کیا اور دیگر محاذوں کو نظر انداز نہ کیا بلکہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو شام اور مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عراق روانہ کیا اور خلافت کے پہلے سال میں ارتداد کا قلع قمع کرنے کے لیے مسلمانوں کی کوششیں مرکوز کر دیں اور جزیرۂ عرب اسلامی وحدت کے تحت واپس آگیا، تو اب قوی و محفوظ مرکز قیادت سے مسلمانوں کے لیے ممکن ہوا کہ وہ شام و عراق کی فتوحات کی طرف متوجہ ہوں چنانچہ آپ نے شامی اور عراقی محاذوں پر کارروائی تیز تر کر دی اور جب شامی محاذ کو مدد کی ضرورت پیش آئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجوم کے محور کو شام کی طرف منتقل کرتے ہوئے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام روانہ کیا۔ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عراق کے محاذ پر باقی رکھا۔