Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]

  امام ابنِ تیمیہؒ

فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:اول :’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ: بسا اوقات میرااور شیطان کا سامنا ہوتا ہے، اگر میں سیدھا رہوں تو میری مدد کیجیے ؛اور اگر ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کیجیے۔ خلیفہ و امام کا اصلی کام رعیت کی تکمیل ہے بنا بریں وہ ان سے اپنے کمال کا مطالبہ کیوں کر کرسکتا ہے؟‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں :اس کا جواب کئی طرح سے ہے :

[پہلا جواب]: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں :’’مجھے ایک شیطان کا سامنا ہوتا ہے اور وہ غصہ ہے،

جب میں اس میں گرفتار ہو جاؤں تو مجھ سے اجتناب کرنا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میں تم سے خندہ پیشانی سے پیش نہ آسکوں ۔ اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’جب تک میں اللہ کا مطیع رہوں ، میری اطاعت کرتے رہو، جب اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں تو میری اطاعت تم پر واجب نہیں ۔‘‘[سیرۃ ابن ہشام(ص:۶۷۱)۔ ]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کا یہ قول لائق صد مدح و ستائش ہے۔ ہم آگے چل کر اس کی تفصیل بیان کریں گے۔

[دوسرا جواب ]:آپ رضی اللہ عنہ نے جس شیطان کا ذکر کیا ہے کہ وہ مجھے مغلوب کردیتا ہے ؛ اس سے مراد وہ شیطان ہے جوغصہ کے وقت لاحق ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں وہ غصہ کی حالت میں اپنی رعایا کیساتھ کوئی زیادتی نہ کربیٹھیں ۔ پس آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ غصہ کی حالت میں ان سے دور رہیں ۔

آپ کا یہ فعل تو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مطابق ہے۔ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ جب قاضی پر غصہ طاری ہو تو وہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ صادر نہ کرے۔‘‘[البخاری، کتاب الاحکام‘ باب ھل یقضی القاضی اویفتی و ھو غضبان (:۷۱۵۸)،مسلم، کتاب الأقضیۃ۔ باب کراھۃ قضاء القاضی و ھو غضبان(ح:۱۷۱۷)۔]

سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غصہ کے وقت دو افراد کے مابین فیصلہ کرنے سے منع کیا۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی مراد بھی یہی تھی۔ اسی لیے اس حالت میں رعایا کو متنبہ رہنے کا حکم دیا۔ اور سمجھایا کہ وہ غصہ کی حالت میں کسی فیصلہ کی طلب نہ کریں ؛ اورنہ ہی اس حالت میں کوئی مقدمہ لے کر آئیں ۔یہ بات سراسراللہ تعالیٰ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر مبنی ہے۔

[تیسرا جواب ]: غصہ سب بنی نوع انسان کو لاحق ہوتا ہے ۔ حتی کہ خودسید البشر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’یا اللہ! میں ایک بشر ہوں ؛ اور مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے دوسرے انسانوں کو؛ اور میں آپ سے عہد لیتا ہوں جس کے خلاف آپ نہیں کریں گے ؛ میں جس مؤمن کو ایذا دوں ‘ یا برا کہوں یا ماروں ؛ تو آپ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنادیں ‘اور قیامت کے دن اسے اپنی نزدیک ہونے کاسبب بنادیں ۔‘‘[البخاری ‘۸؍۷۷؛ کتاب الدعوات۔مسلم۔ کتاب البر والصلۃ‘‘ (ح:۹۱؍۲۶۰۱،۲۶۰۳)۔]

صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:

’’ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ناراض کیا، جس کے نتیجہ میں آپ نے ان پر لعنت بھیجی اور سخت سست الفاظ کہے۔ جب وہ باہر نکلے تو میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان دونوں کو کوئی خیر نہ ملی۔آپ نے فرمایا: ’’ کیوں ۔‘‘ میں نے عرض کیا:’’اس لیے کہ آپ نے ان پر لعنت کی اور انہیں برا بھلا کہا۔‘‘تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے اپنے پروردگار سے جو شرط رکھی ہے۔میں نے یہ دعا کی ہے : ’’ [اے اللہ ! ] میں بھی ایک آدمی ہوں ‘ جس مسلمان پر بھی میں لعنت کروں یا اسے برا بھلا کہوں تو تو اسے پاک کردے ‘ اور اجر عطا فرما۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ،باب من لعنہ النبی رضی اللّٰہ عنہم (حدیث:۲۶۰۰)۔]

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے اپنے پروردگار سے شرط رکھی ہے کہ میں بھی ایک آدمی ہوں ‘ ایسے خوش ہوتا ہوں ‘ جیسے کوئی بھی آدمی خوش ہوتا ہے‘ اور غصہ بھی ہوتا ہوں ‘ جیسے کوئی بھی انسان غصہ ہوتا ہے۔ پس اپنی امت میں سے جس کسی پر میں بددعا کروں ؛ اوروہ اس کا مستحق نہ ہو تو اس بد دعا کو طہارت کو پاکیزگی اور قربت کا ذریعہ بنادے ۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ،باب من لعنہ النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔]

حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ہیں اور ان کے غصہ کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے۔

[اعراف:154]

جب غصہ کا واقع ہونا انبیاء کرام علیہم السلام میں عیب نہیں سمجھا جاتاتو امامت میں کیسے عیب ہوسکتا ہے؟ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی نرمی اور بردباری میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہ قراردیا تھا۔جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دینی امور میں ان کی سختی کے لحاظ سے حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہماالسلام کے مشابہ قرار دیا تھا۔ جب یہ سختی امامت کے منافی نہیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سختی امامت کے منافی کیونکر ہوسکتی ہے۔

چوتھی بات:....اس اجتناب کے حکم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی غرض یہ تھی کہ ان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔ تواب بتائیں کہ کامل کون ہوا؟ وہ جو اپنی نافرمانی کرنے والے پر غیض و غضب کا اظہار کرے ‘ اس سے بر سر پیکار جنگ ہو اور قتال بالسیف کرے ؟[یا پھر وہ انسان جو اپنی نافرمانی کرنے والے کو آرام سے سمجھا دے کہ مجھ سے دور رہو تاکہ غصہ میں کسی تکلیف کا ارتکاب نہ ہوجائے ]۔

پس اگر کہاجائے کہ امام کی نافرمانی اور اس کو غصہ دلانے کے سبب وہ اس بات کے مستحق ہوگئے تھے کہ ان سے قتال کیا جائے تو ہم بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ :جو شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کرے یا آپ کو تکلیف دے تو آپ اس کی سرزنش کرسکتے ہیں جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے مخالف کی تادیب وسرزنش کے مجاز ہیں ۔[لیکن حضرت ابوبکر نے ایسا نہیں کیا ]۔ اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مستحق ہیں تو یہ کہنا درست نہیں کہ جو شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کرے اورانہیں غصہ دلائے اس سے تو قتال جائز ہے ‘ مگر جو شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کرے تو اس کی تأدیب و تربیت جائز نہیں ۔‘‘

پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فعل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فعل کی نسبت زیادہ کامل ہے۔ مسند احمد میں حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا،آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے ،تووہ شخص درشت کلامی پر اتر آیا ۔ میں نے کہا : اے خلیفہ رسول! آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ میرے ان الفاظ سے ان کا سارا غصہ جاتا رہا ، وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اورمجھے بلالیا؛ ....اورفرمایا:’’ اگر میں تمہیں اجازت دیتا تو تم یہ کر گزرتے ؟میں نے کہا: کیوں نہیں ؟ ضرور کرتا ؛آپ نے فرمایا:

’’ اللہ کی قسم یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں -یعنی محض اپنی نافرمانی کی وجہ سے کسی مسلمان کو قتل کردیا جائے ۔‘‘[الصارم المسلول ۲۰۵۔ابود اؤد ۲؍۲۵۲۔]

علماء کرام رحمہم اللہ کے اس حدیث کی شرح میں دو قول ہیں :

پہلا قول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے انسان کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ’’کسی انسان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے علم و اجتہاد سے لوگوں کے خون کے فیصلے کرے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت نہ کی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے تو درکنار ؛ اپنی زبان سے بھی انہیں تکلیف ہیں دی۔ اور دوسرے لوگ جیسے حضرت علی وغیرہ رضی اللہ عنہم نے بھی چھ ماہ تک آپ کی بیعت نہ کی تھی۔ مگر آپ نے ان میں سے کسی ایک کو بھی ذرا بھر بھی تکلیف نہیں دی۔ اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کو اپنی بیعت پر مجبور کیا ۔ یہ سب ان کے کمال عدل اور معراج تقوی کی وجہ سے تھا۔ اور کمال احتیاط تھی کہ کہیں پر امت کو کوئی ذرا بھر بھی تکلیف نہ پہنچے۔ بلکہ یہاں تک فرمادیا کہ جب مجھے غصہ لاحق ہو تو مجھ سے دور رہا کرو ۔

پانچویں بات:....صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کے ساتھی جن[شیطان] کو مسلط کیا گیا ہے۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا آپ کے ساتھ بھی جن ہے؟ توآپ نے فرمایا:’’ ہاں ! مگر میں بتوفیق الٰہی اس سے محفوظ رہتا ہوں ، اور وہ مجھے اچھی بات ہی کا حکم دیتا ہے۔‘‘[مسلم ۲۱۶۷]

حدیث صحیح میں حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھرعرض کی : کیاوہ ہر انسان کے ساتھ ہے ؟

تو آپ نے فرمایا: ہاں ! تو انہیں نے پھر عرض کی : کیاوہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ہاں ! مگر میرے رب نے اسے میرے لیے مسخر کردیا ہے؛ اوروہ مسلمان ہوگیا ہے۔ ‘‘[صحیح مسلم ‘ کتاب صفات المنافقین ‘ باب : تحریش الشیطان۴؍۲۱۶۸۔]

علماء کرام رحمہم اللہ کے دو اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ وہ میرا مطیع و فرمانبردار ہوگیا ہے ۔ بعض علماء کرام نے یہ لکھ دیا کہ: اس سے مراد یہ ہے کہ : یہاں تک کہ میں مسلمان ہوگیا ۔ اس طرح انہوں نے معنی بدل دیا اور بعض علماء کرام نے لکھ دیا کہ : وہ شیطان مؤمن ہوگیا ؛ تو انہیں نے لفظ کو بدل دیا ۔

ایسے ہی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو قتل کردیا تو آپ نے فرمایا:

﴿ ھٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ﴾ [القصص۱۵]

’’ یہ تو شیطانی کام ہے یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔‘‘

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے کہا تھا:

﴿وَ مَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ ﴾ [کہف۶۳]

’’ اور مجھے تو شیطان نے ہی بھلا دیا کہ میں اسے یاد رکھتا ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا کے قصہ میں فرمایا ہے :

﴿فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ﴾ [البقرۃ ۳۶]

’’ شیطان نے آدم و حوا دونوں کو ور غلادیا۔ اور جس حالت میں وہ تھے انہیں وہاں سے نکلوا کر ہی دم لیا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَاوٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا ﴾ [اعراف۲۰]

’’پھر شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ان سے چھپائی گئی تھی انہیں کھول دکھائے۔‘‘

پس جب شیطان کا لاحق ہونا انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت میں عیب شمار نہیں ہوتا؛تو خلفاء کرام کی خلافت میں کیسے عیب شمار ہوسکتا ہے ؟

اور اگر کوئی انسان یہ دعوی کرے کہ مذکورہ نصوص میں تأویل کی گئی ہے [یعنی وہ اپنے ظاہر پر نہیں ]؟

تو اس کے جواب میں کہا جائے گاکہ: ’’ پھر کسی دوسرے کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول میں تأویل کرنا بھی درست ہے۔ اس لیے کہ آپ کے ایمان وعلم و عمل ؛ تقوی و طہارت پر بہت سارے دلائل موجود ہیں ۔ اور جب کوئی ایسا مجمل لفظ وارد ہوجو کہ معلوم شدہ حقیقت کے خلاف ہو تو اس کی تاویل کرنا واجب ہو جاتا ہے ۔

رہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد کہ:’’ اگر میں راہ استقامت پر قائم رہوں تو میری مدد کرنا او راگر میں ٹیڑھا ہوجاؤں تو مجھے سیدھا کردینا۔‘‘ آپ کے کمال عدل و انصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے۔اورہر حاکم پر واجب ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلہ میں آپ کی اقتداء کرے۔ اوررعایاپر بھی واجب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ائمہ وحکام کے ساتھ اسی کی روشنی میں سلوک کریں ۔ یعنی اگر حاکم اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم ہو تو ان کی مدد کریں ‘اور اگر ان سے کوئی غلطی ہورہی ہو او روہ راہ ِ حق سے ڈگمگارہے ہوں تو ان کی رہنمائی و اصلاح کا کام کریں ۔ اگر وہ ظلم کا ارادہ کرے تو جہاں تک ہوسکے تو اسے روکیں ۔ اگر حاکم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسا حق کا پیروکار ہوگا تو عوام پر ترک ِنصیحت کے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔ اور اگر ظلم کو روکنا کسی بڑے فساد کے بغیر ممکن نہ ہو تو پھر اس صورت میں چھوٹی برائی کو ختم کرنے کے لیے بڑی برائی کو اختیار نہ کیا جائے۔ پس چھوٹے اور کم شر کو بڑے شر سے ختم نہ کیا جائے۔

[اشکال]:رہا شیعہ کا یہ قول کہ ’’ امام کا کام رعیت کو کمال تک پہنچانا ہے۔تو پھر امام رعایا سے طلب کمال کیسے کرسکتا ہے؟‘‘ 

[جواب ]:اس کے متعدد جواب ہیں :

پہلا جواب:....ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ امام کا کام رعایا کی تکمیل کرنا ہے ‘ اور رعایا اس کی تکمیل نہیں کرسکتی۔ یہ درست نہیں اس لیے کہ امام و رعیت دونوں باہم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے اور برّ و تقویٰ میں ایک دوسرے کے معاون ہوا کرتے ہیں ۔اور گناہ اورنافرمانی کے کام میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؛ جیسے لشکر کا سالار؛ قافلہ کا امیر ؛ نماز کاامام ؛ حج کا امیر ۔دین کی معرفت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی گئی ہے ۔ لہٰذا امام کا کوئی الگ دین نہیں ہوتا جو اس کے لیے خاص ہو ۔ البتہ جزئیات میں اجتہاد کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ لیکن جب حق بالکل واضح ہو ‘ تو پھر اسی کے مطابق کا حکم بھی کرے ۔اوراگر یہ حکم صرف امام کے لیے واضح ہو تو اسے چاہیے کہ لوگوں کے سامنے بھی اسے واضح او ربیان کرے۔اورلوگوں پر واجب ہوتاہے کہ وہ اس کی اطاعت بھی کریں ۔ اور اگر حکم مشتبہ ہو تو ان پر واجب ہوتا ہے کہ آپس میں مشاورت کریں یہاں تک کہ حق ان کے سامنے واضح ہو جائے۔اور اگر اجتہادی فیصلہ رعایا میں سے کسی ایک کا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ امام و حاکم کو بتادے ۔اور اگر سب کا اجتہاد مختلف ہو تو اس صورت میں امام کے اجتہاد کی اتباع کی جائے گی۔ کیونکہ امام کی رائے کو ترجیح دینا ضروری ہے ‘ اور اس کے برعکس کرنا ممتنع ہے ۔

یہ اسی طرح ہے جیسے روافض میں سے امامیہ کا قول امام معصوم کے نائبین کے بارے میں ہے کہ انہیں کلیات معلوم ہو چکے ہیں تو ان پر ضروری ہوتاہے کہ وہ اجتہاد کے ذریعہ جزئیات معلوم کریں ۔اور اسی طرح ہر امام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوتا ہے جس کی عصمت و پاکدامنی پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ۔کسی اور کے نائب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اتباع کے زیادہ حق دار ہیں ۔ او رآپ کے نائب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھائیں جو ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبھائی تھی؛ یہاں پر خلیفہ بننا مراد نہیں ۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر والی پر واجب ہوتی ہے۔ خواہ اس کو والی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہو یا کسی اور نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی آپ کی اطاعت اسی طرح واجب ہے جیسے آپ کی زندگی میں واجب تھی۔ پس جس کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا دیگر کسی نے والی بنایا ہو تو اس پر وہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو دیگر حکام وامراء پر واجب ہوتی ہے۔

دوسرا جواب:....مخلوق کا ہر فرد اپنی تکمیل کے لیے دوسرے کا محتاج ہوتا ہے ۔ جیسے علمی بحث و مباحثہ کرنے والے ؛ باہم مشورہ کرنے والے ؛ اور دینی یا دنیاوی مصلحتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مشورہ کرنے والے [ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں ]۔لیکن خالق سبحانہ وتعالیٰ کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے۔ اس لیے کہ ہر ممکن چیز اپنے وجود کے لیے کسی ایسے موجد کی محتاج ہوتی ہے جو اپنی ذات میں بے نیاز ہواو راسے کسی دوسرے کی کوئی ضرورت نہ ہو ۔ تاکہ اس سے دور اور تسلسل لازم نہ آئے۔ جب کہ مخلوق کے ہر دو افراد میں ہر ایک فرد اپنی قوت و طاقت اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے ؛ نہ ہی وہ اپنی ذات سے قوت حاصل کرتا ہے اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی دوسرے سے؛پس اس میں کوئی دور و تسلسل والی بات نہیں ۔

تیسرا جواب:....یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ ہمیشہ سے شاگرد بعض باتوں میں اساتذہ کو آگاہ کرتے ہیں ۔ اور اساتذہ ان کی معلومات سے استفادہ کرتے ہیں ۔حالانکہ شاگرد جن اصولوں کے ذریعہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے ؛ وہ اس نے اساتذہ سے ہی حاصل کیے تھے۔ یہی حال صنعت کاروں اور دوسرے لوگوں کا بھی ہے۔

چوتھا جواب:....حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے افضل ہونے کے باوجود ان سے تین مسائل کا علم حاصل کیا۔ ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿ اَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ﴾ [نمل۲۲]

’’ میں ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں جس کا علم آپ کو نہیں ہے ۔‘‘

اب کہاں [اللہ کے نبی ] حضرت سلیمان علیہ السلام اور کہاں میاں ہدہد [ایک پرندہ ]۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ اور بعض اوقات ان کی رائے کے مطابق رجوع کیا کرتے اور عمل بھی کیا کرتے تھے۔ جیساکہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس جگہ پڑاؤڈالنے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ تو پھر ہم یہاں سے تجاوز نہیں کرسکتے ؛ یا پھر یہاں پر پڑاؤ ڈالنا محض جنگی تدبیر اور ایک چال ہے ؟

توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ محض رائے؛ جنگی تدبیر اور ایک چال ہے ۔‘‘ اس پر حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : تو پھر یہ جگہ جنگی پڑاؤ کے قابل نہیں ہے ۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کے مطابق رجوع کیا ۔

اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر آپ کی رائے یہ تھی کہ قبیلہ غطفان سے مدینہ کی آدھی کھجوروں کے بدلہ میں صلح کرلیں ؛ اورلڑائی سے پیچھے ہٹ جائیں ۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے تو ہم نے سن لیا [اور مان لیا] ہم اطاعت کے لیے حاضر ہیں ۔اور اگر آپ نے فقط ہماری مصلحت کی خاطر ایسا کیا ہے تو پھر وہ لوگ جاہلیت میں بھی ایک کھجور بھی خریدے یا اجرت پر لیے بغیر نہیں لے سکتے تھے ؛ اور جس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام سے عزت بخشی تو پھر کیا ہم انہیں اپنی کھجوریں دیں گے ؟ اللہ کی قسم ہم انہیں اپنی تلواروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیں گے ۔‘‘ اور اس طرح کی دیگر باتیں بھی ہوئیں ؛ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلیا ۔‘‘

غزوہ تبوک کے موقع پر [راستہ میں ] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کے اونٹ ذبح کرنے کو کہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیاکہ اس کے بجائے ایسا کیا جائے کہ : سب لوگوں کا توشہ جمع کیا جائے ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں برکت کے لیے دعا کر دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشورہ قبول فرما لیا ۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی جوتی دیکر بھیجا کہ جو بھی اس دیوار کے پیچھے ملے اور وہ لا إلہ إلا اللّٰہ کی گواہی بھی دیتا ہو‘ تو اسے جنت کی خوشخبری سنادو ۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ پھر لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے[اور عمل نہیں کریں گے] توآپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ انہیں منع کریں کہ ایسا اعلان نہ کیا جائے ‘ تو آپ نے یہ مشورہ بھی قبول فرما لیا ۔ 

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہر اس معاملہ میں ان کے رائے قبول نہیں کیا کرتے تھے جس میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی منصوص حکم نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ جب ان پر حکم واضح ہوجاتا تھاتو پھر مخالفت کرنے والے کی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے۔

کیاآپ دیکھتے نہیں کہ جب آپ نے مرتدین سے قتال کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچنے کے خوف و اندیشہ سے ایسا کرنے سے منع کیا؛ اور ان لوگوں سے قتال کرنے سے بھی منع کیا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد زکواۃ کی ادائیگی روک لی تھی۔اور ایسے ہی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو روانہ کرنے سے بھی منع کیا تھا؛ مگر آپ نے کوئی بات نہیں مانی؛ اور دلائل سے اپنے فعل کو درست ثابت کیا۔

جزئی امور میں جن کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس سے محض علت یا مصلحت مراد ہوتی ہے ؛ تو ان میں وہ بہر حال انبیاء کرام علیہم السلام کے درجہ سے بلند نہیں ہوسکتے۔

پانچویں بات: ....حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس کلام نے امت کی نظروں میں آپ کی عزت اور مقام و مرتبہ کو بڑھایا ہے اور امت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی تعظیم کسی کی بھی نہیں کی ۔ اور نہ ہی کسی کی اس طرح اطاعت کی جس طرح آپ کی اطاعت کی۔ اس میں انہیں نہ ہی کسی چیز میں کوئی رغبت تھی اورنہ ہی کسی بات کا کوئی خوف تھا۔ بلکہ جن لوگوں نے بیعت رضوان کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ؛ انہوں نے خوشی خوشی بیعت کی تھی۔ وہ آپ کی فضیلت اوراستحقاق کا اقرار کرتے تھے۔پھر یہ کہ ہمیں کسی ایک بھی ایسے مسئلہ کا علم نہیں ہوسکا کہ آپ کے عہد میں لوگوں کے مابین اس مسئلہ میں اختلاف ہوا ہو اور آپ کی وضاحت اور بیان سے ؛ آپ کی طرف رجوع کرنے سے وہ مسئلہ حل نہ ہوا ہو۔ اس معاملہ میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں ہے؛ البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس میں آپ کے قریب تر تھے ؛ اور ان کے بعدحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نمبر آتا ہے۔

جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی ؛ نہ تو رعایا نے ان کو تقویت پہنچائی اور نہ ہی آپ رعایا کی اصلاح کرسکے۔ [اب انصاف کے ساتھ فیصلہ کیجیے کہ ] ان دونوں میں سے کس حاکم کے ذریعہ مقصود امامت و حاکمیت حاصل ہوا؟ اور دونوں میں سے کس نے دین کو زیادہ قائم کیا؛مرتدوں کی راہ میں بندباندھا؛کفار سے قتال کیا ؛ اورتمام اہل ایمان لوگ بھی آپ کے عہد مسعود میں متفق اور یکجا ہی رہے ۔اب ان دونوں انسانوں کو برابر وہی کہہ سکتا ہے جو انتہائی درجہ کا احق اور جاہل [ومتعصب ]اور بد دین ہو۔[چہ جائے کہ مفضول کو افضل سمجھے ]۔

[جہاں تک کامل بنانے کا تعلق ہے تو وہ اللہ غنی کا کام ہے، جو کسی کا دست نگر نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ سے مشورہ کرتے اور ان کی رائے پر عمل کیا کرتے تھے۔]