سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیتوں کی روشنی میں اللہ تعالیٰ، قائدین اور لشکر کے حقوق
علی محمد الصلابیاللہ تعالیٰ کے حقوق:
قائدین اور لشکر کو دی گئی تعلیمات میں خلیفہ نے اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بیان کیا ہے۔ جیسے دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ جانا، قتال میں اخلاص، امانت کی ادائیگی، اللہ کے دین کی نصرت میں ٹال مٹول اور کوتاہی نہ کرنا۔
دشمن سے مقابلہ میں ڈٹ جانا:جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کو عمان کی طرف روانہ کیا، ان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ سے تقویٰ لازم پکڑو اور جب دشمن سے آمنا سامنا ہو تو ڈٹ کر مقابلہ کرو۔
(عیون الاخیار: جلد 1 صفحہ 188)
اسی طرح جب لشکر شام کی مدد کے لیے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کو روانہ کیا تو ان سے فرمایا: جب تم دشمن سے ملو تو ڈٹ کر مقابلہ کرو اور یاد رکھو جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے اور جو خرچ بھی تم کرو گے اور جو بھوک و پیاس تمہیں اللہ کے راستہ میں حاصل ہو گی، اللہ تعالیٰ اس کے عوض تمہارے نامہ اعمال میں عمل صالح لکھے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکو کار لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا۔
(فتوح الشام للازدی: صفحہ 34)