Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تعزیہ بنانا اور اس میں شرکت کرنا ماتم کرنا اور اس میں سامان مہیا کرنا


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ داری کرنا بچوں کو طوق بیڑی، پہنانا اور ماتم کرنا، بھوسا اڑانا وغیرہ، اور ذکر سوانح و وقائع شہادت میں سامان کرنا اور اس پر رونا اور رُلانا اور اس کے واسطے انعقاد مجلس تعزیت کرنا مؤجب ثواب ہے یا باعثِ عقاب؟ اور نوحہ و مرثیہ خوانی کرنا کیسا ہے؟

جواب: تعزیہ داری علمداری ماتم کرنا، بچوں کو طوق بیڑیاں پہنانا، فقیر بنانا وغیرہ، قرونِ ثلاثہ(مشھود لھا بالخیر) سے ثابت نہیں، نہ کسی اصل شرعی کے تحت میں مندرج ہے نہ سلف و خلف صالحین کا اس پر عمل، محض بدعت و ضلالت ہے۔ احداث فی الدین ٹھہرا، جس کے عدم قبول اور رَد ہونے پر حضور اکرمﷺ کا یہ قول منقول ہے من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردهو المصوب: 

واقعی رسمِ تعزیہ داری بدعت ہے، نہ حضور اکرمﷺ کے زمانہ میں پایا گیا نہ خلفاءؓ کے زمانہ میں بلکہ اس کا وجود قرونِ ثلاثہ میں کہ مشهود لها بالخیر ہیں منقول نہیں ہوا اور نہ کسی اصل شرعی کے تحت میں مندرج ہے۔ پس یہ بدعت ضلالہ ٹھہرا، اور بدعت ضلالہ کو اختیار کرنا لعنتِ خدا تعالیٰ و ملائکہ کا مؤجب اور رسول مقبولﷺ کی رنجیدگی کا باعث ہے۔

حضور اکرمﷺ نے فرمایا جو کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سارے جہاں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ اس کی نفل عبادت قبول کرے گا نہ فرض، اور فرمایا جو کوئی ہمارے دین میں ایسا کام کرے جو اس کا حصہ نہیں تو وہ کام مردود ہے اور فرمایا بدترین کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ 

اور سینہ کوبی کرنا کپڑے پھاڑنا اور نوحہ کرنا خاک اڑانا بال نوچنا یہ سب افعال منہیات و ممنوعات سے ہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جو سر کے بال نوچے سینا کوبی کرے اور کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور فرمایا جو رخسار پیٹے گریبان پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور فرمایا خدا تعالیٰ نوحہ کرنے والے پر لعنت کرے۔ 

جامع الرموز: میں ہے کہ اگر سیدنا حسینؓ کا واقعہ بیان کرنا چاہے تو پہلے تمام صحابہؓ کی شہادت کا تذکرہ کرے تاکہ شیعہ کے ساتھ مشابہت نہ ہو تعزیہ بنانا اس میں شریک ہونا اس پر چڑھاوا چڑھانا یا منت ماننا ان ایامِ عشرۂ محرم میں ذکرِ شہادت سیدنا حسینؓ کرنا اور رونا پیٹنا چلانا نوحہ کرنا، کپڑے پھاڑنا، یہ سب نا درست اور بدعتِ سئیہ ہے۔ 

تعزیہ داری کرنا وغیرہ امورِ مذکورہ فی السوال نا جائز و بدعت ہیں۔

(فتاویٰ نذیریہ: جلد، 1 صفحہ، 224)